واشنگٹن: یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی اپنے وفد کے ہمراہ وائٹ ہاؤس پہنچے جہاں انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ وفود کی سطح پر اہم ملاقات کی۔ یہ ملاقات روس-یوکرین تنازعے کے خاتمے، ٹوماہاک میزائلوں کی فراہمی اور علاقائی امن کے لیے امریکی کردار پر مرکوز رہی۔

ملاقات کے دوران صدر زیلنسکی نے کہا، “ہم امن چاہتے ہیں مگر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نہیں چاہتے۔” انہوں نے امریکی حمایت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ روس پر دباؤ ڈالنے کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب، صدر ٹرمپ نے پرامید انداز میں کہا، “ہم روسی صدر پیوٹن کو جنگ ختم کرنے پر قائل کر سکتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ روسی صدر بھی جنگ ختم کرنا چاہتے ہیں۔”

صدر ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں امن کی کامیابی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، “مشرق وسطیٰ میں ہم نے 59 ممالک کو متفق کیا، جو یوکرین سے کہیں زیادہ پیچیدہ معاملہ تھا۔ سب سے پہلے یوکرین اور روسی صدر کو دلوں سے نفرت نکالنا ہوگی۔ دونوں صدور نے نرمی دکھائی تو یہ جنگ ختم ہو سکتی ہے۔” انہوں نے امید ظاہر کی کہ “جنگ یوکرین کو ٹوماہاک میزائل کی ضرورت کے بغیر ختم ہو جائے گی، ہم ٹوماہاک میزائل کے بغیر جنگ ختم کرنے کے کافی قریب ہیں۔”

صدر ٹرمپ نے اقتصادی دباؤ کا ذکر کرتے ہوئے کہا، “بھارت اب روس سے تیل نہیں خریدے گا۔” ملاقات میں جنوبی ایشیا کے تنازعات کا بھی تذکرہ ہوا۔ صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر پاک-بھارت جنگ کا حوالہ دیا، “میں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ رکوائی۔ پاکستانی وزیراعظم نے کہا میں نے لاکھوں زندگیوں کو بچایا۔ پاکستان اور افغانستان میں بھی جنگ بندی کرانا پڑی تو یہ میرے لیے بہت آسان ہے۔” انہوں نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری جھڑپوں کا ذکر کرتے ہوئے امن کی امید ظاہر کی۔

یہ ملاقات صدر ٹرمپ کی حالیہ روسی صدر پیوٹن سے فون کال اور ہنگری میں مجوزہ سربراہی اجلاس کے تناظر میں اہم ہے، جہاں یوکرین تنازعے کا حل تلاش کیا جائے گا۔ زیلنسکی نے ٹوماہاک میزائلوں کی فراہمی پر زور دیا، جبکہ ٹرمپ سفارتی حل کی طرف مائل نظر آئے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: انہوں نے

پڑھیں:

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔

امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔

تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال