Islam Times:
2026-07-24@01:42:23 GMT

غزہ جنگ بندی نیتن یاہو کی سیاسی موت ثابت ہوگی، سروے

اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT

غزہ جنگ بندی نیتن یاہو کی سیاسی موت ثابت ہوگی، سروے

یہ نتائج انتہائی دائیں بازو کے ووٹر بیس میں گہری ناراضگی اور مایوسی کی عکاسی کرتے ہیں، جو جنگ بندی کے معاہدے کو اپنے نظریات کے ساتھ غداری کے طور پر دیکھتے ہیں۔ بین گویراور اسموٹریچ، جنہوں نے ہمیشہ حماس کے مکمل طور پر تباہ ہونے اور تمام قیدیوں کی واپسی تک فوجی آپریشن جاری رکھنے پر اصرار کیا ہے، اب انہیں سیاسی منظر نامے سے مکمل طور پر ہٹائے جانے کے خطرے کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مقبوضہ فلسطین میں کیےگئےسروے سے حاصل ہونیوالے اعدادوشمار اور نتائج کے مطابق 48 فیصد جواب دہندگان قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ مکمل ہونے کے بعد عام انتخابات چاہتے ہیں،اس سے موجودہ اسرائیلی کابینہ پر گہرے عدم اعتماد اور تبدیلی کی خواہش کی نشاندہی ہوتی ہے۔ انسانی اور جغرافیائی سیاسی نتائج سے قطع نظر غزہ جنگ بندی معاہدے نے مقبوضہ علاقوں میں ایک سیاسی زلزلہ برپا کر دیا ہے۔

تازہ ترین سروےسے پتہ چلتا ہے کہ معاہدے نے بنجمن نیتن یاہو کی اتحادی کابینہ کو پہلے سے کہیں زیادہ خطرے میں ڈال دیا ہے۔ صہیونی اخبار معاریو میں شائع ہونے والے ایک سروے میں حکمران اتحاد کی نازک سیاسی حالت کی واضح تصویر پیش کی گئی ہے: حزب اختلاف نے 59 نشستوں کے ساتھ نیتن یاہو کے اتحاد (51 نشستوں) کو 8 نشستوں سے پیچھے چھوڑ دیا ہے، یہ خلا اسرائیل کے سیاسی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلیوں کے امکانات کو ظاہر کرتا ہے۔

زیادہ حیران کن نیتن یاہو کی کابینہ میں موجود انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کی کمزور حالت ہے۔ جیوش پاور پارٹی، جس کی قیادت موجودہ وزیر داخلہ اتمار بین گویر کے پاس ہے، اس کی مقبولیت میں تیزی سے کمی کے ساتھ، صرف چھ نشستوں پر بچیں گئیں۔ دریں اثناء، مذہبی صہیونی جماعت، جس کی قیادت وزیر خزانہ، اسموٹریج کر رہے ہیں، اگر قبل از وقت انتخابات کرائے جاتے ہیں تو ایک بھی نشست نہیں جیت پائے گی۔

یہ نتائج انتہائی دائیں بازو کے ووٹر بیس میں گہری ناراضگی اور مایوسی کی عکاسی کرتے ہیں، جو جنگ بندی کے معاہدے کو اپنے نظریات کے ساتھ غداری کے طور پر دیکھتے ہیں۔ بین گویراور اسموٹریچ، جنہوں نے ہمیشہ حماس کے مکمل طور پر تباہ ہونے اور تمام قیدیوں کی واپسی تک فوجی آپریشن جاری رکھنے پر اصرار کیا ہے، اب انہیں سیاسی منظر نامے سے مکمل طور پر ہٹائے جانے کے خطرے کا سامنا ہے۔ اس صورتحال نے نیتن یاہو کو مخمصے میں ڈال دیا ہے۔

ایک طرف، انتہائی دائیں بازو کے ساتھ اتحاد جاری رکھنے کا مطلب جنگ کے خاتمے اور استحکام کی طرف بڑھنے کے عوامی مطالبے کو نظر انداز کرنا ہے۔ دوسری طرف، اپوزیشن پر فتح حاصل کرنے اور وسیع تر اتحاد بنانے کی کوششیں بین گویراور اسموٹریچ کی کابینہ سے علیحدگی اور حکومت کے خاتمے کا باعث بن سکتی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ غزہ کی جنگ بندی نے نہ صرف وقتی طور پر جنگ کی آگ کو بجھا دیا ہے بلکہ نیتن یاہو کے اتحاد کی راکھ کے نیچے موجود چنگاری کا کام کرتے ہوئے ایک ایسی آگ بھی جلائی ہے جو کسی بھی لمحے بھڑک سکتی ہے اور اسرائیل کے سیاسی ڈھانچے کو تبدیل کر سکتی ہے۔

بن گویر اور اسموٹریج بھی مکمل طور پرایک مشکل تعطل میں پھنس گئے ہیں، ان کی کابینہ سے علیحدگی اور نیتن یاہو کے اتحاد کے خاتمے کا نتیجہ ان تمام افراد کی سیاسی زندگیوں کا خاتمہ ہو گا (نیتن یاہو، بین گویراور اسموٹریچ)، اور ان کے اتحاد کی طرف سے غزہ جنگ میں باضابطہ شکست بھی ان کی سیاسی زندگی کا خاتمہ شمار ہوگی۔غزہ کے ان جلادوں کے لیے کوئی تیسرا راستہ نہیں ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: انتہائی دائیں بازو نیتن یاہو کے اتحاد کے ساتھ دیا ہے

پڑھیں:

آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق

آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات سے قبل اہم سیاسی پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس نے انتخابی اتحاد اور مختلف حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے پر اتفاق کر لیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر میں انتخابی عمل سبوتاژ کرنے کی کوششیں ناکام بنائیں گے، چیف الیکشن کمشنر کا واضح پیغام

یہ اتفاق رائے استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر کے صدر اور سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان کے درمیان ملاقات کے دوران ہوا۔

ملاقات میں آزاد کشمیر کی مجموعی سیاسی صورتحال، آئندہ قانون ساز اسمبلی کے انتخابات اور دونوں جماعتوں کے درمیان انتخابی تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

دونوں رہنماؤں نے مختلف انتخابی حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے کی منظوری دے دی جبکہ انتخابات کے بعد بھی مشترکہ حکمت عملی کے تحت آگے بڑھنے پر اتفاق کیا گیا۔

مزید پڑھیے: تنویر الیاس کے قافلے پر حملہ، وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور کی شدید مذمت

ملاقات میں فیصلہ کیا گیا کہ دونوں جماعتوں کی مشترکہ رابطہ کمیٹی جلد مختلف حلقوں میں امیدواروں کی حمایت اور سیٹ ایڈجسٹمنٹ سے متعلق حتمی اعلان کرے گی۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اس اتحاد کو آزاد کشمیر کے انتخابات میں ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ دونوں جماعتیں مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے انتخابی میدان میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

مزید پڑھیں: آزاد کشمیر میں آئندہ حکومت استحکام پاکستان پارٹی کی ہوگی، تنویر الیاس کا دعویٰ

ملاقات کے موقع پر سابق معاون خصوصی سردار امتیاز شاہین، مسلم کانفرنس یوتھ ونگ کے چیئرمین سردار عثمان عتیق، کھائیگلہ پونچھ سے مسلم کانفرنس کے نامزد امیدوار ڈاکٹر عرفان اشرف، سابق امیدوار اسمبلی سردار منظور ایڈووکیٹ، سابق ڈی جی ہیلتھ سردار محمود خان، پولیٹیکل ایڈوائزر سردار افتخار رشید، ممبر میونسپل کارپوریشن باغ سردار شجاع منگول ایڈووکیٹ، سابق پولیٹیکل سیکرٹری سردار شبریز صابر، پیر عبدالقادر، سردار عفان عتیق، راجہ عبدالجبار اور اسٹاف آفیسر سردار حفیظ خان بھی موجود تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر تنویر الیاس اور سرادر عتیق احمد کی ملاقات سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان

متعلقہ مضامین

  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل