وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے صنم جاوید کی گرفتاری کا نوٹس لے لیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
نو منتخب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے عہدہ سنبھالتے ہی پہلا اہم اقدام اٹھاتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی خاتون کارکن صنم جاوید کی گرفتاری کا نوٹس لے لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید پشاور میں وزیراعلیٰ ہاؤس کے قریب سے گرفتار ہوئیں یا اغوا؟
وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ خیبرپختونخوا کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے اس حوالے سے انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس خیبر پختونخوا کو فوری طور پر اپنے دفتر طلب کیا اور واقعے کی تفصیلات طلب کیں۔
وزیر اعلیٰ نے آئی جی پی کو ہدایت کی کہ صنم جاوید واقعے سے متعلق تمام پہلوؤں پر مشتمل جامع رپورٹ تیار کر کے کل تک وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ میں پیش کی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: صنم جاوید کی گرفتاری پر خیبرپختونخوا حکومت پوزیشن واضح کرے، جنید اکبر کا مطالبہ
سہیل آفریدی نے واضح کیا کہ صوبے میں قانون کی عمل داری ہر صورت یقینی بنائی جائے گی اور کسی شہری کے ساتھ ناانصافی برداشت نہیں کی جائے گی، وزیر اعلیٰ کی جانب سے یہ ہدایت اس وقت سامنے آئی ہے جب مختلف حلقوں کی جانب سے صنم جاوید کے ساتھ پیش آنے والے واقعے پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا تھا۔
یاد رہے کہ پی ٹی آئی سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ صنم جاوید کو ایک ہفتہ قبل پشاور سے گرفتار کیا گیا تھا، صنم جاوید کی گاڑی کو راستے میں روک کر اُنہیں حراست میں لیا گیا، یہ واقعہ دیگر مسافروں کے سامنے پیش آیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news تحریک انصاف سہیل آفریدی سوشل میڈیا صنم جاوید وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: تحریک انصاف سہیل ا فریدی سوشل میڈیا صنم جاوید وزیراعلی خیبرپختونخوا صنم جاوید کی وزیر اعلی
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔