WE News:
2026-07-24@04:46:09 GMT

تحریک لبیک کے احتجاج سے لاہور میں سموگ کنٹرول اقدامات متاثر

اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT

تحریک لبیک کے احتجاج سے لاہور میں سموگ کنٹرول اقدامات متاثر

لاہور میں بڑھتی ہوئی سموگ پر قابو پانے کے لیے استعمال ہونے والی 15 فوگ کینن مشینوں کا آپریشن تحریک لبیک کے جاری احتجاج کی وجہ سے گزشتہ ایک ہفتے سے معطل ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پنجاب: اسموگ کے خاتمے کے لیے سول ڈیفنس رضاکاروں کی بڑی تعداد میں رجسٹریشن

یہ فوگ کینن ٹرک، جو روزانہ شہر کے مختلف علاقوں میں پانی کا چھڑکاؤ کرتے ہیں، سڑکوں کی بندش اور دفعہ 144 کے نفاذ کی وجہ سے سڑکوں پر نہیں نکل سکے۔

روزانہ ایئر کوالٹی انڈیکس پر مبنی آپریشن

ٹیکنیکل کمیٹی کی جانب سے روزانہ ایئر کوالٹی انڈیکس کے ڈیٹا کی بنیاد پر فیصلہ کیا جاتا ہے کہ سموگ گنز کو صبح کن علاقوں میں بھیجنا ہے۔

ہر ٹرک 12 ہزار لیٹر پانی لے جا سکتا ہے اور 10 سے 15 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے پر ایک چکر ایک گھنٹے میں مکمل ہوتا ہے۔ یہ منصوبہ ایشیا میں اپنی نوعیت کا پہلا اقدام ہے، جس کا مقصد زیادہ سے زیادہ علاقوں میں سموگ پر قابو پانا ہے۔

احتجاج سے آپریشن متاثر، انچارج ساجد بشیر کا موقف

سموگ گنز پراجیکٹ کے آپریشن انچارج ساجد بشیر نے وی نیوز کو بتایا کہ تحریک لبیک کے احتجاج کی وجہ سے لاہور کی سڑکیں بلاک ہیں، اور دفعہ 144 کے نفاذ نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کردیا ہے۔ اگر ہم فوگ کینن ٹرک باہر نکالتے ہیں تو نقصان کا خطرہ ہے۔

ان کے مطابق احتجاج سے قبل یہ گنز شہر کی مختلف شاہراہوں پر باقاعدگی سے کام کر رہی تھیں، لیکن اب سڑکوں کی بندش نے یہ عمل ناممکن بنا دیا ہے۔

ماہرین کی تشویش: شہریوں کی صحت کو خطرات

ماہرین کا کہنا ہے کہ سموگ گنز کی معطلی سے لاہور میں ہوا کے معیار پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں، اور شہریوں کو سانس کی بیماریوں سمیت دیگر مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

حکام سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ صورتحال کو جلد از جلد حل کیا جائے تاکہ سموگ کنٹرول کے اقدامات دوبارہ شروع ہو سکیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

تحریک لبیک ٹی ایل پی سموگ سموگ آپریشن.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: تحریک لبیک ٹی ایل پی سموگ سموگ ا پریشن تحریک لبیک

پڑھیں:

مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ

ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔

یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔

تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔

اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔

محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔

تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔

تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔

تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔


 

متعلقہ مضامین

  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ