آئینی عدالت رجسٹر یاں قائم کر نے کا فیصلہ ججز ٹرانسفرا پیل عدم پیروی پر خارج
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
اسلام آباد (خصوصی رپورٹر+ نوائے وقت رپورٹ) وفاقی آئینی عدالت کی چاروں صوبوں میں رجسٹریاں قائم کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ جبکہ جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ ابھی ٹرانزیشن کے مرحلہ میں ہیں، آئینی عدالت کی پرنسپل سیٹ سے رجسٹریوں میں ویڈیو لنک سہولت بھی دی جائے گی۔ وفاقی آئینی عدالت میں سردیوں کی تعطیلات کا اعلان کر دیا گیا۔ تاہم ارجنٹ کیسز کی سماعت چھٹیوں کے دوران بھی ہوگی۔ آئینی عدالت میں سردیوں کی تعطیلات کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔ آئینی عدالت میں 22 دسمبر سے 4 جنوری تک تعطیلات ہوں گی۔ آئینی عدالت 5 جنوری کو دوبارہ اوپن ہوگی۔ آئینی عدالت کے دفاتر کھلے رہیں گے۔ دریں اثناء اسلام آباد ہائی کورٹ ججز ٹرانسفر کیس میں وفاقی آئینی عدالت نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ ججز کی انٹراکورٹ اپیل عدم پیروی پر خارج کردی۔ کراچی بار کی اپیل بھی عدم پیروی پر خارج جبکہ بانی پی ٹی آئی کے وکیل اور لاہور ہائی کورٹ بار، لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے وکیل کو وقت فراہم کرتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت تک کیلئے ملتوی کردی۔ جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں چھ رکنی آئینی عدالت نے جسٹس سردار سرفراز ڈوگر و دیگر ججز کے تبادلوں کو درست قرار دینے کے فیصلے کیخلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت کی۔ بینچ میں جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس علی باقر نجفی، جسٹس کے کے آغا، جسٹس روزی خان اور جسٹس ارشد حسین شاہ بھی شامل تھے۔ وکیل منیر اے ملک پیش نہ ہوئے۔ کراچی بار اور اسلام آباد بار کے سابق صدر کے وکیل فیصل صدیقی بھی عدالت میں پیش نہ ہوئے۔ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور لاہور ہائی کورٹ بار کے وکیل حامد خان کے معاون وکیل اجمل طور پیش ہوئے اور کیس ملتوی کرنے کی استدعا کی۔ بانی پی ٹی آئی کے وکیل ادریس اشرف نے موقف اختیار کیا کہ میرے موکل اڈیالہ جیل میں قید ہے، ان سے ہدایات لینی ہیں۔ عدالت نے بانی پی ٹی آئی کے وکیل کی استدعا منظور کرتے ہوئے انہیں ہدایات لینے کیلئے وقت دیدیا۔ بانی پی ٹی آئی کے وکیل ادریس اشرف نے کہا وفاقی آئینی عدالت مکمل انصاف کی فراہمی کے آرٹیکل 187 کا استعمال کرے۔ جسٹس امین الدین خان نے کہا یہ ہمارا کام نہیں، جس عدالتی فورم نے سزا دی ان سے رجوع کریں۔ دریں اثناء وفاقی آئینی عدالت نے نئی گیج ڈیم کی تعمیر سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران واپڈا اور ٹھیکیدار کو مل بیٹھ کر معاملہ حل کرنے کی ہدایت کر دی۔ چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں آئینی عدالت کے 3 رکنی بنچ نے سماعت کی، جس میں جسٹس ارشد حسین بھی شامل تھے۔ جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ اگر بات چیت کے ذریعے تنازع حل نہ ہوا تو عدالت فیصلہ سنائے گی۔ بعدازاں عدالت نے کیس کی سماعت 3 ہفتوں کے لئے ملتوی کر دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی ا ئی کے وکیل جسٹس امین الدین خان وفاقی ا ئینی عدالت ہائی کورٹ بار عدالت میں عدالت نے
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔