data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

افغان طالبان اور پاکستان کے درمیان جاری کشیدگی نے دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس کا سب سے بڑا نقصان اس وقت افغان تاجروں کو ہو رہا ہے۔ سرحد پر پاکستان میں داخلے کے منتظر افغان ٹرکوں پر لدے تازہ پھل اور سبزیاں شدید خراب ہو رہی ہیں، جس کے باعث افغان تاجروں کو نہ صرف مالی نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے بلکہ انہیں اپنا قیمتی مال مقامی مارکیٹوں میں اونے پونے داموں فروخت کرنے پر بھی مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق، خاص طور پر ٹنوں کے حساب سے انگور خراب ہونے کی اطلاعات ہیں، جو افغانستان کے لیے ایک اہم برآمدی جنس سمجھی جاتی ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ وقت پر سرحد نہ کھلنے اور پاکستان میں داخلے کی اجازت نہ ملنے کی وجہ سے وہ زبردست مالی نقصان کا سامنا کر رہے ہیں، جو ان کے لیے ناقابل برداشت ہے۔

اس صورتحال نے افغانستان کے تجارتی حلقوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے، جہاں پاکستان سے تعلقات کی بہتری اور تجارتی راستوں کی فوری بحالی کے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں۔ تاجر برادری کا کہنا ہے کہ تجارت کو سیاست کی نذر کرنا دونوں ممالک کے عوام کے لیے نقصان دہ ہے اور اس سے نہ صرف روزگار کے مواقع کم ہو رہے ہیں بلکہ خطے میں عدم استحکام بھی بڑھ رہا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی ٹرانسپورٹیشن کو کراچی پورٹس سے روکنے کے احکامات جاری کیے گئے تھے۔ ان احکامات کے بعد سرحدی علاقوں میں سینکڑوں کنٹینرز پھنس کر رہ گئے ہیں۔ کوئٹہ اور پشاور کے راستوں پر بھی بڑی تعداد میں گاڑیاں کھڑی ہیں جبکہ ڈرائیور بارڈر کھلنے کا انتظار کر رہے ہیں۔

موجودہ صورتحال میں دونوں ممالک کے درمیان فوری مذاکرات اور تجارتی روابط کی بحالی وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے تاکہ تاجروں کا نقصان روکا جا سکے اور خطے میں اقتصادی استحکام بحال ہو۔

ویب ڈیسک مقصود بھٹی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: رہے ہیں رہا ہے

پڑھیں:

بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان

اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔

سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔

حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔

سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔

اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔

متعلقہ مضامین

  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
  • بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار