سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کے کردار کو کم کرنے میں پیپلز پارٹی کا کردار ڈھکا چھپا نہیں، سعید غنی
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
پریس کانفرنس کے دوران سندھ کے سینئر وزیر نے کہا کہ آج بھی تمام جماعتیں آئین پر متفق ہیں جو پیپلز پارٹی نے دیا، اس ملک کو ایٹم بم اور میزائیل بھی پیپلز پارٹی نے دیئے، صوبائی خودمختاری بھی پیپلز پارٹی نے دی، ہماری قیادت نے قربانی دے کر مثال قائم کی۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر و صدر پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن سعید غنی نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی و قائد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے 58 سال قبل پیپلز پارٹی کی جب بنیاد رکھی تھی اس وقت پاکستان کی سیاست جاگیرداروں اور وڈیروں کے ڈرائینگ روم تک محدود تھی اور پیپلز پارٹی کے قیام کے بعد سے آج تک ملکی سیاست عام عوام، مزدوروں، محنت کشوں اور متوسط و غریب طبقہ کے ہاتھوں میں آگئی ہے، سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کے کردار کو کم سے کم کرنے میں پیپلز پارٹی کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، البتہ اس کی ذمہ داری دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ عدلیہ، صحافیوں اور سول سوسائٹی پر بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ اس میں اپنا بھرپور کردار کریں تاکہ سیاست اور جمہوریت اس کی اصل روح کے تحت قائم رہ سکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے شاہ احمد نورانی عیدگاہ گراؤنڈ میں پرہجوم پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
سعید غنی نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے قیام سے پہلے اس ملک کی سیاست پر امیروں، وڈیروں اور جاگیرداروں کا قبضہ تھا اور ان کی سیاست ڈرائنگ روم سے کی جاتی تھی لیکن پیپلز پارٹی بننے کے بعد سے عام لوگوم پر سیاست کے دروازے کھلے، پیپلز پارٹی کے آنے کے بعد جو تبدیلی آئی وہ کسی پارٹی کے حصے میں نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی تمام جماعتیں آئین پر متفق ہیں جو پیپلز پارٹی نے دیا، اس ملک کو ایٹم بم اور میزائیل بھی پیپلز پارٹی نے دیئے، صوبائی خودمختاری بھی پیپلز پارٹی نے دی۔ سعید غنی نے کہا کہ ہماری قیادت نے قربانی دے کر مثال قائم کی اور ان 58 سالوں میں تاریخی کامیابیوں کے ساتھ تکلیفیں بھی ملیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بھی پیپلز پارٹی نے پیپلز پارٹی کے نے کہا کہ کی سیاست
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔