پنجاب: ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کے لیے ڈرون سے بھٹوں کی نگرانی کا نیا نظام نافذ
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
حکومت پنجاب نے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی ہدایت پر پہلی بار ڈرون سرویلنس کے ذریعے بھٹوں کی نگرانی کا نیا نظام متعارف کرایا ہے۔
مزید پڑھیں: پنجاب: اینٹی اسموگ آپریشن جاری، 30 سے زائد بھٹے اور صنعتی یونٹس مسمار
موٹروے کے اطراف 112 بھٹوں کی جانچ کی گئی، جن میں سے 77 بھٹے سفید دھواں خارج کر رہے تھے، 34 نان فنکشنل پائے گئے جبکہ صرف ایک بھٹے سے کالا دھواں نکلا۔
ای پی اے فورس 24 گھنٹے بھٹوں کی چمنیوں کی نگرانی کر رہی ہے۔ زیرو پولیوشن پالیسی پر عملدرآمد بلا امتیاز جاری ہے۔ موٹروے پر سفر کے دوران اگر کسی بھٹے سے کالا دھواں نظر آئے تو 1373 پر اطلاع دیں، ای پی اے فورس فوری کارروائی کرے گی۔
مزید پڑھیں: جنگلات کے تحفظ اور شجرکاری کے لیے جدید اقدامات، پنجاب کو سرسبز بنانے کا عزم
سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے بھٹہ مالکان اور ای پی اے فورس کو شاباش دیتے ہوئے کہا کہ یہی جذبہ ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے میں مدد دے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھٹوں کی نگرانی پنجاب ڈرون ماحولیاتی آلودگی وزیراعلیٰ مریم نواز شریف.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھٹوں کی نگرانی ماحولیاتی آلودگی وزیراعلی مریم نواز شریف کی نگرانی بھٹوں کی
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔