سندھ حکومت کا اقدام، طلبہ کی حاضری کیلئے نیا مانیٹرنگ ڈیجیٹل نظام متعارف
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی میں سندھ حکومت نے تعلیمی شعبے میں بڑا قدم اٹھاتے ہوئے اسکولوں میں طلبہ کی حاضری کی نگرانی اور شکایات کے ازالے کے لیے جدید نظام متعارف کرادیا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت اسٹوڈنٹ اٹینڈنس مانیٹرنگ سسٹم سے متعلق اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزیر تعلیم سید سردار شاہ، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ اور دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ یہ نیا نظام طلبہ کی غیرحاضری کے اسباب کی نشاندہی کرے گا اور تدریسی مسائل کو بروقت حل کرنے میں مدد دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسٹوڈنٹ اٹینڈنس مانیٹرنگ سسٹم محکمہ اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی ڈیپارٹمنٹ کا ایک تاریخی منصوبہ ہے جو سندھ ارلی لرننگ انہانسمنٹ تھرو کلاس روم ٹرانسفارمیشن پروجیکٹ کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ ابتدائی طور پر یہ نظام 12 اضلاع کے 600 اسکولوں میں نافذ کیا جائے گا، بعد ازاں مرحلہ وار پورے صوبے میں اس کا دائرہ کار بڑھایا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ یہ منصوبہ ورلڈ بینک اور گلوبل پارٹنرشپ فار ایجوکیشن کی معاونت سے تیار کیا گیا ہے، جس کا مقصد تعلیمی شعبے کو ٹیکنالوجی کے ذریعے مستحکم بنانا ہے۔
اجلاس میں صوبائی وزیر تعلیم سردار علی شاہ نے وزیراعلیٰ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اسٹوڈنٹ اٹینڈنس مانیٹرنگ سسٹم جدید ٹیکنالوجی پر مبنی نظام ہے جو طلبہ کے اسکول چھوڑنے کی شرح کم کرے گا اور اساتذہ و طلبہ دونوں کی کارکردگی کو مانیٹر کیا جائے گا۔ ان کے مطابق یہ نظام آف لائن موبائل ایپ کے ذریعے روزانہ اسکولوں سے حاضری اور دیگر اہم معلومات جمع کرے گا۔
سردار علی شاہ نے بتایا کہ سندھ حکومت کا یہ اقدام تعلیمی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائے گا اور صوبے کا یہ نظام جلد ہی ساؤتھ ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکا کے لیے ایک ماڈل کے طور پر سامنے آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی سطح پر اس منصوبے کی باضابطہ تقریب رونمائی جلد کی جائے گی جس میں ورلڈ بینک اور دیگر ترقیاتی اداروں کے نمائندے بھی شریک ہوں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘حکومتی دعوﺅں کے برعکس حالیہ بارشوں میں پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے‘کرنٹ لگنے سے 3 اور آسمانی بجلی گرنے سے 2 افرادجاں بحق ہوئے‘ بارش کے پانی میں ڈوبنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا جبکہ 38 مکانات متاثر ہوئے.(جاری ہے)
پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے مون سون بارشوں کے باعث نقصانات سے متعلق رپورٹ جاری کی ہے ترجمان پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق مون سون بارشوں کے باعث پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ جاں بحق افراد کے خاندانوں کو 10 سے 50 لاکھ روپے تک امداد فراہم کی جا رہی ہے. ادھرمحکمہ موسمیات نے ملک بھر میں موسلا دھار بارش کی پیش گوئی کر تے ہوئے نشیبی علاقے زیر آب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات ظاہر کیئے ہیں رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پورے ملک میں تیز ہواﺅں اور گرج چمک کے ساتھ بیشتر مقامات پر وقفے وقفے سے بارش کا امکان ہے. صوبائی دارلحکومت لاہور میں آج ہونے والی بارش سے واپڈا ٹاﺅن‘ جوہر ٹاﺅن‘ گلبرگ اور ڈیفنس ‘ او پی ایف سوسائٹی‘ ایل ڈی اے ایونیو‘ فیصل ٹاﺅن‘ماڈل ٹاﺅن‘علامہ اقبال ٹاﺅن‘مسلم ٹاﺅن‘گارڈن ٹاﺅن‘سبزہ زار‘ملتان روڈسمیت شہر بھر میں تیزبارش سے شہر کی مرکزی شاہرائیں ندیوں کا منظرپیش کرتی رہیں جبکہ شہر کے نشیبی علاقوں میں پانی گھر میں داخل ہوگیا. شمالی لاہوراور اندرون شہر میں بھی بارش کی پانی کی وجہ سے معمولات زندگی شدید متاثرہوئے . محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چند گھنٹوں کے دوران بھی مزید بارش کا امکان ہے محکمہ موسمیات کے مطابق شام کے وقت درجہ حرات 28ڈگری ریکارڈ کیا گیا جبکہ شہر میں 11 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں تاہم ہوا میں نمی کا تناسب 95 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جس کے باعث موسم مرطوب مگر خوشگوار محسوس کیا جا رہا ہے.