وفاقی حکومت نے افغانستان کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق اس اقدام کا مقصد سرحدی سیکیورٹی کو یقینی بنانا اور ملکی سلامتی کو لاحق ممکنہ خطرات کو فوری طور پر روکا جانا ہے۔ اس فیصلے کا سب سے براہِ راست اور سنگین اثر افغانستان کی معیشت پر پڑنے کا امکان ہے کیونکہ افغانستان پر درآمد اور ٹرانزٹ سے ہونے والی آمدنی اور اشیائے ضروریہ کی روانی رک جائے گی۔
حکومت کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سرحد پر موجودہ کشیدگی اور سیکیورٹی خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر ٹرانزٹ اجازت نامے معطل کیے جا رہے ہیں۔ بعض سرکاری اہلکاروں نے میڈیا کو بتایا (ذرائع کے حوالہ سے) کہ اس اقدام کا مقصد ممکنہ ہنگامہ آرائی، اسلحہ اور ممنوعہ سامان کی ترسیل کو روکے رکھنا ہے۔ ذرائع نے یہ بھی کہا کہ اگر افغانستان نے’’وقت حاصل کرنے‘‘ یا کسی دوسری حکمتِ عملی کے طور پر وقتی جنگ بندی کا اعلان کیا ہے تو پاکستان اسے بین الاقوامی سلامتی کے تناظر میں قبولیت کے طور پر نہیں دیکھے گا۔ یہ بیان حکومت کی سخت حکمتِ عملی اور تحملِ مزاجی دونوں کے اشارات دیتا ہے۔
تجارتی ماہرین اور سرحدی تاجروں کا کہنا ہے کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی معطلی سے افغانستان کو سب سے زیادہ براہِ راست نقصان ہوگا، کیونکہ افغانستان اپنے بہت سے اشیائے ضروریہ اور ری-ایکسپورٹ شدہ سامان کے لیے پڑوسی ممالک پر انحصار کرتا ہے۔ ٹرانزٹ بندش سے ٹرانسپورٹرز، بارڈر مارکیٹس، اور لاجسٹکس سے وابستہ چھوٹے بڑے تاجروں کی آمدنی متاثر ہوگی۔ مقامی تاجروں اور کونسلز سے تصدیق درکار ہے کہ روزمرہ اشیائے خوردونوش، صنعتی خام مال اور ادویات کی ترسیل کتنی متاثر ہو رہی ہے؛ یہ اعداد و شمار فی الحال قابلِ تصدیق رپورٹنگ سے ہی سامنے آ سکتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا

کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا۔

اتوار کو دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر کے الیکٹرک کے جبری شٹ ڈاؤن سے کراچی کو پانی کی فراہمی معطل ہوئی جبکہ پیر کو کے الیکٹرک کی مین کیبل میں فالٹ کے باعث حب پمپنگ اسٹیشن کی بجلی معطل ہونے سے پانی کی فراہمی مزید کم ہوگئی۔

موجودہ صورتحال میں بوند بوند کو ترستے شہری ٹینکرز مافیا کے ہاتھوں مہنگا پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔

کراچی واٹر کارپوریشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حب سے کراچی کو یومیہ 85 ملین گیلن پانی کی فراہمی متاثر ہے۔

دوسری جانب کے الیکٹرک کے ترجمان مطابق حب پمپنگ اسٹیشن پر بجلی کی فراہمی متبادل ذرائع سے جاری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مشکل معاشی حالات میں حکومت کا ساتھ دینے پر کاروباری برادری کا شکریہ،حکومت اور نجی شعبے کی مضبوط شراکت داری معاشی ترقی کی ضمانت ہے، وزیراعظم
  • آزاد کشمیر مہاجرین نشستوں کے معاملے پر وفاقی حکومت نرم
  • مختلف علاقوں میں بارشیں ہی بارشیں؛محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کردی
  • وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
  • حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟