امریکا بھر میں ’نو کنگز‘ ریلیوں کی تیاریاں مکمل: ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف لاکھوں افراد کے سڑکوں پر نکلنے کی توقع
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
امریکا کی تمام 50 ریاستوں میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف ہفتہ کو ’نو کنگز‘ احتجاجی مظاہرے منعقد کیے جا رہے ہیں، جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی امیگریشن، تعلیم اور سیکیورٹی سے متعلق پالیسیوں کے خلاف عوامی ردعمل کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
منتظمین کا کہنا ہے کہ یہ پالیسیاں ملک کو بتدریج آمریت کی جانب دھکیل رہی ہیں، جس کے خلاف ہم نے سڑکوں پر نکلنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینیوں کے حق میں احتجاج سے خطاب کرنے پر امریکا نے کولمبیا کے صدر کا ویزا منسوخ کردیا
یہ احتجاجی ریلیاں جو بڑے شہروں، مضافاتی علاقوں اور چھوٹے قصبوں میں ہوں گی جون میں ہونے والے اسی نوعیت کے مظاہروں کا تسلسل ہیں۔ مبصرین کے مطابق ان ریلیوں سے ٹرمپ مخالف حلقوں کی بڑھتی ہوئی بے چینی اور ناراضی کی شدت کا اندازہ لگایا جا سکے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے 10 ماہ بعد ان کی انتظامیہ نے امیگریشن قوانین پر سختی بڑھائی، وفاقی محکموں کے حجم میں کمی اور ممتاز جامعات کے فنڈز میں کٹوتی جیسے اقدامات کیے۔ ان اقدامات کی وجہ فلسطین کے حق میں اسرائیل کی غزہ جنگ کے خلاف مظاہرے، کیمپس میں تنوع کے فروغ اور صنفی شناخت سے متعلق پالیسیوں کو قرار دیا جا رہا ہے۔
کئی بڑے شہروں میں صدر کی ہدایت پر نیشنل گارڈز بھیجے گئے ہیں، جنہیں ٹرمپ نے امیگریشن ایجنٹس کے تحفظ اور جرائم سے نمٹنے کے لیے ضروری قرار دیا ہے۔
تحریک کی مرکزی منتظم تنظیم ’انڈویزیبل‘ کی شریک بانی لیا گرین برگ نے کہاکہ امریکی ہونے کا سب سے بڑا ثبوت یہی ہے کہ ہم بادشاہت کو مسترد کرتے ہیں اور پُرامن احتجاج کا حق استعمال کرتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے مظاہروں پر زیادہ تبصرہ نہیں کیا، تاہم ایک انٹرویو میں کہاکہ یہ لوگ مجھے بادشاہ کہہ رہے ہیں لیکن میں بادشاہ نہیں ہوں۔
ان ریلیوں کے انتظام میں 300 سے زیادہ عوامی تنظیموں نے حصہ لیا ہے۔ امریکن سول لبرٹیز یونین کے مطابق ہزاروں افراد کو رضاکار مارشل کے طور پر تربیت دی گئی ہے تاکہ احتجاج پُرامن رہے۔ ’نو کنگز‘ مہم کے اشتہارات اور معلومات سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر پھیلائی گئی ہیں۔
ان مظاہروں کی حمایت معروف سیاسی شخصیات برنی سینڈرز، الیگزینڈریا اوکاسیو۔ کورٹیز اور سابق وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے بھی کی ہے، جب کہ متعدد مشہور فنکار بھی اس تحریک کے حامی ہیں۔
یاد رہے کہ جون میں بھی 2 ہزار سے زیادہ ’نو کنگز‘ مظاہرے منعقد ہوئے تھے، جو زیادہ تر پُرامن رہے۔ ان کا انعقاد ٹرمپ کی 79ویں سالگرہ اور واشنگٹن میں ان کی فوجی پریڈ کے دن ہوا تھا۔
ری پبلکنز کی تنقیددوسری جانب ری پبلکن پارٹی کے رہنماؤں نے ان مظاہروں کو ’امریکہ مخالف‘ قرار دیا ہے۔
امریکی ایوانِ نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن نے کہاکہ ڈیموکریٹس نیشنل مال پر اپنی نام نہاد ’نو کنگز‘ ریلی کے نام پر بڑا جشن منانے والے ہیں۔ ہم اسے اس کے اصل نام سے پکارتے ہیں، ’امریکا سے نفرت کی ریلی‘۔
دیگر ری پبلکن رہنماؤں نے بھی ڈیموکریٹس پر الزام لگایا ہے کہ وہ ایسے مظاہروں کے ذریعے سیاسی تشدد کو ہوا دے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا میں احتجاج کا دائرہ بڑھ گیا، مظاہروں کو سختی سے کچلا جائیگا، صدر ٹرمپ
امریکن یونیورسٹی واشنگٹن ڈی سی کی پروفیسر ڈانا فشر جو امریکی سیاسی تحریکوں پر کئی کتابوں کی مصنفہ ہیں، کا کہنا ہے کہ ہفتے کا دن جدید امریکی تاریخ کا سب سے بڑا احتجاجی مظاہرہ ثابت ہو سکتا ہے، جس میں 3 ملین سے زیادہ افراد کی شرکت متوقع ہے۔
انہوں نے کہاکہ اس دن کا بنیادی مقصد ان تمام لوگوں کے درمیان ایک مشترکہ شناخت پیدا کرنا ہے جو ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں سے خود کو مظلوم یا غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔ یہ احتجاج براہ راست پالیسیوں کو تبدیل نہیں کرے گا، مگر ٹرمپ مخالف منتخب نمائندوں کے حوصلے ضرور بلند کرے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews امریکا سیکیورٹی سیکیورٹی پالیسیاں صدر ٹرمپ نوکنگز ریلیاں وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا سیکیورٹی وی نیوز ٹرمپ کی کے خلاف رہے ہیں
پڑھیں:
ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یورپی یونین جیسے گروپوں اور ممالک سمیت 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے ٹیرف نافذ کر دیئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے بیان میں کہا ہےکہ نئی ڈیوٹیز امریکی تجارتی قانون 1974 کے سیکشن 301 کے تحت نافذ کی گئی ہیں اور ان کا اطلاق امریکی درآمدات کے تقریباً 99.4 فیصد حصے پر ہوگا، تاہم تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیاء سمیت متعدد مصنوعات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ان ممالک میں یورپی یونین،جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، بھارت ، برطانیہ، میکسیکو اور دیگر شامل ہیں۔(جاری ہے)
جیمی سن گریئر نے کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی ایسے ہی موثر اقدامات کریں۔
امریکا نے ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو ،سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ پر پہلے سے موجود درآمدی محصولات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی ٹیرف 10 یا 12.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ باقی 38 ممالک پر 12.5 فیصد شرح نافذ کی گئی ہے جن میں چین اور ویتنام بھی شامل ہیں۔ امریکا کے اس اقدام پر متعدد ممالک نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے احتجاج کیا۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کیلس نے کہا کہ یورپی بلاک اس اقدام کو ایک غیر متوقع دھچکا سمجھتا ہے اور امریکا کی جانب سے پیش کی گئی اس کی توجیہ ناقابلِ فہم ہے۔