لاہور:

گرینڈ نیشنل اسمبلی ترکیہ کے اسپیکر پروفیسر ڈاکٹر نعمان کورتولموش اور اسلامی جمہوریہ آذربائیجان کی اسپیکر صاحبہ غفاروا اپنے پارلیمانی وفود کے ہمراہ پنجاب اسمبلی پہنچے، جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔

اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان، ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک ظہیر اقبال چنڑ، اراکین اسمبلی سارہ احمد، اسماء احتشام، رانا محمد ارشد، سیکرٹری جنرل چوہدری عامر حبیب اور سیکرٹری پارلیمانی امور خالد محمود نے معزز مہمانوں کا استقبال کیا۔

بعد ازاں، اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے دونوں برادر ممالک کے اسپیکرز سے اسمبلی چیمبر میں ملاقات کی۔ ملاقات میں دوطرفہ تعلقات، تجارتی تعاون، دفاع، تعلیم اور توانائی سمیت مختلف شعبوں میں اسٹریٹیجک شراکت داری کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔

اس موقع پر اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا کہ پاکستان، ترکیہ اور آذربائیجان کے عوام اخوت، دوستی اور محبت کے اٹوٹ رشتے میں منسلک ہیں۔ تینوں ممالک کی علاقائی سالمیت اور استحکام کے لئے مشترکہ کوششیں خطے میں ترقی و خوشحالی کا پیش خیمہ ثابت ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ تینوں ممالک کو دفاعی شعبے میں تعاون مزید بڑھانا چاہیے۔ برادر ممالک ہر آزمائش اور چیلنج میں ہمیشہ ہمارے شانہ بشانہ کھڑے رہے ہیں، جبکہ تینوں ریاستوں نے بین الاقوامی و علاقائی فورمز پر ایک دوسرے کے موقف کی بھرپور حمایت کی ہے۔

گرینڈ نیشنل اسمبلی ترکیہ کے اسپیکر پروفیسر ڈاکٹر نعمان کورتولموش اور اسپیکر ملی مجلس آذربائیجان صاحبہ غفاروا نے پرتپاک استقبال پر پنجاب کی پارلیمان اور عوام کا شکریہ ادا کیا۔

اسپیکر آذربائیجان صاحبہ غفاروا نے کہا کہ آذربائیجان 44 روزہ جنگ میں پاکستان کی غیر متزلزل حمایت پر ہمیشہ شکر گزار رہے گا، تینوں ممالک کے مابین تجارت اور تعاون مستقل طور پر فروغ پانا ضروری ہے۔

ترک اسپیکر پروفیسر ڈاکٹر نعمان کورتولموش نے کہا کہ تینوں ممالک کا پارلیمانی تعاون ہماری مشترکہ تاریخ، ثقافت اور اخلاقی اقدار کا فطری تسلسل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان، ترکیہ اور آذربائیجان تین ریاستیں مگر ایک قوم ہیں، اور دہشت گردی کے خلاف کسی سمجھوتے کی گنجائش نہیں، مشترکہ دفاعی اور عسکری تعاون وقت کی اہم ضرورت ہے۔

اس موقع پر اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے معزز مہمانوں کو یادگاری شیلڈز پیش کیں اور پنجاب اسمبلی کے ایوان کا دورہ کروایا۔ دونوں ممالک کے اسپیکرز نے اسپیکر پنجاب اسمبلی کے ہمراہ مزارِ اقبال پر حاضری دی اور عظیم تاریخی بادشاہی مسجد کا دورہ بھی کیا۔

انہوں نے مزار اقبال پر پھول چڑھائے، فاتحہ خوانی کی اور شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؒ کی فکری خدمات کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر نے فاتحہ خوانی کرائی اور امتِ مسلمہ کے اتحاد، ترقی اور خوشحالی کے لیے دعا کی۔ مہمانانِ گرامی نے مزارِ اقبال کی یادگاری کتاب میں اپنے تاثرات بھی قلم بند کیے اور پاکستانی عوام کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

قبل ازیں، گرینڈ نیشنل اسمبلی ترکیہ کے اسپیکر پروفیسر ڈاکٹر نعمان کورتولموش اور آذربائیجان کی اسپیکر محترمہ صاحبہ غفاروا اپنے اپنے وفود کے ہمراہ خصوصی پرواز کے ذریعے لاہور پہنچے، جہاں اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے معزز مہمانوں کا ایئرپورٹ پر پرتپاک استقبال کیا اور انہیں پھولوں کے گلدستے پیش کیے۔

ترکیہ اور آذربائیجان کے پارلیمانی وفود کی لاہور آمد پاکستان کے برادر اسلامی ممالک کے ساتھ تعلقات، پارلیمانی روابط اور ثقافتی اشتراک کے فروغ کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دی جا رہی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے ترکیہ اور آذربائیجان صاحبہ غفاروا تینوں ممالک کے اسپیکر نے کہا کہ ممالک کے

پڑھیں:

مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج

طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔

اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔

دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔

انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔

اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن