48 گھنٹوں میں خوارج گل بہادر گروپ کے 100 سے زائد دہشت گرد ہلاک ہوچکے ہیں، عطا اللہ تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
اسلام آباد:
وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے پاک افغان سرحد کے قریب شمالی اور جنوی وزیرستان میں خوارج گل بہادر گروپ پر جوابی حملوں میں 100 سے زائد خوارجیوں کو ہلاک کردیا۔
اپنے ایکس (ٹویٹ) اکاؤنٹ پر پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ پاکستان نے پاک افغان سرحد کے نزدیک شمالی اور جنوبی وزیرستان اضلاع کے سرحدی علاقوں میں خارجی گل بہادر کے پر حملے کیے، 48 گھنٹے طویل جنگ بندی کے دوران افغانستان میں متحرک خارجیوں نے بار بار پاکستان کے اندر دہشت گردانہ حملے کی کوششیں کیں جنہیں سیکیورٹی فورسز نے مؤثر انداز میں پسپا کیا، سیکیورٹی ردِ عمل کے نتیجے میں سو سے زائد خارجی جہنم واصل کر دیے گئے۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ خارجی گل بہادر کے عناصر نے شمالی وزیرستان میں گاڑی پر بم حملہ بھی کیا جس کے نتیجے میں شہریوں اور ایک فوجی نے شہادت قبول کی جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے، خارجی گل بہادر کے خلاف گزشتہ شب اسٹرائیکس میں انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر کم از کم 60 تا 70 خارجی اور ان کی قیادت کو جہنم واصل کر دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ شہریوں کے خلاف نشانہ بنانے کے حوالے سے کی جانے والی تمام قیاس آرائیاں اور دعوے بے بنیاد ہیں، افغانستان کے اندر کام کرنے والی دہشت گرد تنظیموں کی حمایت پیدا کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں، پاکستان مخلصانہ طور پر یقین رکھتا ہے کہ آگے کا راستہ افغانستان کی سرزمین سے جاری بھارت نواز دہشت گردی کے مسئلے کو مذاکرات اور افغان حکام کی جانب سے غیر ریاستی عناصر پر کنٹرول کے ذریعے حل کرنے میں مضمر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو اپنی سرحدی سالمیت اور اپنے عوام کی جان و مال کے تحفظ کا مکمل حق حاصل ہے اور ہم افغانستان سے آپریشن کرنے والے دہشت گردوں کو سکون سے رہنے کی اجازت ہرگز نہیں دیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: گل بہادر نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔
سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزاماتبدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔
مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔
تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرارطالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔
اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میںرپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔
بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویررپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔
اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز