پیپلزپارٹی کا یوم تاسیس: صدر مملکت کا پارٹی کے بانی رہنماؤں کو خراجِ عقیدت
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے 58ویں یومِ تاسیس کے موقع پر پارٹی کے بانی رہنماؤں کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے اٹھاون ویں یومِ تاسیس پر اپنے پیغام میں صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ذوالفقار علی بھٹو شہید اور بینظیر بھٹو کو خراجِ عقیدت کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کی جدوجہد نے پاکستان میں جمہوریت کو مضبوط کیا، آمریت کے خلاف مزاحمت اور عوامی حقوق کی بحالی پیپلز پارٹی کا تاریخی کارنامہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ 1973ء کا متفقہ آئین بھٹو شہید کا تاریخی تحفہ ہے، وفاق کے استحکام اور قومی یکجہتی میں پیپلز پارٹی کا کلیدی کردار ہے، گلگت بلتستان و آزاد کشمیر میں اصلاحات پیپلز پارٹی کا اہم کارنامہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد پیپلز پارٹی نے رکھی، زمین، مزدور، تعلیم اور سماجی انصاف کی تاریخی اصلاحات پیپلز پارٹی کی شناخت ہیں، MRD سے ARD تک، پیپلز پارٹی جمہوری ارتقا کی معمار رہی ہے، چارٹر آف ڈیموکریسی اور اٹھارویں ترمیم پیپلز پارٹی کا جمہوری ورثہ ہیں۔
آصف علی زرداری نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان میں پیپلز پارٹی کی شمولیت اہم ہے، پیپلز پارٹی ہمیشہ مزدور، کسان، خواتین اور اقلیتوں کی آواز رہی ہے، محروم طبقات کی شمولیت پارٹی کے مشن کا مرکز ہے۔
صدر مملکت کا مزید کہنا تھا کہ جمہوریت، مساوات اور سماجی انصاف کے عزم کی تجدید کی ضرورت ہے، خواتین و اقلیتوں کی بااختیاری پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے، کارکنان جمہوری اتحاد کو برقرار رکھیں، پیپلز پارٹی ایک روادار، روشن خیال پاکستان کیلئے پرعزم ہے۔
.ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی کا پارٹی کے
پڑھیں:
گورنر سندھ کی تعیناتی پر پیپلز پارٹی کے تحفظات دور کر رہے ہیں: رانا ثناء اللّٰہ
رانا ثناء اللّٰہ—فائل فوٹووزیرِ اعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللّٰہ کا کہنا ہے کہ گورنر سندھ کی تعیناتی سے متعلق ہماری مشاورت ہوئی ہے، پیپلز پارٹی کے تحفظات دور کر رہے ہیں۔
پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آبادمیں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ ہمارے تعلقات بہتر ہیں اور پیپلز پارٹی ہمارے ساتھ ہے۔
رانا ثناء اللّٰہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں تباہی کے ذمے دار بانیٔ پی ٹی آئی اور وہ لوگ ہیں جو 2018ء میں انہیں اقتدار میں لائے۔ بانیٔ کے اقتدار میں آنے کے بعد جو 4 سال گزرے ان ہی میں تباہی ہوئی، بہت کوششوں کے باوجود وہ 4 سالہ تباہی ختم نہیں ہو رہی، اس ساری تباہی کی ذمے دار اُس وقت کی اسٹیبلشمنٹ ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ جنرل فیض حمید کا ٹرائل چل رہا ہے، یہ سارے چہرے خود ہی اپنے انجام کو پہنچیں گے، مسلم لیگ ن کی ترجیحات ان کو انجام تک پہنچانا نہیں ہے، اس وقت ہماری ترجیحات یہ ہیں کہ ملک کو سنبھالا جائے۔
انہوں نے کہا کہ جمہوریت مکالمے سے آگے بڑھتی ہے لیکن بانی پی ٹی آئی نے ڈیڈ لاک پیدا کیا۔
وزیرِ اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور کا کہنا ہے کہ ہماری کوشش ہے کہ ملک کو ترقی دی جائے، عام آدمی کو آسانی دی جائے، معرکۂ حق میں کامیابی کے بعد پوری دنیا میں پاکستان کی عزت ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کی کرپشن سے متعلق رپورٹ کی کوئی اہمیت نہیں، موجودہ حکومت یا پچھلی پی ڈی ایم کی حکومت میں کوئی اسکینڈل سامنے نہیں آیا، کرپشن کا کسی کے پاس ثبوت ہو تو سامنے لائے۔
رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ بھارت اپنا آپریشن سندور افغانستان کے ذریعے چلا رہا ہے، بھارت اب براہِ راست پاکستان پر یلغار کی جرأت نہیں کر سکتا، وہ افغانستان کو فنڈنگ کر کے گمراہ کر رہا ہے، ہم افغانستان کے اوپر کوئی جنگ مسلط نہیں کرنا چاہتے۔
ان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی حکومت نے نہیں بلکہ اسپیکر نے کرنی ہے، موجودہ حکومت اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر اپنی مدت پوری کرے گی۔
وزیرِ اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور نے کہا کہ بھارتی میڈیا بانیٔ پی ٹی آئی سے متعلق بے بنیاد خبریں چلا رہا ہے۔ وہ بالکل صحت مند ہیں، ایکسر سائز بھی کررہے ہیں، جیل میں بانیٔ پی ٹی آئی کو مکمل سہولتیں دی جا رہی ہیں، ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں۔
انہوں نے کہا کہ جیل میں بیٹھ کر اگر کوئی قیدی اسلام آباد پر چڑھائی کے منصوبے بنائے تو ملاقاتیں کیسے کروائیں؟ اس کی دو تین مثالیں پہلے بھی موجود ہیں کہ اسلام آباد پر دھاوا بولا گیا۔
رانا ثناء اللّٰہ نے یہ بھی کہا کہ کون سا قانون اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ جیل میں بیٹھ کر ملک کے خلاف تحریک چلائی جائے، بانیٔ پی ٹی آئی کو کسی اور جیل میں منتقل کرنے کی کوئی تجویز نہیں۔