وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا بات چیت کرنے پر یقین نہیں رکھتے، عطااللہ تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نےنومنتخب وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی اہم اعلیٰ سطحی اجلاس میں عدم شرکت کو افسوسناک قرار دیا ہے۔
وزیراعظم کی زیرِ صدارت افغان پناہ گزینوں اور ان کی واپسی کے حوالے سے ایک اہم اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عطااللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ اجلاس میں بیٹھ کر بات چیت کرنے پر یقین نہیں رکھتے، جو کہ ایک افسوسناک رویہ ہے۔
وزیر اطلاعات و نشریات نے بتایا کہ اجلاس میں افغان پناہ گزینوں کی مرحلہ وار واپسی اور اس سے متعلق سلامتی، انسانی ہمدردی اور انتظامی پہلوؤں پر تفصیلی غور کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: اب تک 3 لاکھ افغان مہاجرین رضاکارانہ طور پر واپس جا چکے ہیں: قائمہ کمیٹی کو بریفنگ
وفاقی وزیر کے مطابق، اجلاس میں تمام وزرائے اعلیٰ کو مدعو کیا گیا تھا تاہم وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اجلاس میں شریک نہیں ہوئے، ان کی نمائندگی صوبائی حکومت کے نمائندے مزمل اسلم نے کی۔
عطا اللہ تارڑ نے اس موقع پر کہا کہ صوبے کے امن و امان کے حوالے سے اجلاس میں وزیراعلیٰ کی موجودگی ضروری تھی، لیکن بدقسمتی سے وہ شریک نہیں ہوئے۔
وزیر اطلاعات نے بتایا کہ اجلاس میں افغان پناہ گزینوں کی واپسی کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے ہیں جن پر جلد عمل درآمد شروع کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: کوئٹہ: افغان مہاجرین کے زیر انتظام اسکول سیل، اساتذہ و طلبا کو ڈی پورٹ کرنے کا فیصلہ
عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ غزہ اور فلسطین کے معاملے پر پاکستان نے ہمیشہ اصولی مؤقف اختیار کیا ہے اور وزیراعظم نے ہر عالمی فورم پر فلسطینیوں کی آواز بن کر کردار ادا کیا ہے۔
’اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہماری خارجہ پالیسی کامیابی کے راستے پر ہے، اور حالیہ دنوں میں پاکستان کے مؤقف کو عالمی سطح پر سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔‘
عطا اللہ تارڑ کے مطابق، حکومت کے مثبت اقدامات کی بدولت سبز پاسپورٹ کے وقار میں اضافہ ہوا ہے۔
مزید پڑھیں: افغان مہاجرین کے انخلا سے بلوچستان میں کاروباری سرگرمیوں پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟
ان کا مزید کہنا تھا کہ عوام نے ٹی ایل پی اور تحریک انصاف کی احتجاجی کالوں کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔
’ملک بھر میں کاروبار زندگی معمول کے مطابق رواں دواں ہے، اور عوام نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ بے مقصد احتجاج اور سیاسی افراتفری نہیں چاہتے۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاسپورٹ تحریک انصاف ٹی ایل پی خارجہ پالیسی عطااللہ تارڑ وزیر اطلاعات.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاسپورٹ تحریک انصاف ٹی ایل پی خارجہ پالیسی عطااللہ تارڑ وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ وزیر اطلاعات اجلاس میں
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔