کیا پاکستان کی افغان پالیسی کتنی درست، افغانستان پر ہمارا کنڑول کتنا تھا، سابق کور کمانڈر پشاور کا تبصرہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
پشاور کے سابق کور کمانڈر لیفٹینینٹ جنرل ریٹائرڈ حسن اظہر حیات کا کہنا ہے کہ ہمیشہ کہا جاتا ہے کہ ہماری افغان پالیسی درست نہیں ہے لیکن جتنی صاف اور واضح آج کل پاکستان کی افغان پالیسی ہے اتنی کبھی نہیں رہی۔
یہ بھی پڑھیں: امید ہے کہ افغانستان کی قیادت بھارت کی چال میں نہیں آئے گی، احسن اقبال
اے آر وائی کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے لیفٹینینٹ جنرل ریٹائرڈ حسن اظہر حیات نے کہا کہ افغانستان پراکسیز کا پلے گراؤنڈ رہا ہے لیکن اس کو چاہیے کہ وہ پراکسی والا کام ختم کردے۔
لیفٹینینٹ جنرل ریٹائرڈ حسن اظہر حیات نے کہا کہ پہلے افغانستان کا سینٹر آف گریویٹی کابل ہوتا تھا لیکن اب قندھار اور پکتیکا بھی ہیں کیوں کہ مختلف گروہ مضبوط ہو رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ افغان سرحد کو محفوظ بنانے کے لیے کئی اقدامات کیے اور باڑھ بھی لگائی گئی اور طالبان رجیم سے بھی کہا گیا کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشتگردی کے مقصد میں استعمال نہ ہونے دے۔
مزید پڑھیے: افغانستان نے پاکستان سے تنازع بطور پراکسی بھارت کے اشارے پر شروع کیا، خواجہ آصف
انہوں نے کہا کہ دوحہ معاہدہ محض ایک معاہدہ نہیں بلکہ ایک باقاعدہ پراسس تھا جس کو بتدریج آگے بڑھنا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ معاہدے میں طے ہوا تھا کہ افغانستان کی سرزمین دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔
لیفٹینینٹ جنرل ریٹائرڈ حسن اظہر حیات کے مطابق اس وقت کہا جا رہا تھا کہ افغانستان کا کنٹرول پاکستان کے پاس ہے اور آپ سب کچھ کرسکتے ہیں لیکن آج یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ ایسا کچھ نہیں تھا ہمارا افغانستان پر کنٹرول نہیں تھا جو ہم اس وقت بھی کہتے تھے لیکن کوئی بات ماننے کو تیار نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان سے ڈومور کا مطالبہ کیا جا رہا تھا اور فیٹف کی تلوار بھی لٹک رہی تھی۔
مزید پڑھیں: پیرول پر رہا کریں، افغانستان کا مسئلہ حل کر دوں گا، عمران خان کی پیشکش
ان کا کہنا تھا کہ دوحہ معاہدے میں ٹی ٹی پی کا بھی حل نکالنا چاہیے تھا۔ اس معاہدے کو پبلک نہیں کیا گیا بلکہ پاکستان کو بھی آؤٹ رکھا گیا۔
پاکستان پورے دوحہ معاہدے کو سہولت کاری کے ذریعے آگے ضرور لے کر گیا اور سہولت کار کا کردار ادا کیا جس کے 2 مقاصد تھے ایک امن ہو تو پاکستان کے لیے بہتر ہوجائے اور دوسرا افغانستان میں لڑائی ختم ہوجائے۔
یہ بھی پڑھیے: بھارت کبھی آپ کا خیرخواہ نہیں ہو سکتا، حافظ نعیم الرحمان کا افغانستان کو مشورہ
دوحہ معاہدے کے تحت افغانستان میں امن کے حوالے سے پاکستان کا بھی اہم کردار ہے اور پاکستان نے افغانستان میں جنگ کے خاتمے کے لیے اہم کردار ادا کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغان پالیسی پاکستان دوحہ معاہدہ لیفٹینینٹ جنرل ریٹائرڈ حسن اظہر حیات.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افغان پالیسی پاکستان دوحہ معاہدہ کہ افغانستان افغان پالیسی نے کہا کہ کہ افغان تھا کہ کے لیے
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔