ندا ممتاز موت کے مُنہ سے کیسے واپس آئیں؟ اداکارہ کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 11th, October 2025 GMT
سینئر اداکارہ ندا ممتاز نے پہلی بار اپنے ساتھ پیش آنے والے ایک سنگین واقعے پر بات کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ وہ ایک مرتبہ موت کے قریب پہنچ گئی تھیں، لیکن اپنے بچوں کی خاطر زندگی کی جنگ جیت گئیں۔
ندا ممتاز نےایک ٹی وی پروگرام میں شرکت کے دوران بتایا کہ وہ اپنی زندگی کے ایک ایسے مشکل مرحلے سے گزریں جب وہ تقریباً مرنے کے قریب تھیں۔
انہوں نے واقعے کی تفصیل بتانے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ، میں اس واقعے کی تفصیل کبھی نہیں بتاؤں گی، یہ بہت ذاتی اور تکلیف دہ ہے، لیکن میں موت کے قریب تھی۔
ندا ممتاز نے بتایا کہ اس مشکل وقت میں ان کے بچے، خصوصاً بیٹی، ان کے لیے سب سے بڑی قوت ثابت ہوئیں۔
انہوں نے کہا کہ، میں بس اللہ کے سامنے ڈٹ گئی کہ مجھے زندگی دے تاکہ میں اپنے بچوں کے لیے جی سکوں۔ میں نے ہار نہیں مانی اور آخرکار اللہ نے مجھے دوبارہ کھڑا ہونے کی ہمت دی۔
ان کا کہنا تھا کہ قوت ارادی وہ طاقت ہے جو ہر عورت میں ہونی چاہیے، کیونکہ اس کے ذریعے آپ بڑے سے بڑے معرکے سر کر لیتے ہیں اور ویسے بھی ہرایک کی زندگی میں مشکلات آتی ہیں جس کاسامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ عام سی بات ہے۔
اس واقعے کے بعد ندا ممتاز نے نہ صرف اپنی صحت بحال کی بلکہ اداکاری میں بھی شاندار واپسی کی۔ آج بھی ٹی وی اسکرین پر سرگرم ہیں اور کئی کامیاب ڈراموں کا حصہ بن چکی ہیں۔
ندا ممتاز کا فنی سفر 1980 کی دہائی میں فلموں سے شروع ہوا۔ وہ اس دور میں لولی ووڈ کے مقبول چہروں میں شمار ہوتی تھیں۔ بعدازاں انہوں نے ٹیلی ویژن کا رخ کیا اور ”دل نہیں مانتا“، ”خیال“، ”خواب نگر“ اور دیگر مشہور ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔
ان کی بھانجی صدف کنول بھی پاکستان کی معروف ماڈل و اداکارہ ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ندا ممتاز نے
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔