زہری آپریشن: دہشتگردی کے حامیوں کی مکاریاں بے نقاب ریاست کا پُرعزم اور عوامی مطالبے پر مبنی ردِعمل
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
حالیہ دنوں زہری میں جاری سیکیورٹی کارروائی کے بارے میں گردش کرتی خبروں اور الزامات نے ایک بار پھر مخصوص عناصر کو موقع فراہم کیا ہے کہ وہ جذبات کو بھڑکا کر بدامنی کے بیج بوئیں۔
یہ وہی عناصر ہیں جو بلوچستان میں امن و ترقی کے بجائے انتشار، دہشت گردی اور نفرت کے ایجنڈے کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں۔
چند حلقوں کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات اپنی جگہ، مگر فکری دیانت کا تقاضا یہ ہے کہ کسی بھی الزام سے پہلے حقائق کو جانچا جائے نہ کہ دہشت گرد گروہوں کے پروپیگنڈا کو تقویت دی جائے۔
ریاست کا اولین فریضہ: شہریوں کا تحفظ
ریاستِ پاکستان کا بنیادی فریضہ اپنے شہریوں کی جان و مال کی حفاظت ہے۔ جب کسی علاقے میں مسلح گروہ یا دہشت گرد عوامی زندگی کے لیے خطرہ بن جائیں تو قانون نافذ کرنے والے اداروں کا بروقت اور مؤثر اقدام نہایت ضروری ہے۔
ان کارروائیوں کا ہدف انتہا پسندی کو ختم کرنا اور عوامی امن و استحکام بحال کرنا ہوتا ہے، وہ بھی قانون، احتیاط اور شفافیت کے اصولوں کے تحت۔
عوامی مطالبہ آپریشن کی ایک کلیدی وجہ
زہری آپریشن اس لئے بھی لازم ہوا کیونکہ مقامی عوام نے خود سیکیورٹی فورسز سے اپیل کی اور ان کے ساتھ کھڑے ہو کر تعاون کیا۔
عوامی شکایات:
فتنہ الخوارج کے مسلح عناصر کی جانب سے لوٹ مار، بینک ڈکیتی، بازاروں اور عوامی مقامات کی تخریب، سڑکیں بند کر کے شہر کو یرغمال بنانے کی کوششیں، ریاستی حکمرانی کو چیلنج کرنا، اور معصوم شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں پر جان لیوا حملے۔
مقامی باشندوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ اپنے شہر میں قانون و امن چاہتے ہیں، اور انہی مطالبات نے سیکیورٹی آپریشن کو جواز اور سماجی حمایت فراہم کی
یہ آپریشن عوامی مفاد اور سلامتی کے تقاضوں پر مبنی تھا، نہ کہ کسی سیاسی انتقام یا غیر ضروری جارحیت پر۔
افواہیں نہیں، شواہد کی بنیاد پر جواب
سوشل میڈیا پر پھیلائے گئے غیر مصدقہ ویڈیوز اور بیانات کی بنیاد پر ریاستی کارروائیوں پر فوری فیصلے کرنا نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ ایسے بیانیے دہشت گرد نیٹ ورکس کے مفادات میں کام کرتے ہیں۔
اگر کسی کے پاس آپریشن کے دوران کسی زیادتی یا غفلت کے ٹھوس شواہد ہوں تو انہیں متعلقہ اداروں کے سامنے پیش کریں۔ ریاستی ادارے شفاف تحقیقات کے پابند ہیں، مگر بے بنیاد الزام تراشی صرف نفرت، اشتعال اور عدم اعتماد کو بڑھاتی ہے۔
ریاستی اقدامات میں انسانی پہلو کو ترجیح
سیکیورٹی آپریشنز کے دوران عام شہریوں کی حفاظت ہمیشہ اولین ترجیح ہوتی ہے۔ جہاں ضرورت ہو، وہاں فوری طبی امداد، خوراک، اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جاتی ہے۔
متاثرین کے لیے فوری ریلیف، بحالی کے پروگرام اور روزمرہ زندگی کی بحالی ریاستی نقطۂِ نظر کا حصہ ہیں۔ اگر کہیں کمی محسوس ہو تو اس کا حل عدالتی، انتظامی اور سیاسی مکالمے کے ذریعے نکالا جانا چاہیے، نہ کہ پروپیگنڈا کے ذریعے۔
دہشتگردی کے حامی بیانیے کا انجام
جو گروہ یا افراد دہشتگردی کی حمایت کرتے ہیں یا ان کے سہولت کار ہیں، وہ نہ صرف قانون کے خلاف ہیں بلکہ بلوچستان کی ترقی اور امن کے حقیقی مخالف بھی ہیں۔
ایسے عناصر کا مقصد صرف انتشار پھیلانا، نوجوانوں کو گمراہ کرنا اور عوامی اعتماد کو توڑنا ہے۔ ریاست کا پیغام واضح ہے: دہشت گردی کے نیٹ ورکس کو قانون اور عوامی اتحاد کے ذریعے جڑ سے ختم کیا جائے گا۔
جامع اور دیرپا حکمتِ عملی
دہشتگردی کے خاتمے کے لیے صرف عسکری آپریشن کافی نہیں۔ اس کے لیے ایک ہمہ جہت حکمتِ عملی درکار ہے جس میں عسکری کارروائی کے ساتھ متاثرہ علاقوں کی فوری بحالی، طبی اور معاشی امداد، روزگار کے مواقع، تعلیم اور مقامی مکالمے پر مبنی اصلاحات شامل ہوں۔ یہی پائیدار امن اور استحکام کا راستہ ہے۔
بی این ایم جیسے گروہوں کی جانب سے پاکستان کے خلاف یکطرفہ الزامات اور بیرونی عناصر کے بیانیوں کو دہرانا اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ وہ حقیقت کے سامنے غیر سنجیدہ ہیں۔
سوال یہ ہے کہ جب افغانستان سے آنے والے دہشت گرد حملوں نے معصوم بچوں، بازاروں اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا تو ڈاکٹر نسیم بلوچ اور ان کے حمایتی کیوں خاموش رہتے ہیں؟
زہری آپریشن کا مقصد عوامی امن و تحفظ کو برقرار رکھنا اور مجرمانہ گروہوں کے خلاف قانون کا نفاذ تھا، اور مقامی لوگوں کی واضح حمایت نے اس اقدام کو اخلاقی اور سماجی جواز بھی فراہم کیا۔
ریاستِ پاکستان اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے کاربند ہے اور دہشت گردی، انتہا پسندی اور بیرونی مداخلت کے خلاف اپنے عزم سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اور عوامی کے خلاف کے لیے
پڑھیں:
حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی
اسلام آباد (ویب ڈیسک) حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی وجہ سامنے آگئی۔
پارلیمانی ذرائع کے مطابق حکومت بجٹ اجلاس سے قبل اہم قانون سازی کرنا چاہ رہی ہے، قانون سازی کے آئندہ وفاقی بجٹ سے متعلق اہم اثرات ہوں گے تاہم پیپلز پارٹی قانون سازی کے حق میں نہیں ہے۔
پارلیمانی ذرائع کا بتانا ہے کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے شگر ویلی میں اپنے خطاب میں واضح پیغام دیا ہے، پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالفت کر رہی ہے، بجٹ اجلاس سے قبل ترامیم نہ ہو سکیں تو آئندہ مالی سال میں تبدیلیاں نہیں آسکیں گی۔
حملے کے بعد منسوخ وائٹ ہاؤس پریس ڈنر دوبارہ کرنے کا اعلان
پارلیمانی ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ پیپلز پارٹی کو منانے کے لیے اہم شخصیات کو ٹاسک دے دیا گیا ہے، بلاول بھٹو زرداری فی الحال گلگت بلتستان میں الیکشن مہم میں مصروف ہیں، بلاول بھٹو زرداری کو منانے کے بعد ہی بجٹ اجلاس کی نئی تاریخ دی جا سکے گی۔
مزید :