پیوٹن کو جنگ ختم کرنے پر قائل کر سکتا ہوں، پاک افغان جنگ بندی کرانا میرے لیے بہت آسان ہے، ٹرمپ-زیلنسکی ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
واشنگٹن: یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی اپنے وفد کے ہمراہ وائٹ ہاؤس پہنچے جہاں انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ وفود کی سطح پر اہم ملاقات کی۔ یہ ملاقات روس-یوکرین تنازعے کے خاتمے، ٹوماہاک میزائلوں کی فراہمی اور علاقائی امن کے لیے امریکی کردار پر مرکوز رہی۔
ملاقات کے دوران صدر زیلنسکی نے کہا، “ہم امن چاہتے ہیں مگر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نہیں چاہتے۔” انہوں نے امریکی حمایت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ روس پر دباؤ ڈالنے کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب، صدر ٹرمپ نے پرامید انداز میں کہا، “ہم روسی صدر پیوٹن کو جنگ ختم کرنے پر قائل کر سکتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ روسی صدر بھی جنگ ختم کرنا چاہتے ہیں۔”
صدر ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں امن کی کامیابی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، “مشرق وسطیٰ میں ہم نے 59 ممالک کو متفق کیا، جو یوکرین سے کہیں زیادہ پیچیدہ معاملہ تھا۔ سب سے پہلے یوکرین اور روسی صدر کو دلوں سے نفرت نکالنا ہوگی۔ دونوں صدور نے نرمی دکھائی تو یہ جنگ ختم ہو سکتی ہے۔” انہوں نے امید ظاہر کی کہ “جنگ یوکرین کو ٹوماہاک میزائل کی ضرورت کے بغیر ختم ہو جائے گی، ہم ٹوماہاک میزائل کے بغیر جنگ ختم کرنے کے کافی قریب ہیں۔”
صدر ٹرمپ نے اقتصادی دباؤ کا ذکر کرتے ہوئے کہا، “بھارت اب روس سے تیل نہیں خریدے گا۔” ملاقات میں جنوبی ایشیا کے تنازعات کا بھی تذکرہ ہوا۔ صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر پاک-بھارت جنگ کا حوالہ دیا، “میں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ رکوائی۔ پاکستانی وزیراعظم نے کہا میں نے لاکھوں زندگیوں کو بچایا۔ پاکستان اور افغانستان میں بھی جنگ بندی کرانا پڑی تو یہ میرے لیے بہت آسان ہے۔” انہوں نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری جھڑپوں کا ذکر کرتے ہوئے امن کی امید ظاہر کی۔
یہ ملاقات صدر ٹرمپ کی حالیہ روسی صدر پیوٹن سے فون کال اور ہنگری میں مجوزہ سربراہی اجلاس کے تناظر میں اہم ہے، جہاں یوکرین تنازعے کا حل تلاش کیا جائے گا۔ زیلنسکی نے ٹوماہاک میزائلوں کی فراہمی پر زور دیا، جبکہ ٹرمپ سفارتی حل کی طرف مائل نظر آئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: انہوں نے
پڑھیں:
ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔
عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔
عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔
Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.
Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔