8 جنگیں رکوائیں، پاک افغان جنگ ختم کروانا یرے لیے بہت آسان ہے‘، ٹرمپ کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر عالمی تنازعات میں اپنی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ پاک افغان جنگ ختم کرنا ان کے لیے ’بہت آسان‘ ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امیر متقی کے دورہ بھارت کی وجہ سے پاک افغان اختلافات میں اضافہ ہوا، ہارون رشید
میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اپنے دورِ صدارت میں انہوں 8نے بڑی جنگیں رکوائیں، جن میں پاک بھارت جنگ بھی شامل تھی۔ ان کے بقول انہوں نے دنیا کے کئی حصوں میں امن کے لیے اہم کردار ادا کیا۔
شہباز شریف کا تذکرہ
ٹرمپ نے مزید کہا کہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے ان سے کہا تھا کہ انہوں نے پاک بھارت جنگ روک کر لاکھوں جانیں بچائیں، اور اس اقدام پر پاکستانی عوام شکر گزار ہیں۔
پاک افغان جنگ بندی میں پیشرفت
دوسری جانب پاکستان اور افغان طالبان انتظامیہ کے درمیان 2 روز قبل ہونے والی جنگ بندی میں توسیع پر اتفاق ہو گیا ہے۔ دونوں ممالک نے طے کیا ہے کہ 48 گھنٹے کی جنگ بندی دوحہ میں جاری مذاکرات کے اختتام تک برقرار رکھی جائے۔
مذاکرات دوحہ میں جاری
پاکستانی وفد آج مذاکرات میں شرکت کے لیے دوحہ پہنچ رہا ہے، جبکہ افغان طالبان کا وفد بھی وہاں پہنچنے والا ہے۔ فریقین امید ظاہر کر رہے ہیں کہ بات چیت کے نتیجے میں سرحدی کشیدگی میں کمی اور امن کے عمل کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا پاک افغان جنگ صدر ٹرمپ طالبان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا پاک افغان جنگ طالبان پاک افغان جنگ کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔