اسٹاک مارکیٹ میں ملا جلا رجحان، 100 انڈیکس میں 1241 پوائنٹس کی کمی
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی : پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج کاروبار کا ملا جلا رجحان رہا تاہم اختتام شدید مندی کےساتھ ہوا۔
کاروباری ہفتے کے چوتھے روز بھی کاروبار کے آغاز پر اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی دیکھنے میں آئی، 1000 سے زائد پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں ہنڈرڈ انڈیکس ایک لاکھ 66 ہزار 864 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ گیا۔
بعدازاں ٹریڈنگ کے دوران اسٹاک مارکیٹ میں اچانک مندی چھاگئی جو کاروباری روز کے اختتام تک برقرار رہی جس کے باعث ہنڈرڈ انڈیکس 1241 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ ایک لاکھ 64 ہزار 444 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔
واضح رہے کہ گزشتہ کاروباری روز کے اختتام پر ہنڈرڈ انڈیکس 210 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ ایک لاکھ 65 ہزار 686 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسٹاک مارکیٹ میں پوائنٹس کی
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔