اے این ایف کا ملک گیر کریک ڈاؤن، کروڑوں کی منشیات برآمد، خاتون سمیت 5 گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
راولپنڈی:
اے این ایف کے ملک گیر کریک ڈاؤن میں کروڑوں روپے مالیت کی منشیات برآمد کرکے خاتون سمیت 5 افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔
ترجمان کے مطابق اینٹی نارکوٹکس فورس نے تعلیمی اداروں کے اطراف اور ملک کے مختلف شہروں میں منشیات اسمگلنگ کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کیا ہے اور 5 مختلف کارروائیوں کے دوران خاتون سمیت 5 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔
حکام نے کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 136.
اسلام آباد کے سیکٹر ایچ-9 میں یونیورسٹی کے قریب گاڑی سے 380 گرام چرس برآمد کی گئی، جب کہ گرفتار ملزم نے طلبہ کو منشیات فروخت کرنے کا اعتراف بھی کیا ہے۔
دیگر کارروائیوں میں باچا خان ایئرپورٹ پشاور سے شارجہ جانے والے مرد اور خاتون کے پیٹ سے مجموعی طور پر 134 ہیروئن بھرے کیپسولز (690 گرام وزنی) برآمد کیے گئے۔ اسی طرح اٹک کے حاجی شاہ بس اسٹاپ پر مسافر کے قبضے سے 500 گرام افیون، ملتان کے شاہ شمس تبریز ٹول پلازہ کے قریب ملزم کے بیگ سے 250 گرام ہیروئن اور پنجگور کے سی پیک روڈ پر ایک فیکٹری کے قریب ٹرک سے 135 کلوگرام آئس برآمد کی گئی۔
ترجمان کے مطابق تمام ملزمان کے خلاف انسدادِ منشیات ایکٹ 1997 کے تحت مقدمات درج کر کے مزید تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: برآمد کی
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔