data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی میں سندھ حکومت نے تعلیمی شعبے میں بڑا قدم اٹھاتے ہوئے اسکولوں میں طلبہ کی حاضری کی نگرانی اور شکایات کے ازالے کے لیے جدید نظام متعارف کرادیا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت اسٹوڈنٹ اٹینڈنس مانیٹرنگ سسٹم سے متعلق اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزیر تعلیم سید سردار شاہ، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ اور دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ یہ نیا نظام طلبہ کی غیرحاضری کے اسباب کی نشاندہی کرے گا اور تدریسی مسائل کو بروقت حل کرنے میں مدد دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسٹوڈنٹ اٹینڈنس مانیٹرنگ سسٹم محکمہ اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی ڈیپارٹمنٹ کا ایک تاریخی منصوبہ ہے جو سندھ ارلی لرننگ انہانسمنٹ تھرو کلاس روم ٹرانسفارمیشن پروجیکٹ کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ ابتدائی طور پر یہ نظام 12 اضلاع کے 600 اسکولوں میں نافذ کیا جائے گا، بعد ازاں مرحلہ وار پورے صوبے میں اس کا دائرہ کار بڑھایا جائے گا۔

وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ یہ منصوبہ ورلڈ بینک اور گلوبل پارٹنرشپ فار ایجوکیشن کی معاونت سے تیار کیا گیا ہے، جس کا مقصد تعلیمی شعبے کو ٹیکنالوجی کے ذریعے مستحکم بنانا ہے۔

اجلاس میں صوبائی وزیر تعلیم سردار علی شاہ نے وزیراعلیٰ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اسٹوڈنٹ اٹینڈنس مانیٹرنگ سسٹم جدید ٹیکنالوجی پر مبنی نظام ہے جو طلبہ کے اسکول چھوڑنے کی شرح کم کرے گا اور اساتذہ و طلبہ دونوں کی کارکردگی کو مانیٹر کیا جائے گا۔ ان کے مطابق یہ نظام آف لائن موبائل ایپ کے ذریعے روزانہ اسکولوں سے حاضری اور دیگر اہم معلومات جمع کرے گا۔

سردار علی شاہ نے بتایا کہ سندھ حکومت کا یہ اقدام تعلیمی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائے گا اور صوبے کا یہ نظام جلد ہی ساؤتھ ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکا کے لیے ایک ماڈل کے طور پر سامنے آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی سطح پر اس منصوبے کی باضابطہ تقریب رونمائی جلد کی جائے گی جس میں ورلڈ بینک اور دیگر ترقیاتی اداروں کے نمائندے بھی شریک ہوں گے۔

.

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

کراچی میں تو کمیرے لگا دیے ہیں، باقی شہروں میں کمیرے کیوں نہیں لگائے گئے، علی خورشیدی

سندھ اسمبلی کے اجلاس کے دوران اپوزیشن لیڈر سندھ نے ایوان میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ چالان سے متعلق درخواست ہے پارلیمنٹ کی کمیٹی بنائی جائے۔ انہوں نے ایوان میں سوال اٹھاتے ہوئے مزید کہا کہ چالان کی مد میں جرمانے کم کرنے چاہئیں اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی علی خورشیدی نے کہا ہے کہ اب تک کراچی سے 70 کروڑ روپے جرمانہ وصول کیا جا چکا ہے، وزیرِقانون سے درخواست ہے جرمانوں میں کمی کی جائے۔ سندھ اسمبلی کے اجلاس کے دوران علی خورشیدی نے ایوان میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ چالان سے متعلق درخواست ہے پارلیمنٹ کی کمیٹی بنائی جائے۔ انہوں نے ایوان میں سوال اٹھاتے ہوئے مزید کہا کہ چالان کی مد میں جرمانے کم کرنے چاہئیں، کراچی میں تو کمیرے لگا دیے ہیں، باقی شہروں میں کمیرے کیوں نہیں لگائے گئے؟

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں صاف پانی اور نکاسی آب نظام کیلئے 85.5 ارب روپے مختص کیے ہیں: وزیراعلیٰ سندھ
  • پنجاب حکومت نے دو دن میں 1005 زمینوں کے کیس نمٹا دیے
  • وزیراعلیٰ سندھ کی فلیگ شپ ہیلتھ منصوبوں کو جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت
  • کراچی میں تو کمیرے لگا دیے ہیں، باقی شہروں میں کمیرے کیوں نہیں لگائے گئے، علی خورشیدی
  • آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ اجلاس سے پہلے حکومت کا اہم اور غیرمعمولی اقدام
  • طلبہ کے مخصوص رنگ کے سوئٹر لازمی شرط ختم کی جائے، والدین ایکشن کمیٹی
  • سندھ حکومت کی نظر صرف ICCBSپر نہیں ٗ جامعہ کراچی کی پوری زمین پر ہے ٗ منعم ظفر
  • جماعت اسلامی کی سندھ حکومت پر تنقید؛ جامعہ کراچی کی زمین اور ICCBS قانون پر شدید تحفظات
  • وزیراعلیٰ پنجاب نے خصوصی طلبہ کیلئے کھانے کی فراہمی کے پروگرام کا افتتاح کر دیا
  • نائیجیریا میں طلبہ و اساتذہ کا اغوا؛ ملک میں ہنگامی حالت نافذ کردی گئی