پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعرات کے روز ایک اور غیر مستحکم سیشن دیکھا گیا، جہاں کمزور سرمایہ کارانہ اعتماد کے باعث 100 انڈیکس 1200 سے زائد پوائنٹس گر گیا۔

کاروبار کا آغاز مثبت انداز میں ہوا اور کے ایس ای 100 انڈیکس دن کے دوران بلند ترین سطح 166,864.89 پوائنٹس تک پہنچا۔

تاہم سیشن کے آخری حصے میں منافع کے حصول کے باعث فروخت کے دباؤ نے مارکیٹ کا رجحان منفی کردیا اور انڈیکس کم ہو کر 164,261.

65 کی نچلی ترین سطح تک آگیا۔

یہ بھی پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج میں منافع کے حصول کا رجحان، ابتدائی تیزی زائل

مارکیٹ کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 1,241.67 پوائنٹس 0.75 فیصد کی کمی کے بعد 164,444.71 پر بند ہوا۔

Market Close Update: Negative Today! ????
???????? KSE 100 ended negative by -1,241.7 points (-0.75%) and closed at 164,444.7 with trade volume of 1.4 billion shares and value at Rs. 34.33 billion. Today's index low was 164,262 and high was 166,865. pic.twitter.com/h0N0n337Rn

— Investify Pakistan (@investifypk) October 16, 2025

بدھ کے روز بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ملا جلا رجحان دیکھا گیا تھا، جب سرمایہ کاروں نے گزشتہ سیشن کی مضبوط تیزی کے بعد منافع سمیٹنے کو ترجیح دی۔

اس روز کے ایس ای 100 انڈیکس میں 210.36 پوائنٹس 0.13 فیصد کا اضافہ ہوا تھا اور انڈیکس 165,686.38 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔

مزید پڑھیں: اسٹاک مارکیٹ بلند ترین سطح پر پہنچ کر مندی سے دوچار، کیا معیشت خطرے میں ہے؟

بین الاقوامی سطح پر جمعرات کو بیشتر ایشیائی منڈیوں میں اضافہ دیکھا گیا، خاص طور پر چِپ سیکٹر میں امریکی مارکیٹ کی راتوں رات مضبوط کارکردگی کے بعد نمایاں تیزی آئی۔

وال اسٹریٹ پر منافع بخش کمائی کے سیزن کے آغاز نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید سہارا دیا۔

اسی دوران بیجنگ اور واشنگٹن کے درمیان بڑھتی تجارتی کشیدگی کے باعث سرمایہ کاروں نے سونا اور جاپانی ین جیسی محفوظ سرمایہ کاریوں کا رخ کیا، جس سے ڈالر پر دباؤ پڑا۔

جاپان کا نکی انڈیکس 0.8 فیصد بڑھا، جبکہ تائیوان میں 1.4 فیصد، جنوبی کوریا کا کوسپی 1.8 فیصد، اور آسٹریلیا کا انڈیکس 1.1 فیصد بڑھ کر اپنی بلند ترین سطحوں پر پہنچ گئے۔

مزید پڑھیں: پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخی بلندی کا ملک کی معیشت سے کتنا تعلق ہے؟

ہانگ کانگ اور چین کی مارکیٹیں بھی ابتدائی دباؤ کے باوجود آخرکار مثبت بند ہوئیں۔

امریکی اسٹاک فیوچرز نسبتاً مستحکم رہے، جب کہ ایک دن قبل S&P 500 میں 0.4 فیصد اور نیسڈیک میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا تھا۔

دوسری جانب، پاکستانی روپے نے جمعرات کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی بہتری دکھائی۔ انٹر بینک مارکیٹ میں اختتام پر روپے کی قدر میں 0.01 روپے کا معمولی اضافہ ہوا۔

تمام شئیرز کے اشاریے پر کاروباری حجم بڑھ کر 3.078 ارب حصص تک جا پہنچا، جو گزشتہ روز کے 1.528 ارب حصص سے نمایاں زیادہ ہے۔

مزید پڑھیں:سعودی اعلیٰ سطحی وفد کا دورہ پاکستان ملکی معیشت کے لیے اہم کیوں ہے؟

تاہم، حصص کی مجموعی مالیت 68.60 ارب روپے سے گھٹ کر 50.61 ارب روپے رہ گئی۔

کے الیکٹرک لمیٹڈ کاروباری حجم میں سب سے آگے رہا، جس کے 1.022 ارب حصص کا لین دین ہوا۔

اس کے بعد ورلڈ کال ٹیلی کام کے 953.71 ملین اور ٹیلی کارڈ لمیٹڈ کے 99.87 ملین حصص کا کاروبار ہوا۔

جمعرات کو مجموعی طور پر 484 کمپنیوں کے حصص کا لین دین ہوا، جن میں سے 174 کمپنیوں کے حصص کی قیمت میں اضافہ، 269 میں کمی، اور 41 میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

100 انڈیکس پاکستان اسٹاک ایکسچینج

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: 100 انڈیکس پاکستان اسٹاک ایکسچینج

پڑھیں:

بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے

دنیا کی سب سے بڑی اور مقبول ترین کرپٹو کرنسی ’بٹ کوائن‘ کی قیمت میں اچانک تاریخی گراوٹ دیکھی گئی ہے، جس کے بعد یہ 70 ہزار ڈالر کی نفسیاتی سطح سے بھی نیچے گر گیا ہے۔

مارکیٹ رپورٹ کے مطابق اس اچانک کمی کے نتیجے میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرپٹو مارکیٹ سے تقریباً 80 کروڑ (800 ملین) ڈالر مالیت کی لیوریجڈ ٹریڈنگ پوزیشنز یکدم ختم (لیکویڈیٹ) ہو گئی ہیں، جس سے سرمایہ کاروں کو شدید ترین نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

قیمتوں میں گراوٹ اور مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں کمی

مارکیٹ کے تازہ ترین ڈیٹا کے مطابق منگل کو ’بٹ کوائن‘ کی قیمت گر کر تقریباً 69,400 ڈالر کی کم ترین سطح پرآگئی، جو گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 4.4 فیصد کی نمایاں ترین کمی کو ظاہر کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا مذاکرات کا دوسرا دور، بٹ کوائن کی قیمت پر کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں؟

مارکیٹ کیپٹلائزیشن کے لحاظ سے دنیا کی سرفہرست 10 کرپٹو کرنسیوں میں یہ سب سے بڑی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ بٹ کوائن کے اس زوال کے اثرات پوری کرپٹو مارکیٹ پر مرتب ہوئے، جس کے باعث مجموعی ڈیجیٹل مارکیٹ ویلیو 3 فیصد سے زیادہ کمی کے بعد تقریباً 2.47 ٹریلین ڈالر تک نیچے آگئی ہے۔

ٹریڈرزکے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے

کرپٹو مارکیٹ کے اعداد و شمار فراہم کرنے والے معتبر عالمی ادارے ’کوائن گلاس‘ کے مطابق حالیہ فروخت کے شدید دباؤ کی وجہ سے 24 گھنٹوں میں 800 ملین ڈالر کی پوزیشنز مارکیٹ سے آؤٹ ہوئیں۔

ڈیٹا کے مطابق لانگ پوزیشنزمیں تقریباً 700 ملین ڈالر (قیمت بڑھنے کی امید پر لگائے گئے سودے) جبکہ شارٹ پوزیشنز میں تقریباً 100 ملین ڈالر (قیمت گرنے کی امید پر لگائے گئے سودے) شامل ہیں۔

سب سے زیادہ نقصان بٹ کوائن سے منسلک ٹریڈرز کو برداشت کرنا پڑا، جن کی تقریباً 500 ملین ڈالر مالیت کی پوزیشنز ڈوب گئیں، جو کہ مجموعی مارکیٹ لیکویڈیشنز کا سب سے بڑا حصہ ہے۔

’ای ٹی ایف‘ آؤٹ فلو دباؤ میں اضافہ

کرپٹو کرنسی سے وابستہ مبصرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق اس بڑی فروخت کی سب سے بڑی وجہ اسپاٹ بٹ کوائن ایکسچینج ٹریڈ فنڈ (ای ٹی ایف)  سے سرمایہ کاروں کا مسلسل پیسہ نکالنا ہے۔

مزید پڑھیں:مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران بٹ کوائن مضبوط، قیمت 80 ہزار ڈالر تک پہنچنے کا امکان

اسپاٹ بٹ کوائن ای ٹی ایف سے مسلسل 11 تجارتی سیشنز سے سرمایہ کا اخراج (نیٹ آؤٹ فلو) ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جبکہ اسپاٹ ’ایتھیریم ای ٹی ایف‘ سے بھی مسلسل 15 سیشنز سے سرمایہ نکالا جا رہا ہے۔

کرپٹو تجزیہ کار ’ایمبر سی این‘ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ جب سے اسپاٹ ای ٹی ایف مصنوعات کا آغاز ہوا ہے، بٹ کوائن اور ایتھیریم کی قیمتیں ای ٹی ایف فنڈز کے بہاؤ سے بہت زیادہ منسلک ہو چکی ہیں، یہی وجہ ہے کہ فنڈز کے اخراج کا براہِ راست اور فوری اثر قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔

ایتھیریم مارکیٹ میں نسبتاً مستحکم

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس شدید مندی کے دوران دوسری بڑی کرپٹو کرنسی ’ایتھیریم‘ نے مارکیٹ میں نسبتاً بہتر اور مستحکم کارکردگی دکھائی۔ ایتھیریم کی قیمت تقریباً 1,970 ڈالر کے قریب برقرار رہی اور اس میں بٹ کوائن کے مقابلے میں کم اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔

ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ اگر ای ٹی ایف سے سرمایہ کے اخراج کا یہ سلسلہ نہ رکا تو کرپٹو مارکیٹ پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ عالمی سرمایہ کار آنے والے چند دنوں میں مارکیٹ کے رجحان پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اخراج ای ٹی ایف بٹ کوائن ڈالر سرمایہ کاروں عالمی سرمایہ کرپٹو مارکیٹ گراوٹ ماہرین معیشت ملین ڈالر

متعلقہ مضامین

  • پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش
  • بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس میں کتنے فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے؟
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر