WE News:
2026-07-24@03:40:53 GMT

علی امین گنڈاپور اور سہیل آفریدی میں کیا فرق ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT

علی امین گنڈاپور اور سہیل آفریدی میں کیا فرق ہے؟

صوبہ خیبرپختونخوا میں پہلے علی امین گنڈاپور وزیراعلیٰ تھے، پھر بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہدایات پر نوجوان رکن اسمبلی سہیل آفریدی کو وزیر اعلیٰ بنا دیا گیا۔ علی امین گنڈاپور تجربہ کار، گروپ بندی اور جوڑ توڑ والے سیاست دان ہیں، جبکہ سہیل آفریدی طلبا یونین سے سامنے آنے والے نوجوان ہیں، جو پہلی مرتبہ ایم پی اے بنے۔

’وی نیوز‘ نے پاکستان تحریک انصاف کے دونوں رہنماؤں کی شخصیت، سیاسی حکمت عملی اور حکومت چلانے کے انداز میں فرق جاننے کے لیے پشاور کے سینیئر صحافیوں اور تجزیہ کاروں سے گفتگو کی۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی احتجاج کے لیے تیار، مگر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی ماضی کے تجربات سے محتاط رہنے کے حامی

’سہیل آفریدی علی امین گنڈاپور کا ہی تسلسل ہیں‘

پشاور میں اے ایف پی کے لیے کام کرنے والے سینیئر صحافی لحاظ علی نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ بنیادی طور پر علی امین گنڈاپور اور وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی میں زیادہ فرق نہیں، بلکہ سہیل آفریدی علی امین گنڈاپور کا ہی تسلسل ہیں، البتہ کوئی بھی شخص دوسرے شخص کا مکمل متبادل نہیں ہوسکتا۔

لحاظ علی نے کہاکہ علی امین گنڈاپور جوڑ توڑ کو سمجھنے والے سیاستدان ہیں، جو پہلے گروپ بندی کے ذریعے پارٹی کے صوبائی صدر بنے، اور پھر وزارت اعلیٰ تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔

انہوں نے کہاکہ علی امین گنڈاپور کو عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی آشیرباد بھی حاصل تھی، اور سابقہ خاتونِ اوّل کے توسط ہی سے وہ خیبرپختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ بنے تھے۔ لیکن علی امین گنڈاپور ڈیلیور کرنے میں ناکام رہے۔

علی امین کی گورننس پر اعتراضات اور پھر احتجاجی مظاہروں میں ناکامی کے بعد وہ کارکنوں کا اعتماد بھی ہار گئے، بلکہ آخر میں تو لوگوں نے انہیں جوتے تک دکھائے، جس کے بعد عمران خان نے مجبوراً سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ بنایا۔

لحاظ علی نے بتایا کہ سہیل آفریدی کو جارحانہ سیاست کے لیے میدان میں لایا گیا ہے، اور ابھی تک ان کے بیانات بھی جارحانہ ہیں۔

انہوں نے کہاکہ سہیل آفریدی نوجوان اور سیاست میں نئے ضرور ہیں، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ ڈیلیور نہیں کر سکیں گے۔ البتہ ابھی ان کے منصب کو زیادہ وقت نہیں ہوا، اس لیے ہم حتمی رائے قائم نہیں کر سکتے۔

لحاظ علی نے مزید کہاکہ علی امین گنڈاپور بیوروکریسی کو لتاڑتے تھے، جبکہ سہیل آفریدی احترام سے کام کرتے ہیں، موجودہ وزیراعلیٰ تنظیم میں بھی جان ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا پی ٹی آئی سوشل میڈیا سے بہت زیادہ خوف زدہ ہیں، کہ کہیں کوئی ان کے خلاف ’کمپین‘ نہ چلا دے ، اور یہی چیز سہیل آفریدی کی فیصلہ سازی کی راہ میں رکاوٹ بھی بن رہی ہے۔

لحاظ علی نے کہاکہ وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی بھی علی امین گنڈاپور کی طرح پشاور سے زیادہ اسلام آباد میں وقت گزارتے ہیں۔

’سہیل آفریدی کی گرفت ابھی زیادہ پختہ نہیں ہوگی‘

پشاور میں جیوز نیوز کے بیورو چیف شکیل فرمان علی نے اس حوالے سے کہاکہ علی امین گنڈاپور پرانے سیاست دان ہیں، وہ وزیرِ اعلیٰ سے پہلے صوبائی اور وفاقی وزارت پر کام کر چکے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ علی امین گنڈاپور لمبے سیاسی سفر کے بعد وزیرِ اعلیٰ بنے تھے، جبکہ موجودہ وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی پہلی مرتبہ ایم پی اے بننے ہیں، اور اس سے پہلے وہ قریباً ڈیڑھ سال صوبائی وزیر رہے، اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ابھی کاروبارِ سیاست اور حکومت میں اُن کی گرفت زیادہ پختہ نہیں ہوگی۔

شکیل فرمان نے مزید کہاکہ علی امین گنڈاپور پر یہ الزام رہا ہے کہ وہ عمران خان کی رہائی کے حوالے سے کچھ زیادہ سنجیدگی سے کام نہیں کررہے، بلکہ آخری وقت میں انہوں نے واضح کہہ دیا تھا کہ میں کوئی ایسا احتجاج نہیں کروں گا جس میں ہلاکتوں کا خدشہ ہو۔ جبکہ وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کو اپنا اصل مشن سمجھتے ہیں، اسی لیے شاید مقتدرہ ڈر کی وجہ سے سہیل آفریدی اور عمران خان سے ملاقات نہیں ہونے دیتی۔

شکیل فرمان نے گورننس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہاکہ علی امین گنڈاپور چونکہ تجربہ کار سیاستدان تھے، ان کا بیوروکریسی کے ساتھ پرانا تعلق بھی تھا، اس لیے گورننس پر علی امین کی ’گرپ‘ زیادہ بہتر تھی۔

’علی امین کا اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ معاملات طے نہ کرانا کرسی جانے کی ایک وجہ ہے‘

سابق صدر پشاور پریس کلب و سینئیر صحافی سیف اللہ اسلام سیفی نے اس حوالے سے کہاکہ علی امین گنڈا پور کو ہٹا کر سہیل آفریدی کو لانے کی دیگر وجوہات کے ساتھ ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ علی امین گنڈا پور کے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ روابط کا فائدہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کی شکل میں حاصل نہیں ہوا۔

انہوں نے کہاکہ پارٹی کے اندر کئی مواقع پر کارکنوں کی جانب سے علی امین کو اس رہائی میں رکاوٹ قرار دیا گیا۔ جبکہ سہیل آفریدی کا اس حوالے سے شروع ہی سے رویہ جارحانہ رہا ہے، چاہے وہ اسمبلی فلور پر ان کی تقاریر ہوں یا اڈیالہ کے سامنے احتجاج ہو۔

’ایک ایسے جارحانہ مزاج والے ایم پی اے کو اسی لیے میدان میں لایا گیا ہے تاکہ نوجوانوں کو میدان میں لا کر عمران خان کی رہائی کے لیے نتیجہ خیز تحریک چلائی جائے۔

’فی الحال پارٹی میں سہیل آفریدی کے خلاف کوئی گروپ موجود نہیں‘

سیف اللہ اسلام سیفی نے مزید کہاکہ وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے کارکردگی کا موازنہ کچھ عرصہ گزرنے کے بعد لگایا جاسکے گا، فی الحال سہیل آفریدی کی توجہ ضم اضلاع کی جانب زیادہ رہنے کا امکان ہے، وہ خود ضم شدہ ضلع سے تعلق رکھتے ہیں اور قبائل کی اس سے توقعات سیاسی وابستگی سے بالا ہیں۔

مزید پڑھیں: سہیل آفریدی نے وفاق کی رٹ کو چیلنج کیا تو گورنر راج کا آپشن آئین کا حصہ ہے، رانا ثنااللہ نے خبردار کردیا

سیف اللہ اسلام سیفی نے کہاکہ چونکہ علی امین کے خلاف پارٹی میں کئی گروپ بن چکے تھے، لیکن سہیل آفریدی کے حوالے سے ابھی ایسا کچھ نہیں ہے۔ علی امین نے جن مخالف گروپ کے وزرا کو کابینہ سے مستعفی کرویا تھا، ان کو اب کابینہ میں شامل کیا گیا ہے۔

’سہیل آفریدی کو عمران خان نے ایک خاص مقصد کےلیے وزیراعلیٰ بنایا ہے اور جیسا کہ سہیل آفریدی نے وزیراعلیٰ بننے کے بعد اسمبلی فلور پر اپنی تقریر میں خود کو احتجاج کا چیمپیئن قرار دیا تھا تو مستقبل قریب میں ان کی قیادت میں وفاقی حکومت کے خلاف تحریک شروع ہونے کا امکان بھی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews احتجاجی تحریک پی ٹی آئی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی علی امین گنڈاپور عمران خان عمران خان رہائی وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: احتجاجی تحریک پی ٹی ا ئی خیبرپختونخوا سہیل ا فریدی علی امین گنڈاپور عمران خان رہائی وی نیوز کہاکہ علی امین گنڈاپور عمران خان کی رہائی کہ سہیل آفریدی انہوں نے کہاکہ سہیل آفریدی کو سہیل ا فریدی لحاظ علی نے پی ٹی آئی فریدی کو حوالے سے کے خلاف نہیں کر نے والے کے ساتھ کے لیے کے بعد

پڑھیں:

عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار

وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔

ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف