بلوچستان: وڈھ میں مشتبہ گاڑی سے 10 کلو چرس برآمد، ملزم گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
کوئٹہ:
لیویز فورس نے بلوچستان کے ضلع وڈھ میں منشیات اسمگلنگ کی کوشش ناکام بنادی۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق لیویز فورس نے ضلع وڈھ کے دور دراز علاقے گاسلیٹی چیک پوسٹ پر کارروائی کے دوران ایک مشتبہ گاڑی سے 10 کلوگرام چرس برآمد کرکے رحمت اللہ نامی ایک ملزم کو گرفتار کرلیا۔
برآمد ہونے والی منشیات پلاسٹک کی تھیلیوں میں پیک تھی جس کی مالیت لاکھوں روپے بتائی جا رہی ہے، گرفتار ملزم رحمت اللہ مقامی رہائشی ہے جس نے ابتدائی تفتیش میں منشیات کی اسمگلنگ کے نیٹ ورک سے وابستگی کا اعتراف کیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ملزم نے بتایا کہ یہ منشیات افغانستان کی سرحد سے پار کرکے بلوچستان کے اندرونی علاقوں میں تقسیم کی جاتی ہیں اور اس کی ترسیل کوئٹہ کے مختلف بازاروں تک کی جاتی ہے۔
ملزم کے خلاف انسداد منشیات ایکٹ 1997 کی شقوں کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جبکہ مزید تفتیش جاری ہے تاکہ نیٹ ورک کے دیگر ارکان کو بھی پکڑا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
کراچی:ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔
درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔
درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔