پی پی کا مجلس عاملہ اجلاس: ملکی سیاسی صورتحال کا جائزہ
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
—فائل فوٹو
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی مرکزی مجلسِ عاملہ کے اجلاس میں ملکی سیاسی صورتِ حال کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
بلاول ہاؤس کراچی میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی زیرِ صدارت اجلاس میں پارٹی کے تمام مرکزی رہنما موجود ہیں۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں صدرِ مملکت آصف علی زرداری، چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف، وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، وزیرِ اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی، قمر زمان کائرہ، منظور وسان، شرجیل انعام میمن و دیگر شریک ہیں۔
ذرائع کے مطابق مجلسِ عاملہ کے اجلاس میں پی پی پی پنجاب سے تعلق رکھنے والے اراکین نے تحفظات سے متعلق آگاہی دی۔
ذرائع کے مطابق اس موقع پر بلاول بھٹو زرداری نے سانحۂ کار ساز کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور پارٹی رہنماؤں کو وزیرِ اعظم اور وفاقی وزراء سے ہونے والی ملاقات سے متعلق بتایا۔
بلاول بھٹو نے وزیرِ اعظم شہباز شریف سے ملاقات کے حوالے سے اجلاس کے شرکاء کو اعتماد میں لیا۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے نوابشاہ میں سینیٹر اسحاق ڈار سے ہونے والی گفتگو پر رہنماؤں کو اعتماد میں لیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اجلاس میں
پڑھیں:
مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
نیویارک:اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال تیزی سے قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور پورا خطہ ایک ایسے خطرناک موڑ پر پہنچ چکا ہے جس کے نتائج ناقابلِ تصور ہو سکتے ہیں۔
سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ ناقابلِ تصور تباہی کے کنارے پر کھڑا ہے اور خطہ مسلسل وسیع ہوتے ہوئے تصادم کے دائرے میں کھنچتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہو رہی ہے ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے جبکہ ہر روز نئی کشیدگی مزید خطرناک حالات پیدا کر رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سربراہ کے مطابق جیسے جیسے تنازع پھیل رہا ہے ویسے ویسے سیاسی مقاصد پس منظر میں چلے جا رہے ہیں اور تصادم خود ہی ایک مستقل بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مزید کشیدگی کو روکنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں کیونکہ موجودہ حالات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔