اپوزیشن اتحاد کی سعودی عرب کی افغانستان کے ساتھ مذاکرات کی اپیل کی حمایت
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان (ٹی ٹی اے پی) نے سعودی عرب کی افغانستان کے ساتھ مذاکرات کی اپیل کی حمایت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اندرونی و بیرونی مسائل پر غور کے لیے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کرے۔
نجی اخبار کی رپورٹ کے مطابق اپوزیشن اتحاد نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے نامزد وزیرِاعلیٰ کو اقتدار کی منتقلی میں رکاوٹیں ڈال رہی ہے۔
اسلام آباد میں مصطفیٰ نواز کھوکھر کی رہائش گاہ پر ہونے والے ٹی ٹی اے پی کے اجلاس میں اتحاد کے سربراہ محمود خان اچکزئی، سلمان اکرم راجا، اسد قیصر، محمد زبیر، علامہ احمد رضوی، ساجد ترین، زین شاہ، حسین احمد یوسفزئی، خالد یوسف چوہدری، اسد عباس اور دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔
شرکا نے تجویز دی کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اندرونی و بیرونی امور پر غور کے لیے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلائے۔
نامزد کے پی وزیرِاعلیٰ کیلئے رکاوٹیں پیدا کرنے کا الزام
ایک بیان میں ٹی ٹی اے پی نے وفاقی وزرا کے بیانات کی مذمت کی، جنہیں اس نے خیبرپختونخوا میں اقتدار کی منتقلی میں رکاوٹ قرار دیا، اور خبردار کیا کہ اس طرح کے اقدامات صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو مزید بگاڑ سکتے ہیں۔
اتحاد نے یہ الزام بھی لگایا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کا فیصلہ، جس کے تحت خیبرپختونخوا اسمبلی کے ارکان کو آزاد امیدوار قرار دیا گیا، غیر جمہوری ہے اور اس کا مقصد صوبائی اسمبلی میں ہارس ٹریڈنگ کو فروغ دینا ہے۔
شرکا نے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں امن و امان اور دہشت گردی کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور زور دیا کہ ان مسائل کے حل کے لیے صوبائی حکومتوں اور مقامی آبادی کو اعتماد میں لیا جائے۔
تاہم، مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر عرفان صدیقی نے ٹی ٹی اے پی کے بیان کو ’شرمناک‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اتحاد نے عسکریت پسندوں کی مذمت کرنے کے بجائے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بدنام کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے مطالبے کی بات تو پہلے ہی سے کی جا رہی تھی، اور اسی وجہ سے صوبہ دہشت گردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ٹی ٹی اے پی کیا کہ کے لیے
پڑھیں:
اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔
Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026
انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔
دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا
انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔
It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026
ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔
انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان
پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔
انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور
صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔
انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب