حالیہ دنوں زہری میں جاری سیکیورٹی کارروائی کے بارے میں گردش کرتی خبروں اور الزامات نے ایک بار پھر مخصوص عناصر کو موقع فراہم کیا ہے کہ وہ جذبات کو بھڑکا کر بدامنی کے بیج بوئیں۔

یہ وہی عناصر ہیں جو بلوچستان میں امن و ترقی کے بجائے انتشار، دہشت گردی اور نفرت کے ایجنڈے کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں۔

چند  حلقوں کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات اپنی جگہ، مگر فکری دیانت کا تقاضا یہ ہے کہ کسی بھی الزام سے پہلے حقائق کو جانچا جائے  نہ کہ دہشت گرد گروہوں کے پروپیگنڈا کو تقویت دی جائے۔

ریاست کا اولین فریضہ: شہریوں کا تحفظ

ریاستِ پاکستان کا بنیادی فریضہ اپنے شہریوں کی جان و مال کی حفاظت ہے۔ جب کسی علاقے میں مسلح گروہ یا دہشت گرد عوامی زندگی کے لیے خطرہ بن جائیں تو قانون نافذ کرنے والے اداروں کا بروقت اور مؤثر اقدام نہایت ضروری ہے۔

ان کارروائیوں کا ہدف انتہا پسندی کو ختم کرنا اور عوامی امن و استحکام بحال کرنا ہوتا ہے، وہ بھی قانون، احتیاط اور شفافیت کے اصولوں کے تحت۔

عوامی مطالبہ  آپریشن کی ایک کلیدی وجہ

زہری آپریشن اس لئے بھی لازم ہوا کیونکہ مقامی عوام نے خود سیکیورٹی فورسز سے اپیل کی اور ان کے ساتھ کھڑے ہو کر تعاون کیا۔

 عوامی شکایات:

فتنہ الخوارج کے مسلح عناصر کی جانب سے لوٹ مار، بینک ڈکیتی، بازاروں اور عوامی مقامات کی تخریب، سڑکیں بند کر کے شہر کو یرغمال بنانے کی کوششیں، ریاستی حکمرانی کو چیلنج کرنا، اور معصوم شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں پر جان لیوا حملے۔

مقامی باشندوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ اپنے شہر میں قانون و امن چاہتے ہیں، اور انہی مطالبات نے سیکیورٹی آپریشن کو جواز اور سماجی حمایت فراہم کی

 یہ آپریشن عوامی مفاد اور سلامتی کے تقاضوں پر مبنی تھا، نہ کہ کسی سیاسی انتقام یا غیر ضروری جارحیت پر۔

افواہیں نہیں، شواہد کی بنیاد پر جواب

سوشل میڈیا پر پھیلائے گئے غیر مصدقہ ویڈیوز اور بیانات کی بنیاد پر ریاستی کارروائیوں پر فوری فیصلے کرنا نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ ایسے بیانیے دہشت گرد نیٹ ورکس کے مفادات میں کام کرتے ہیں۔

اگر کسی کے پاس آپریشن کے دوران کسی زیادتی یا غفلت کے ٹھوس شواہد ہوں تو انہیں متعلقہ اداروں کے سامنے پیش کریں۔ ریاستی ادارے شفاف تحقیقات کے پابند ہیں، مگر بے بنیاد الزام تراشی صرف نفرت، اشتعال اور عدم اعتماد کو بڑھاتی ہے۔

ریاستی اقدامات میں انسانی پہلو کو ترجیح

سیکیورٹی آپریشنز کے دوران عام شہریوں کی حفاظت ہمیشہ اولین ترجیح ہوتی ہے۔ جہاں ضرورت ہو، وہاں فوری طبی امداد، خوراک، اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جاتی ہے۔

متاثرین کے لیے فوری ریلیف، بحالی کے پروگرام اور روزمرہ زندگی کی بحالی ریاستی نقطۂِ نظر کا حصہ ہیں۔ اگر کہیں کمی محسوس ہو تو اس کا حل عدالتی، انتظامی اور سیاسی مکالمے کے ذریعے نکالا جانا چاہیے، نہ کہ پروپیگنڈا کے ذریعے۔

دہشتگردی کے حامی بیانیے کا انجام

جو گروہ یا افراد دہشتگردی کی حمایت کرتے ہیں یا ان کے سہولت کار ہیں، وہ نہ صرف قانون کے خلاف ہیں بلکہ بلوچستان کی ترقی اور امن کے حقیقی مخالف بھی ہیں۔

ایسے عناصر کا مقصد صرف انتشار پھیلانا، نوجوانوں کو گمراہ کرنا اور عوامی اعتماد کو توڑنا ہے۔ ریاست کا پیغام واضح ہے: دہشت گردی کے نیٹ ورکس کو قانون اور عوامی اتحاد کے ذریعے جڑ سے ختم کیا جائے گا۔

جامع اور دیرپا حکمتِ عملی

دہشتگردی کے خاتمے کے لیے صرف عسکری آپریشن کافی نہیں۔ اس کے لیے ایک ہمہ جہت حکمتِ عملی درکار ہے  جس میں عسکری کارروائی کے ساتھ متاثرہ علاقوں کی فوری بحالی، طبی اور معاشی امداد، روزگار کے مواقع، تعلیم اور مقامی مکالمے پر مبنی اصلاحات شامل ہوں۔ یہی پائیدار امن اور استحکام کا راستہ ہے۔

بی این ایم جیسے گروہوں کی جانب سے پاکستان کے خلاف یکطرفہ الزامات اور بیرونی عناصر کے بیانیوں کو دہرانا اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ وہ حقیقت کے سامنے غیر سنجیدہ ہیں۔

سوال یہ ہے کہ جب افغانستان سے آنے والے دہشت گرد حملوں نے معصوم بچوں، بازاروں اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا  تو ڈاکٹر نسیم بلوچ اور ان کے حمایتی کیوں خاموش رہتے ہیں؟

زہری آپریشن کا مقصد عوامی امن و تحفظ کو برقرار رکھنا اور مجرمانہ گروہوں کے خلاف قانون کا نفاذ تھا، اور مقامی لوگوں کی واضح حمایت نے اس اقدام کو اخلاقی اور سماجی جواز بھی فراہم کیا۔

 ریاستِ پاکستان اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے کاربند ہے اور دہشت گردی، انتہا پسندی اور بیرونی مداخلت کے خلاف اپنے عزم سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اور عوامی کے خلاف کے لیے

پڑھیں:

ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر

ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔

پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔

علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • آپریشن العزم: سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کامیاب کارروائی، 4 دہشتگرد ہلاک
  • ریاست مخالف ٹوئٹ کیس: پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید اور فلک جاوید کے جیل ٹرائل کےلیے دائر درخواست خارج
  • بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کا بڑا آپریشن، 4 دہشت گرد ہلاک، اسلحہ اور سہولت کار بھی پکڑے گئے
  • آپریشن العزم: سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کامیاب کارروائی، 4 دہشتگرد جہنم واصل
  • آپریشن سندور کی ناکامی پر بھارتی حکومت کا بیانیہ اپنے ہی شہریوں نے زمین بوس کر دیا 
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل