پاکستان اور افغانستان کی جنگ ختم کرنا میرے لیے بہت آسان ہے، ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
پاکستان اور افغانستان کی جنگ ختم کرنا میرے لیے بہت آسان ہے، ٹرمپ WhatsAppFacebookTwitter 0 18 October, 2025 سب نیوز
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی کو ختم کرنا میرے لیے بہت آسان ہے۔
اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ مجھے جنگیں رکوانا پسند ہے، پاکستان اور افغانستان کی حالیہ سرحدی کشیدگی سے پوری طرح آگاہ ہوں اور اگر چاہوں تو دونوں ممالک کے درمیان یہ جنگ فوراً ختم کروا سکتا ہوں۔
امریکی صدر نے بات چیت کے دوران ایک بار پھر پاک بھارت جنگ بندی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے مجھے بتایا کہ میں نے پاک بھارت جنگ ختم کر کے لاکھوں جانیں بچائیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ کئی روز سے افغانستان کی سرحد سے پاکستان پر حملوں کا سلسلہ جاری تھا جس کے جواب میں پاکستانی افواج نے افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور نتیجے میں درجنوں خوارج ہلاک ہوئے۔
واضح رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ابتدائی طور پر 48 گھنٹے کی جنگ بندی طے پائی تھی تاہم اس میں مزید توسیع کر دی گئی۔
سفارتی ذرائع کے مطابق افغان طالبان حکومت اور پاکستان کے درمیان عارضی جنگ بندی کو دوحہ میں جاری مذاکرات کے اختتام تک بڑھا دیا گیا ہے جبکہ اعلیٰ سطح کے مذاکرات ہفتے کو شروع ہونے کی توقع ہے
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایف بی آر ٹرانسفارمیشن پلان کی بھرپور پذیرائی، عالمی سطح پر کیس اسٹڈی کے طور پر پیش ایف بی آر ٹرانسفارمیشن پلان کی بھرپور پذیرائی، عالمی سطح پر کیس اسٹڈی کے طور پر پیش آزاد جموں و کشمیر میں سیاسی درجہ حرارت گرم، مزید 3وزرا مستعفی، تعداد 4ہوگئی سعودی حکام ابراہام معاہدے میں شامل ہونے کو تیار ہیں، صدر ٹرمپ کا دعوی عمران خان سے ملاقات کیلئے وزیراعلی کے پی کا اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع پاکستان اور یو اے ای کے درمیان فرسٹ ویمن بینک کی نجکاری کا معاہدہ طے پاگیا وفاقی وزیر داخلہ سے علامہ شاہ اویس نورانی کی ملاقات، مدارس کو بند نہ کرنے پر اتفاقCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پاکستان اور افغانستان افغانستان کی
پڑھیں:
طالبان رجیم کیخلاف مزاحمتی تحریکوں میں شدت
قابض افغان طالبان رجیم کیخلاف افغانستان کے مختلف صوبوں میں آزادی پسند تحریکیں زور پکڑ گئیں.
بدخشان میں چندماہ میں دوسرےضلعی گورنرکی ہٹ دھرمی پرمبنی برطرفی نےطالبان کےاندرونی خلفشارکوآشکارکردیا۔
افغان میڈیا کے مطابق طالبان رجیم کیخلاف نئے مسلح گروہ سپاہیان میہن نے بدخشان کے ضلع یفتلی سفلی پرقبضہ کرکےاپنی موجودگی کا باضابطہ اعلان کر دیا
یہ گروہ مختلف طبقات سے تعلق رکھنےوالےافراد پرمشتمل ہے جن میں سابق سیکیورٹی اہلکاراورمقامی باشندےشامل ہیں۔
ساؤتھ ایشیا ٹیررزم پورٹل کی رپورٹ کے مطابق طالبان اور جمعہ خان فاتح کے درمیان اختلافات ختم نہیں ہوئے،بدخشان میں ان کےحامیوں اورطالبان قیادت کےدرمیان کشیدگی برقرارہے۔
بدخشان میں اندرونی کشیدگی بھی عروج پر،ضلعی گورنرقاری مطیع الرحمان کوتقرری کےایک ہفتےبعدہی عہدے سےہٹا دیا گیا، طالبان مخالف گروہوں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ اورافغانستان فریڈم فرنٹ بھی بدخشاں سمیت افغانستان کے کئی صوبوں میں سرگرم ہیں۔
افغان مزاحمتی تنظیم نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نےایکس اکاونٹ پرمزاحمتی فورسزکی نئی ویڈیواپ لوڈکردی۔ نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کےایکس پراپ لوڈ ویڈیومیں طالبان مخالف فورسزکواہم علاقےمیں گشت کرتےہوئےدیکھاجاسکتا ہے۔