data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

دبئی میں جاری دنیا کی سب سے بڑی ٹیکنالوجی نمائش جائٹیکس (GITEX) نے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان ڈیجیٹل تعاون کے ایک نئے دور کا آغاز کردیا ہے۔

13 اکتوبر سے شروع ہونے والی یہ بین الاقوامی نمائش 17 اکتوبر تک جاری رہے گی، جس میں دنیا بھر کی معروف ٹیکنالوجی کمپنیاں، سرمایہ کار اور حکومتی نمائندے ڈیجیٹل ترقی کے نئے مواقع پر گفتگو کر رہے ہیں۔

نمائش کے دوران پاکستان کی نمائندگی وفاقی وزیرِ آئی ٹی شزا فاطمہ نے کی، جنہوں نے متحدہ عرب امارات کے وزارتِ صنعت و جدید ٹیکنالوجی کے انڈر سیکرٹری عمر احمد سووینہ السوویدی سے ملاقات کی۔

اس اہم ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان ڈیجیٹل گورننس، مصنوعی ذہانت (AI) اور جدید تکنیکی فریم ورک کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ اس موقع پر شزا فاطمہ نے کہا کہ پاکستان ڈیجیٹل اصلاحات کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور امارات کے تجربے سے استفادہ دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔

ملاقات کے دوران پاکستان کے ڈیجیٹل نیشن ایکٹ، نیشنل ڈیٹا ایکسچینج لیئر اور کیش لیس اکانومی کے منصوبوں پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ شزا فاطمہ نے اس بات پر زور دیا کہ ڈیجیٹل گورننس کی بنیاد شفافیت، رسائی اور عوامی سہولتوں کی خودکار فراہمی پر ہونی چاہیے، جس کے لیے جدید مصنوعی ذہانت کے نظاموں کو قومی سطح پر متعارف کرایا جا رہا ہے۔

وفاقی وزیر نے ابوظبی انویسٹمنٹ آفس کے سینئر نمائندے مسیمو فالچونی سے بھی ملاقات کی، جس میں پاکستان کے ٹیک سیکٹر میں غیرملکی سرمایہ کاری کے امکانات پر تبادلہ خیال ہوا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ باہمی تکنیکی اشتراک، اسٹارٹ اپس کے فروغ اور سرمایہ کاری کے مشترکہ منصوبے دونوں ممالک کے ڈیجیٹل شعبے کو مستحکم کر سکتے ہیں۔

اسی دوران شزا فاطمہ نے AHEAD کمپنی کے چیف ایگزیکٹو منیب انجم سے بھی ملاقات کی، جس میں پاکستان کے سائبر سیکورٹی ایکو سسٹم کو مضبوط بنانے کے لیے تکنیکی تعاون پر اتفاق کیا گیا۔ ملاقات میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ ڈیجیٹل تحفظ صرف تکنیکی نہیں بلکہ قومی سلامتی کا بھی ایک اہم پہلو ہے، جس کے لیے پاکستان علاقائی شراکت داری کو فروغ دینا چاہتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق جائٹیکس میں پاکستان کی فعال شرکت نہ صرف ملکی آئی ٹی سیکٹر کے لیے مثبت پیش رفت ہے بلکہ اس سے خطے میں پاکستان کے بطور ٹیکنالوجی پارٹنر کردار کو تقویت ملے گی۔

اس اہم ٹیکنالوجی نمائش کے ذریعے پاکستان عالمی سرمایہ کاروں کو اپنی ڈیجیٹل استعداد دکھانے اور میڈ اِن پاکستان ٹیکنالوجی برانڈ کو عالمی سطح پر فروغ دینے کا موقع حاصل کر رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: شزا فاطمہ نے میں پاکستان پاکستان کے امارات کے پر اتفاق کے لیے

پڑھیں:

سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا

سینٹ پیٹرزبرگ روس کا سب سے بڑا اور عالمی سطح پر اہم اقتصادی ایونٹ، سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 2026ء کل 3 جون سے روس کے تاریخی شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں شروع ہو رہا ہے، جس میں دنیا بھر کے 130 سے زائد ممالک کے حکومتی، کاروباری اور اقتصادی راہنما شرکت کریں گے، پاکستان بھی فورم میں اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ شرکت کر رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستانی وفد کی قیادت وفاقی وزیر توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) علی پرویز ملک کریں گے، وفد میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر، روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی، سفارتخانے کی وزیر تجارت و سرمایہ کاری شبانہ ممتاز، قونصلر حبیب منیر، سیکنڈ سیکرٹری جوشوا ایڈون آرتھر اور سینٹ پیٹرزبرگ میں پاکستان کے اعزازی قونصل جنرل عبدالرؤف رند بھی شامل ہیں۔ 4 روزہ فورم میں عالمی معیشت، توانائی، تجارت، سرمایہ کاری، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، صنعتی ترقی، ٹرانسپورٹ، خوراک اور بین الاقوامی اقتصادی تعاون سمیت متعدد اہم موضوعات پر اعلیٰ سطحی اجلاس، مباحثے اور کاروباری ملاقاتیں منعقد ہوں گی۔

روسی صدر ولادیمیر پوتن فورم کے مرکزی پلینری اجلاس سے خطاب کریں گے، جبکہ دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے حکومتی راہنما، وزراء، سرمایہ کار، صنعتکار اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے بھی فورم میں شریک ہوں گے۔ پاکستانی وفد کی شرکت کو روس اور پاکستان کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے، توقع ہے کہ فورم کے دوران پاکستانی نمائندے روسی حکام، سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے، جن میں توانائی، پیٹرولیم، صنعت، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بات چیت ہوگی۔ مبصرین کے مطابق پاکستان اس وقت توانائی، معدنیات، انفراسٹرکچر اور صنعتی شعبوں میں بیرونی سرمایہ کاری کے حصول پر خصوصی توجہ دے رہا ہے جبکہ روس کے ساتھ اقتصادی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنا بھی حکومتی ترجیحات میں شامل ہے۔

فورم میں شرکت پاکستان کو نہ صرف روس بلکہ دیگر ممالک کے سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کے ساتھ براہ راست رابطوں کا موقع فراہم کرے گی، ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے بین الاقوامی پلیٹ فارمز پاکستان کے لیے سرمایہ کاری، برآمدات اور اقتصادی شراکت داریوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔واضح رہے کہ سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 3 سے 6 جون تک جاری رہے گا اور اسے روس کا سب سے بڑا بین الاقوامی اقتصادی فورم تصور کیا جاتا ہے، اس سال فورم کا موضوع "عملی مکالمہ ایک مستحکم مستقبل کی جانب"رکھا گیا ہے، جس میں عالمی معیشت کو درپیش چیلنجز اور مستقبل کے مواقع پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ 

متعلقہ مضامین

  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان