پنجاب: ایک ماہ میں غیرقانونی اسلحہ جمع کروانے کا الٹی میٹم جاری، سزا میں اضافے کی بھی منظوری
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
فائل فوٹو
محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے ایک ماہ میں غیرقانونی اسلحہ جمع کروانے کا الٹی میٹم جاری کردیا گیا۔
اس حوالے سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق ایک ماہ کے اندر شہری اپنے قانونی اسلحے کو خدمت مرکز سے رجسٹر کرائیں گے، جبکہ اسلحہ فروشوں اور تمام ڈیلرز کے اسٹاک کا معائنہ کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔
پنجاب میں نئے اسلحہ لائسنس جاری کرنے پر مکمل پابندی کا حکم دے دیا گیا ہے جبکہ پنجاب حکومت نے وفاقی حکومت سے اسلحہ فیکٹریز اور مینوفیکچررز کو ریگولرائز کرنے کی سفارش کی ہے۔
اعلامیے کے مطابق پنجاب حکومت نے غیر قانونی اسلحہ رکھنے کی سزا میں اضافے کی منظوری دے دی ہے جس کے مطابق غیر قانونی اسلحہ رکھنے کی سزا 14 سال قید اور 20 لاکھ تک جرمانہ ہوگا۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پنجاب میں غیر قانونی اسلحہ رکھنا ناقابلِ ضمانت جرم ہوگا۔
.ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ گلبرگ ٹاؤن میں نمائشی کارروائیاں غیرقانونی تعمیرات بھی جاری
ڈائریکٹر جعفر امام صدیقی کی نگرانی میں بلڈنگ قوانین کی خلاف ورزیاں ، مکین تنگ
عزیز آباد نمبر 2 کے پلاٹ 1142 پر منہدم شدہ کمرشل یونٹس کی ازسرنو تعمیرشروع
ضلع وسطی گلبرگ ٹاؤن کے علاقے عزیز آباد بلاک 2 میں واقع پلاٹ نمبر 1142 پر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی کارروائی کے محض چند ماہ بعد ہی غیرقانونی تعمیرات کا سلسلہ دن کے اجالے میں جاری ہے ۔مقامی ذرائع کے مطابق،ڈائریکٹر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی جعفر امام صدیقی کی سربراہی میں منہدم کی جانے والی عمارتوں، کمرشل پورشن یونٹ اور دکانوں کی ازسرنو تعمیر کا آغاز ہو چکا ہے ۔ یہ عمل اتھارٹی کے انہدامی اقدامات کی اثر پذیری پر سوالات کھڑے کر رہا ہے ۔جرأت سروے ٹیم سے بات کرتے ہوئے مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ غیرقانونی تعمیرات کی دوبارہ تعمیر سے نہ صرف بلڈنگ قوانین کی پامالی ہو رہی ہے بلکہ شہری تحفظ کے مسائل بھی پیدا ہو رہے ہیں۔سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ترجمان نے اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’غیرقانونی تعمیرات کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے اور منہدم کی گئی عمارتوں کی ازسرنو تعمیر کی صورت میں مزید سخت اقدامات اٹھائے جائیں گے ‘‘۔مگر زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں ،شہری حلقوں کا وزیر بلدیات سے مطالبہ ہے کہ عزیز آباد میں غیرقانونی تعمیرات کے خلاف نہ صرف فوری کارروائی کی جائے بلکہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر نگرانی کا نظام بھی قائم کیا جائے ۔