Islam Times:
2026-06-03@04:03:11 GMT

زبوں حال معیشت، لاکھوں امریکیوں کا ٹرمپ کے خلاف احتجاج

اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT

زبوں حال معیشت، لاکھوں امریکیوں کا ٹرمپ کے خلاف احتجاج

ریپبلکنز اور وائٹ ہاؤس نے احتجاج کو انتہا پسندوں کا اجتماع قرار دیا ہے، لیکن مظاہرین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، 2600 سے زیادہ ریلیوں کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی معیشت، امیگریشن اور صحت کی دیکھ بھال سمیت نئی اور ناکام پالیسیوں کے خلاف احتجاج کے لیے ملک بھر میں سڑکوں احتجاج جاری ہے۔  ’نو کنگ‘ احتجاجی تحریک کے منتظمین کو توقع ہے کہ لاکھوں امریکی شہر کی سڑکوں پر نکل کر ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف مزید مظاہرے کریں گے۔ 50 ریاستوں میں 2500 سے زیادہ احتجاجی تقریبات کی منصوبہ بندی کی گئی ہے، جن کا اہتمام 200 سے زیادہ ترقی پسند گروپوں کے اتحاد نے کیا ہے، جس کی قیادت "ناقابل تقسیم" نامی تنظیم کرتی ہے۔ ذرائع کے مطابق واشنگٹن، ڈی سی، نیویارک، فلاڈیلفیا، شکاگو اور لاس اینجلس میں بڑے مظاہرے ہو رہے ہیں۔

ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس میں دوبارہ واپس آنے کے بعد یہ تیسری عوامی تحریک ہے اور توقع ہے کہ یہ سب سے بڑی ہوگی۔ ایسے وقت میں کہ جب حکومتی شٹ ڈاؤن کیوجہ سے وفاقی پروگرامزاور خدمات بند ہیں۔ کانگریس اور عدالتوں کے ساتھ ٹرمپ انتظامیہ کی بات چیت کے بارے میں مظاہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایک ایسا طریقہ ہے جس سے امریکہ آمریت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ جیسا کہ MAGA موومنٹ کے لیے 1 ملین ڈالر کے فنڈ ریزر کے لیے روانہ ہونے سے پہلے جمعہ کو نشر ہونے والے فاکس نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں بادشاہ نہیں ہوں، لیکن "وہ مجھے بادشاہ کہتے ہیں"۔

موسم بہار میں ایلون مسک کے بجٹ میں کٹوتیوں، ٹرمپ کی فوجی پریڈ کیخلاف ہونیوالے مظاہروں کے منتظمین کا کہنا ہے کہ یہ مظاہرے مزید متحد تحریک ایجاد کر رہے ہیں۔ سینیٹ کے اقلیتی رہنما چک شومر اور آزاد سینیٹر برنی سینڈرز جیسے سینیئر ڈیموکریٹس اس تحریک میں شامل ہو گئے ہیں۔ ریپبلکنز اور وائٹ ہاؤس نے احتجاج کو انتہا پسندوں کا اجتماع قرار دیا ہے، لیکن مظاہرین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، 2500 سے زیادہ ریلیوں کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ ریپبلکنز نے مظاہرین پر الزام لگاتے ہوئےامریکی سیاست کے مرکزی دھارے میں بیرونی طاقتوں کی مداخلت اورطویل حکومتی شٹ ڈاؤن کو احتجاج کی بنیادی وجہ قرار دیا ہے۔  

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: سے زیادہ

پڑھیں:

ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا

ماہرین فلکیات نے نظام شمسی سے باہر موجود سیاروں (ایگزوپلینیٹس) میں مقناطیسی میدانوں کے شواہد دریافت کر لیے ہیں جسے اس حوالے سے اب تک کا مضبوط ترین ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا پلوٹو کو سیارے کا درجہ دوبارہ مل جائے گا، یہ سیاروں کی فہرست سے نکالا کیوں گیا؟

سائنس دانوں نے چلی اور ہوائی میں نصب جدید دوربینوں کی مدد سے 7 بڑے اور انتہائی گرم گیسوں پر مشتمل سیاروں کا مشاہدہ کیا۔ تحقیق کے دوران ان سیاروں کی فضائی ہواؤں کے غیرمعمولی رویے کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ان پر مقناطیسی میدان موجود ہیں۔

یہ تحقیق جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق مقناطیسی میدان وہ غیر مرئی قوت ہے جو کسی سیارے کے اندر موجود پگھلے ہوئے دھاتی مواد کی حرکت اور اس کی گردش سے پیدا ہوتی ہے۔

تحقیق کی سربراہ اور فرانس کے آبزرویٹری ڈی لا کوٹ ڈی آزور سے وابستہ ماہر فلکیات جولیا سیڈل کے مطابق سائنس دانوں کی توقع تھی کہ زیادہ گرم سیاروں پر ہوائیں زیادہ تیز ہوں گی کیونکہ وہاں توانائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لیکن مشاہدات میں اس کے برعکس نتائج سامنے آئے۔

مزید پڑھیے: 45 نئے سیارے دریافت جہاں زندگی کے امکانات موجود ہیں

انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ گرم سیاروں پر ہواؤں کی رفتار توقع سے کم دیکھی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستاروں سے ملنے والی اضافی توانائی کسی اور طریقے سے ضائع ہو رہی ہے۔

ان کے مطابق اس کی سب سے ممکنہ وجہ مقناطیسی میدان اور فضا میں موجود برقی ذرات کے درمیان تعامل ہے۔

تحقیق میں شامل ساتوں سیارے اپنے ستاروں کے انتہائی قریب گردش کرتے ہیں۔ ان کا ایک حصہ مسلسل ستارے کی طرف جبکہ دوسرا حصہ ہمیشہ تاریکی میں رہتا ہے۔ اس قسم کے سیاروں کو ’ہاٹ جیوپیٹر‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا حجم اور ساخت مشتری سے ملتی جلتی ہوتی ہے تاہم ان کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے۔

ان سیاروں پر ہواؤں کی رفتار بعض مقامات پر 25 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی جو نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کی ہواؤں سے بھی زیادہ ہے۔

مزید پڑھیں: سب سے چھوٹے سیارے عطارد کا وجود ایک معمہ، جانیے اس پراسرار جہان کی حقیقت؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ نظام شمسی کے بیشتر سیاروں میں مقناطیسی میدان موجود ہیں اس لیے یہ بات حیران کن نہیں کہ دوسرے نظاموں کے سیاروں میں بھی یہ خصوصیت پائی جائے تاہم اب تک اس کے واضح شواہد دستیاب نہیں تھے۔

تحقیق میں شامل جرمنی کے یورپی جنوبی رصدگاہ سے وابستہ ماہر فلکیات بیبیانا پرنوتھ کے مطابق مقناطیسی میدان کسی سیارے کو قابلِ رہائش بنانے کا واحد عنصر نہیں لیکن یہ طویل عرصے تک فضا کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ زندگی کے لیے فضا کا موجود ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ فضا سطحی دباؤ کو برقرار رکھنے، درجہ حرارت کو متوازن رکھنے اور زمین کی طرح مائع پانی کے وجود کو ممکن بناتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: زمین جیسے سیارے کی تلاش ایک دلچسپ جدوجہد، سائنسدان پرامید

ماہرین کے مطابق اگرچہ اس تحقیق میں شامل تمام سیارے گیسوں پر مشتمل ہیں اور زندگی کے لیے موزوں نہیں سمجھے جاتے تاہم ان میں مقناطیسی میدانوں کی موجودگی کی دریافت مستقبل میں زمین جیسے چٹانی سیاروں کے مطالعے اور قابلِ رہائش دنیاوں کی تلاش میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ مقناطیسی میدان رکھنے والے سیارے نظام شمسی ہاٹ جیوپیٹر

متعلقہ مضامین

  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر بڑی چوری، لاکھوں روپے مالیت کے زیورات غائب