پیپلز پارٹی کا 58ویں یومِ تاسیس: صدر آصف علی زرداری کا ذولفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کو خراج تحسین
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے 58ویں یومِ تاسیس کے موقع پر پارٹی کے بانی رہنماؤں کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے جمہوریت، سماجی انصاف اور عوامی بااختیاری کے عزم کو ایک بار پھر دہرایا ہے۔
اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے 58ویں یومِ تاسیس پر ہم اپنے بانی چیئرمین شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جن کے وژن، جرات اور قربانیوں نے پاکستان کی جمہوری بنیادوں کو مضبوط کیا اور آنے والی نسلوں کو حوصلہ دیا۔
یہ بھی پڑھیے: صدرِ مملکت کا سانحۂ کارساز کی برسی پر بینظیر بھٹو اور شہدائے جمہوریت کو خراجِ عقیدت
صدر زرداری نے پارٹی کی تاریخی جدوجہد کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہر دور میں قوم کو درپیش چیلنجز کا سامنا کیا۔ جب ملک میں آمریت کا راج تھا، پیپلز پارٹی نے جمہوری مزاحمت کی علامت بن کر عوام کے حقوق کی بحالی کے لیے جدوجہد کی۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی نے ہمیشہ جمہوری نظام کو مستحکم کرنے، قومی یکجہتی کو فروغ دینے اور سیاسی عمل کو صحیح سمت میں رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
انہوں نے شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دور کے اہم اقدامات یاد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو 1973 کا متفقہ آئین بھٹو شہید کی قیادت میں ملا، جو آج بھی ہماری جمہوریت کی اساس ہے۔ پیپلز پارٹی وفاق کی مضبوطی، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں اصلاحات، ملک کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد اور زمین، محنت کشوں، تعلیم اور سماجی انصاف کے شعبوں میں انقلابی اصلاحات پر فخر کرتی ہے۔
صدر زرداری نے ایم آر ڈی، اے آر ڈی، چارٹر آف ڈیموکریسی، 18ویں ترمیم اور نیشنل ایکشن پلان جیسے اہم جمہوری مراحل میں پارٹی کے مرکزی کردار کا بھی حوالہ دیا۔
یہ بھی پڑھیے: یوم استحصال کشمیر پر صدر زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کے خصوصی پیغامات
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ مزدوروں، کسانوں، خواتین، اقلیتوں اور پسے ہوئے طبقات کی آواز رہی ہے، اور یہی شاملیتی سوچ پارٹی کے سیاسی فلسفے کی بنیاد ہے۔
صدر زرداری نے اپنے کارکنوں کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ آئیں اس دن کے موقع پر ہم جمہوریت، سماجی انصاف، مساوات اور عوامی بااختیاری کے عزم کو ایک بار پھر تازہ کریں، خصوصاً خواتین اور اقلیتوں کی شمولیت جن کی شرکت ایک پرامن اور تکثیری پاکستان کے لیے ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں پارٹی کارکنوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ جمہوری اتحاد کو برقرار رکھیں، وفاق کی حفاظت کریں اور روادار، ترقی پسند پاکستان کے لیے کام کریں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی پارٹی کے کے لیے
پڑھیں:
دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
گلگت: پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں. امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں. جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں. میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں. گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں، سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے.
قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔چیئرمین پی پی کا کہنا تھا کہ انہیں کون سمجھائے کہ بھٹو کے 70ء کے دور میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق یہاں سے پچاس ہزار میگا واٹ تک بجلی پیدا کی جاسکتی ہے اور یہاں ایک پروفیسر یہ کہہ کر خوش ہورہا ہے کہ یہاں سو میگا واٹ بجلی دینا میرے داہنے ہاتھ کا کام ہے، اگر داہنے ہاتھ کا کام ہے تو کیا کیوں نہیں؟ ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے اپنی بجلی پیدا کریں گے اور اسلام کو فروخت کریں گے.پروفیسر کو فروخت کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔