اسلام آباد (خصوصی رپورٹر+ نوائے وقت رپورٹ) وفاقی آئینی عدالت کی چاروں صوبوں میں رجسٹریاں قائم کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ جبکہ جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ ابھی ٹرانزیشن کے مرحلہ میں ہیں، آئینی عدالت کی پرنسپل سیٹ سے رجسٹریوں میں ویڈیو لنک سہولت بھی دی جائے گی۔ وفاقی آئینی عدالت میں سردیوں کی تعطیلات کا اعلان کر دیا گیا۔ تاہم ارجنٹ کیسز کی سماعت چھٹیوں کے دوران بھی ہوگی۔ آئینی عدالت میں سردیوں کی تعطیلات کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔ آئینی عدالت میں 22 دسمبر سے 4 جنوری تک تعطیلات ہوں گی۔ آئینی عدالت 5 جنوری کو دوبارہ اوپن ہوگی۔ آئینی عدالت کے دفاتر کھلے رہیں گے۔ دریں اثناء اسلام آباد ہائی کورٹ ججز ٹرانسفر کیس میں وفاقی آئینی عدالت نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ ججز کی انٹراکورٹ اپیل عدم پیروی پر خارج کردی۔ کراچی بار کی اپیل بھی عدم پیروی پر خارج جبکہ بانی پی ٹی آئی کے وکیل اور لاہور ہائی کورٹ بار، لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے وکیل کو وقت فراہم کرتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت تک کیلئے ملتوی کردی۔ جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں چھ رکنی آئینی عدالت نے جسٹس سردار سرفراز ڈوگر و دیگر ججز کے تبادلوں کو درست قرار دینے کے فیصلے کیخلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت کی۔ بینچ میں جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس علی باقر نجفی، جسٹس کے کے آغا، جسٹس روزی خان اور جسٹس ارشد حسین شاہ بھی شامل تھے۔ وکیل منیر اے ملک پیش نہ ہوئے۔ کراچی بار اور اسلام آباد بار کے سابق صدر کے وکیل فیصل صدیقی بھی عدالت میں پیش نہ ہوئے۔ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور لاہور ہائی کورٹ بار کے وکیل حامد خان کے معاون وکیل اجمل طور پیش ہوئے اور کیس ملتوی کرنے کی استدعا کی۔ بانی پی ٹی آئی کے وکیل ادریس اشرف نے موقف اختیار کیا کہ میرے موکل اڈیالہ جیل میں قید ہے، ان سے ہدایات لینی ہیں۔ عدالت نے بانی پی ٹی آئی کے وکیل کی استدعا منظور کرتے ہوئے انہیں ہدایات لینے کیلئے وقت دیدیا۔ بانی پی ٹی آئی کے وکیل ادریس اشرف نے کہا وفاقی آئینی عدالت مکمل انصاف کی فراہمی کے آرٹیکل 187 کا استعمال کرے۔ جسٹس امین الدین خان نے کہا یہ ہمارا کام نہیں، جس عدالتی فورم نے سزا دی ان سے رجوع کریں۔ دریں اثناء وفاقی آئینی عدالت نے نئی گیج ڈیم کی تعمیر سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران واپڈا اور ٹھیکیدار کو مل بیٹھ کر معاملہ حل کرنے کی ہدایت کر دی۔ چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں آئینی عدالت کے 3 رکنی بنچ نے سماعت کی، جس میں جسٹس ارشد حسین بھی شامل تھے۔ جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ اگر بات چیت کے ذریعے تنازع حل نہ ہوا تو عدالت فیصلہ سنائے گی۔ بعدازاں عدالت نے کیس کی سماعت 3 ہفتوں کے لئے ملتوی کر دی۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: بانی پی ٹی ا ئی کے وکیل جسٹس امین الدین خان وفاقی ا ئینی عدالت ہائی کورٹ بار عدالت میں عدالت نے

پڑھیں:

مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔

یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی