Islam Times:
2026-07-24@05:01:54 GMT

کوئٹہ، علامہ مقصود ڈومکی کی بی این پی رہنماؤں سے ملاقات

اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT

کوئٹہ، علامہ مقصود ڈومکی کی بی این پی رہنماؤں سے ملاقات

بی این پی رہنماؤں سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ سیاسی رہنماؤں کیخلاف انتقامی کارروائیاں اور بی این پی مینگل کے قائد و کارکنوں کیخلاف جھوٹے مقدمات اس انتقامی سیاست کی واضح مثال ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنماء علامہ مقصود علی ڈومکی نے بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء و سابق گورنر بلوچستان ملک عبدالولی کاکڑ، سابق وفاقی وزیر آغا حسن بلوچ، سابق ایم پی اے میر نصیر شاہوانی، سابق میئر کوئٹہ میر مقبول احمد لہڑی، میر غلام نبی مری اور دیگر رہنماؤں سے ملاقات کی۔ ملاقات میں ملکی سیاسی صورت حال، آئین کی بالادستی اور جمہوری حقوق کے تحفظ کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ ملک بھر میں سیاسی و جمہوری جدوجہد کرنے والوں کے لیے گھٹن اور جبر کا ماحول پیدا کر دیا گیا ہے۔ فارم 47 کی بنیاد پر آنے والے حکمرانوں اور ان کے سرپرستوں نے ملک میں ظلم و تشدد کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ مریدکے میں ایک سیاسی و مذہبی جماعت کے خلاف طاقت کا استعمال افسوسناک اور غیر جمہوری اقدام ہے۔ بلوچستان میں سیاسی رہنماؤں کے خلاف انتقامی کارروائیاں اور بی این پی مینگل کے قائد و کارکنوں کے خلاف جھوٹے مقدمات اس انتقامی سیاست کی واضح مثال ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سانحہ کوئٹہ اور دہشت گردی کے دیگر واقعات میں ملوث عناصر کو بے نقاب کرکے نشان عبرت بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ آئین و جمہوریت کے تحفظ کے لیے تحریک تحفظ آئین پاکستان کے پلیٹ فارم سے مجلس وحدت مسلمین، بلوچستان نیشنل پارٹی، پاکستان تحریک انصاف اور دیگر جمہوری جماعتیں مشترکہ جدوجہد کر رہی ہیں۔ اس موقع پر سابق گورنر بلوچستان ملک عبدالولی کاکڑ نے کہا کہ ملک میں آئین و قانون کی بالادستی کے بغیر استحکام ممکن نہیں۔ مریدکے میں سیاسی کارکنوں پر جبر و تشدد قابلِ مذمت ہے۔ سابق میئر کوئٹہ میر مقبول احمد لہڑی نے کہا کہ کوئٹہ میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے جلسہ عام پر دہشت گرد حملہ اور اس سے قبل لکپاس کے مقام پر سردار اختر جان مینگل اور پی این پی کے پُرامن دھرنے پر دہشت گردی کے واقعات جمہوری قوتوں کو دبانے کی ناکام کوششیں ہیں۔ کئی ماہ گذر جانے کے باوجود ان سانحات میں ملوث مجرموں کو ظاہر نہیں کیا گیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: علامہ مقصود بی این پی نے کہا کہ

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد
  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن