دبئی میں جائٹیکس کا انعقاد، پاکستان اور امارات میں ڈیجیٹل تعاون کے فروغ پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
دبئی میں ٹیکنالوجی کی نمائش Gitex کا انعقاد کیا گیا جس کا آغاز 13 اکتوبر سے ہوا ہے اور 17 اکتوبر تک رہے گا۔
تفصیلات کے مطابق جائٹیکس کے موقع پر پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان ڈیجیٹل تعاون اور انوویشن کے فروغ پر اتفاق کیا گیا۔
وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ کی متحدہ عرب امارات کی وزارتِ صنعت و جدید ٹیکنالوجی کے انڈر سیکرٹری عمر احمد سووینہ السوویدی سے ملاقات ہوئی جس میں ڈیجیٹل گورننس اور مصنوعی ذہانت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ، نیشنل ڈیٹا ایکسچینج لیئر اور کیش لیس اکانومی پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
شزا فاطمہ کی ابو ظہبی انویسٹمنٹ آفس کے مسیمو فالچونی سے بھی ملاقات ہوئی جس میں ڈیجیٹل سرمایہ کاری اور تکنیکی اشتراک پر بات چیت کی گئی۔
اس کے علاوہ وفاقی وزیر کی اے ایچ اے ڈی کے سی ای او منیب انجم سے بھی ملاقات ہوئی جہاں پاکستان کے سائبر سیکیورٹی ایکو سسٹم کے فروغ پر اتفاق کیا گیا۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔