جامعات کی فیسوں میں اضافہ حکومتی منظوری سے مشروط
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
کراچی:
سندھ حکومت نے تمام سرکاری جامعات میں طلبہ کی فیسوں میں اضافے کو حکومتی منظوری سے مشروط کردیا۔
وزیر جامعات و تعلیمی بورڈز سندھ محمد اسماعیل راہو نے کہا ہے کہ صوبے میں 9 ویں سے 12 ویں جماعت تک نیا گریڈنگ سسٹم لانے پر بھی غور جاری ہے جس کے لیے سندھ کے مختلف تعلیمی بورڈز سے تجاویز اور اعتراضات موصول ہو چکے ہیں، تکنیکی مسائل کے حل کے بعد نیا گریڈنگ سسٹم نافذ کیا جائے گا جو بین الاقوامی معیار کے مطابق ہوگا۔
محمد اسماعیل راہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ وفاقی حکومت جامعات کی گرانٹ میں اضافہ نہیں کر رہی جس کے باعث سرکاری جامعات مالی دباؤ کا شکار ہیں۔ اس صورتحال میں سندھ حکومت اضافی گرانٹ فراہم کر کے تعلیمی عمل کو متاثر ہونے سے بچا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پبلک سیکٹر جامعات اخراجات میں اضافے کے باعث فیسیں بڑھاتی ہیں لیکن اب انہیں پابند کیا جائے گا کہ اگر کسی جامعہ کو فیسوں میں اضافہ کرنا ہو تو پہلے حکومت سے منظوری لی جائے۔
انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ پر اضافی مالی بوجھ نہیں ڈالا جائے گا، تعلیمی اخراجات کا زیادہ تر حصہ پہلے ہی حکومت برداشت کر رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پیٹرول مہنگا ہو تو موٹرسائیکل سوار متاثر نہیں ہوتے، مشیر خزانہ کے بیان پر شدید ردعمل
نوٹیفکیشن کے مطابق اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔
نئی قیمتیں نافذجاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ملک بھر کے پیٹرول پمپوں پر صارفین کو نئی قیمتوں کے مطابق ادائیگی کرنا ہوگی۔
عوام پر مزید مالی دباؤ کا خدشہمعاشی ماہرین کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں پر بھی دباؤ آ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:ایران جنگ کے اثرات: پیٹرول مہنگا، یورپ میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں 51 فیصد اضافہ
ڈیزل کی قیمت میں اضافہ خاص طور پر مال بردار ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے اخراجات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
حکومت ہر 15 روز بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، درآمدی لاگت، روپے کی قدر اور ٹیکسوں کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیتی تھی لیکن اب روزانہ کی بنیاد پر یہ عمل جاری ہے۔
اسی جائزہ عمل کے تحت تازہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمتیں ملک بھر میں نافذ العمل ہو گئی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پیٹرول پیٹرولیم مصنوعات درآمدی لاگت ڈیزل روپے کی قدر عالمی منڈی مہنگا