Islam Times:
2025-11-29@04:24:15 GMT

غزہ جنگ بندی نیتن یاہو کی سیاسی موت ثابت ہوگی، سروے

اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT

غزہ جنگ بندی نیتن یاہو کی سیاسی موت ثابت ہوگی، سروے

یہ نتائج انتہائی دائیں بازو کے ووٹر بیس میں گہری ناراضگی اور مایوسی کی عکاسی کرتے ہیں، جو جنگ بندی کے معاہدے کو اپنے نظریات کے ساتھ غداری کے طور پر دیکھتے ہیں۔ بین گویراور اسموٹریچ، جنہوں نے ہمیشہ حماس کے مکمل طور پر تباہ ہونے اور تمام قیدیوں کی واپسی تک فوجی آپریشن جاری رکھنے پر اصرار کیا ہے، اب انہیں سیاسی منظر نامے سے مکمل طور پر ہٹائے جانے کے خطرے کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مقبوضہ فلسطین میں کیےگئےسروے سے حاصل ہونیوالے اعدادوشمار اور نتائج کے مطابق 48 فیصد جواب دہندگان قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ مکمل ہونے کے بعد عام انتخابات چاہتے ہیں،اس سے موجودہ اسرائیلی کابینہ پر گہرے عدم اعتماد اور تبدیلی کی خواہش کی نشاندہی ہوتی ہے۔ انسانی اور جغرافیائی سیاسی نتائج سے قطع نظر غزہ جنگ بندی معاہدے نے مقبوضہ علاقوں میں ایک سیاسی زلزلہ برپا کر دیا ہے۔

تازہ ترین سروےسے پتہ چلتا ہے کہ معاہدے نے بنجمن نیتن یاہو کی اتحادی کابینہ کو پہلے سے کہیں زیادہ خطرے میں ڈال دیا ہے۔ صہیونی اخبار معاریو میں شائع ہونے والے ایک سروے میں حکمران اتحاد کی نازک سیاسی حالت کی واضح تصویر پیش کی گئی ہے: حزب اختلاف نے 59 نشستوں کے ساتھ نیتن یاہو کے اتحاد (51 نشستوں) کو 8 نشستوں سے پیچھے چھوڑ دیا ہے، یہ خلا اسرائیل کے سیاسی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلیوں کے امکانات کو ظاہر کرتا ہے۔

زیادہ حیران کن نیتن یاہو کی کابینہ میں موجود انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کی کمزور حالت ہے۔ جیوش پاور پارٹی، جس کی قیادت موجودہ وزیر داخلہ اتمار بین گویر کے پاس ہے، اس کی مقبولیت میں تیزی سے کمی کے ساتھ، صرف چھ نشستوں پر بچیں گئیں۔ دریں اثناء، مذہبی صہیونی جماعت، جس کی قیادت وزیر خزانہ، اسموٹریج کر رہے ہیں، اگر قبل از وقت انتخابات کرائے جاتے ہیں تو ایک بھی نشست نہیں جیت پائے گی۔

یہ نتائج انتہائی دائیں بازو کے ووٹر بیس میں گہری ناراضگی اور مایوسی کی عکاسی کرتے ہیں، جو جنگ بندی کے معاہدے کو اپنے نظریات کے ساتھ غداری کے طور پر دیکھتے ہیں۔ بین گویراور اسموٹریچ، جنہوں نے ہمیشہ حماس کے مکمل طور پر تباہ ہونے اور تمام قیدیوں کی واپسی تک فوجی آپریشن جاری رکھنے پر اصرار کیا ہے، اب انہیں سیاسی منظر نامے سے مکمل طور پر ہٹائے جانے کے خطرے کا سامنا ہے۔ اس صورتحال نے نیتن یاہو کو مخمصے میں ڈال دیا ہے۔

ایک طرف، انتہائی دائیں بازو کے ساتھ اتحاد جاری رکھنے کا مطلب جنگ کے خاتمے اور استحکام کی طرف بڑھنے کے عوامی مطالبے کو نظر انداز کرنا ہے۔ دوسری طرف، اپوزیشن پر فتح حاصل کرنے اور وسیع تر اتحاد بنانے کی کوششیں بین گویراور اسموٹریچ کی کابینہ سے علیحدگی اور حکومت کے خاتمے کا باعث بن سکتی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ غزہ کی جنگ بندی نے نہ صرف وقتی طور پر جنگ کی آگ کو بجھا دیا ہے بلکہ نیتن یاہو کے اتحاد کی راکھ کے نیچے موجود چنگاری کا کام کرتے ہوئے ایک ایسی آگ بھی جلائی ہے جو کسی بھی لمحے بھڑک سکتی ہے اور اسرائیل کے سیاسی ڈھانچے کو تبدیل کر سکتی ہے۔

بن گویر اور اسموٹریج بھی مکمل طور پرایک مشکل تعطل میں پھنس گئے ہیں، ان کی کابینہ سے علیحدگی اور نیتن یاہو کے اتحاد کے خاتمے کا نتیجہ ان تمام افراد کی سیاسی زندگیوں کا خاتمہ ہو گا (نیتن یاہو، بین گویراور اسموٹریچ)، اور ان کے اتحاد کی طرف سے غزہ جنگ میں باضابطہ شکست بھی ان کی سیاسی زندگی کا خاتمہ شمار ہوگی۔غزہ کے ان جلادوں کے لیے کوئی تیسرا راستہ نہیں ہے۔

.

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: انتہائی دائیں بازو نیتن یاہو کے اتحاد کے ساتھ دیا ہے

پڑھیں:

سب جانتے ہیں آئی ایم ایف کی رپورٹ درست ہے، اسے غلط ثابت نہ کریں، ریحان حنیف

اپنے بیان میں صدر کراچی چیمبر نے کہا کہ فاٹا پاٹا کے لیے ہر مہینے ایک لاکھ پچاس ہزار ٹن کھانے کا تیل درآمد ہوتا ہے تاہم فاٹا میں اس کا محض سات فیصد استعمال ہوتا ہے، باقی ملک میں سیلز ٹیکس کی چھوٹ کے ساتھ فروخت ہوتا ہے، یہ معاملہ محض خوردنی تیل تک محدود نہیں بلکہ ایک فہرست ہے جس میں اسٹیل اور چائے، کھانے کا تیل سرفہرست ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ریحان حنیف نے کہا ہے کہ سب جانتے ہیں کہ آئی ایم ایف کی رپورٹ درست ہے، اسے غلط ثابت نہ کریں بلکہ اس سے اپنی سمت درست کریں۔ ریحان حنیف نے اپنے بیان میں کہا کہ فنڈ کی رپورٹ کہتی ہے کہ یہ ساری مراعات حکومت اور اس کے ماتحت اداروں کے افراد کو جاتی ہیں، سوال یہ ہے کہ کیا وہ اسے ٹھیک کرے گی، درست ہے کہ بات ساری ارادے کی ہے، اگر کرنا چاہیں تو ریاست اور اس کی رعایا کیا کچھ نہیں کر سکتی۔ ریحان حنیف نے کہا کہ فاٹا خیبر پختونخوا میں ضم ہوگیا لیکن اِنہیں دی جانے والی مراعات کا نقصان آج بھی حکومت کو ہو رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہر پاکستانی ایک سال میں اوسط بیس کلو گھی اور تیل استعمال کرتا ہے، اس تناسب سے اگر فاٹا اور پاٹا کی 60 لاکھ آبادی کی سالانہ کھپت نکالی جائے تو یہ ایک لاکھ بیس ہزار ٹن ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا پاٹا کے لیے ہر مہینے ایک لاکھ پچاس ہزار ٹن کھانے کا تیل درآمد ہوتا ہے تاہم فاٹا میں اس کا محض سات فیصد استعمال ہوتا ہے، باقی ملک میں سیلز ٹیکس کی چھوٹ کے ساتھ فروخت ہوتا ہے، یہ معاملہ محض خوردنی تیل تک محدود نہیں بلکہ ایک فہرست ہے جس میں اسٹیل اور چائے، کھانے کا تیل سرفہرست ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سعودی عرب اور امارات کی جانب سے عراق کے سنی بلاک کے اتحاد کے لیے بننے والی "قومی سیاسی کونسل" سے عدم توجہی
  • کوئٹہ ،جرم ثابت ہونے پر بینک ملازم کے قاتل کو عمر قید کی سزا
  • جنگ بندی کا اعلان سیاسی چال‘ ٹرمپ کردار ادا کریں‘ سوڈانی فوج
  • عظیم لیڈر کو مکمل تنہائی میں رکھنا بدترین سیاسی انتقام ہے‘حلیم عادل
  • اکثر فرانسیسیوں کی رائے ہے کہ روس ان کے ملک پر حملہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا، سروے
  • قوم کے مقبول ترین لیڈر کو مکمل تنہائی میں رکھنا بدترین سیاسی انتقام ہے، حلیم عادل شیخ
  • سب جانتے ہیں آئی ایم ایف کی رپورٹ درست ہے، اسے غلط ثابت نہ کریں، ریحان حنیف
  • سوڈان نے ریپڈ سپورٹ فورسز کا جنگ بندی کا اعلان سیاسی چال قرار دیدیا
  • سب جانتے ہیں آئی ایم ایف کی رپورٹ درست ہے، اسے غلط ثابت نہ کریں: ریحان حنیف
  • پاکستان میں بیروزگار افراد کی تعداد 80 لاکھ ہوگئی، خیبر پختونخوا سب سے آگے