افغان ٹرانزٹ ٹریڈ غیر معینہ مدت کے لیے معطل، افغان معیشت کو بڑا نقصان متوقع
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
وفاقی حکومت نے افغانستان کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق اس اقدام کا مقصد سرحدی سیکیورٹی کو یقینی بنانا اور ملکی سلامتی کو لاحق ممکنہ خطرات کو فوری طور پر روکا جانا ہے۔ اس فیصلے کا سب سے براہِ راست اور سنگین اثر افغانستان کی معیشت پر پڑنے کا امکان ہے کیونکہ افغانستان پر درآمد اور ٹرانزٹ سے ہونے والی آمدنی اور اشیائے ضروریہ کی روانی رک جائے گی۔
حکومت کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سرحد پر موجودہ کشیدگی اور سیکیورٹی خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر ٹرانزٹ اجازت نامے معطل کیے جا رہے ہیں۔ بعض سرکاری اہلکاروں نے میڈیا کو بتایا (ذرائع کے حوالہ سے) کہ اس اقدام کا مقصد ممکنہ ہنگامہ آرائی، اسلحہ اور ممنوعہ سامان کی ترسیل کو روکے رکھنا ہے۔ ذرائع نے یہ بھی کہا کہ اگر افغانستان نے’’وقت حاصل کرنے‘‘ یا کسی دوسری حکمتِ عملی کے طور پر وقتی جنگ بندی کا اعلان کیا ہے تو پاکستان اسے بین الاقوامی سلامتی کے تناظر میں قبولیت کے طور پر نہیں دیکھے گا۔ یہ بیان حکومت کی سخت حکمتِ عملی اور تحملِ مزاجی دونوں کے اشارات دیتا ہے۔
تجارتی ماہرین اور سرحدی تاجروں کا کہنا ہے کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی معطلی سے افغانستان کو سب سے زیادہ براہِ راست نقصان ہوگا، کیونکہ افغانستان اپنے بہت سے اشیائے ضروریہ اور ری-ایکسپورٹ شدہ سامان کے لیے پڑوسی ممالک پر انحصار کرتا ہے۔ ٹرانزٹ بندش سے ٹرانسپورٹرز، بارڈر مارکیٹس، اور لاجسٹکس سے وابستہ چھوٹے بڑے تاجروں کی آمدنی متاثر ہوگی۔ مقامی تاجروں اور کونسلز سے تصدیق درکار ہے کہ روزمرہ اشیائے خوردونوش، صنعتی خام مال اور ادویات کی ترسیل کتنی متاثر ہو رہی ہے؛ یہ اعداد و شمار فی الحال قابلِ تصدیق رپورٹنگ سے ہی سامنے آ سکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
جرمنی کی وفاقی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ یکم اگست 2026 یا اس کے بعد توسیع کیے جانے والے افغان پاسپورٹس کو جرمنی میں درست سفری دستاویز کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
وزارت داخلہ کی ترجمان ایلینا سنگر نے افغانستان انٹرنیشنل کو جاری بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ افغان سفارتی مشنز میں پاسپورٹ کے حصول کے طریقہ کار میں ہونے والی تبدیلیوں، بین الاقوامی قانونی تقاضوں اور بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم (ICAO) کی سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جرمنی کے رہائشی قانون (Residence Act) کی دفعہ 3(1) کے تحت ملک میں داخل ہونے یا رہائش اختیار کرنے والے غیر ملکیوں کے لیے لازم ہے کہ ان کے پاس ایک درست اور تسلیم شدہ پاسپورٹ یا اس کے متبادل منظور شدہ سفری دستاویز موجود ہو۔
وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ یکم اگست 2026 سے پہلے توسیع کیے گئے افغان پاسپورٹس اس نئی پالیسی سے متاثر نہیں ہوں گے اور بدستور قابل قبول رہیں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ جرمنی میں اپنے رہائشی اجازت نامے (ریذیڈنس پرمٹ) کی تجدید کے خواہش مند افغان شہریوں کو بھی ایک درست اور تسلیم شدہ سفری دستاویز پیش کرنا ہوگی۔
تاہم جرمنی کے مقامی امیگریشن حکام ہر درخواست کا انفرادی بنیادوں پر جائزہ لیتے رہیں گے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ متعلقہ افغان شہری کے لیے افغان سفارتی مشن سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن اور مناسب ہے یا نہیں۔
اگر متعلقہ اتھارٹی اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ کسی افغان شہری کے لیے افغان سفارت خانے یا قونصل خانے سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن یا مناسب نہیں، تو ایسے فرد کو ٹریول ڈاکیومنٹ فار فارنرز (غیر ملکیوں کے لیے سفری دستاویز) جاری کی جا سکتی ہے۔
جرمن وزارت داخلہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 1951 کے جنیوا ریفیوجی کنونشن کے تحت تسلیم شدہ افغان مہاجرین کو افغان سفارتی مشنز سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ایسے افراد جرمنی کے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے ریفیوجی ٹریول ڈاکیومنٹ حاصل کر سکتے ہیں۔
وزارت کے مطابق اس وقت یہ اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ نئی پالیسی سے کتنے افغان شہری متاثر ہوں گے، تاہم نئے افغان پاسپورٹس کے اجرا کے لیے درخواستیں بدستور دی جا سکتی ہیں۔
جرمن وزارت داخلہ نے یہ بھی واضح کیا کہ اس فیصلے کا جرمنی میں طالبان کی جانب سے مقرر کردہ سفارتی عملے کی موجودگی یا افغان شہریوں کی ملک بدری سے متعلق جرمن حکومت کے پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں