گل بہادرگروپ کے خارجیوں کیخلاف گزشتہ شب ٹارگٹڈکارروائی میں 60 سے70خوارج ہلاک ہوگئے؛ عطا اللہ تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
ویب ڈیسک : وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ 48 گھنٹے طویل سیز فائر کے دوران افغانستان سے خارجیوں نے پاکستان میں متعدد دہشت گرد حملے کرنے کی کوشش کی تاہم سکیورٹی فورسز نے مؤثر جوابی کارروائی میں حملوں کو ناکام بناتے ہوئے 100 سے زائد خوارج کو ہلاک کردیا جب کہ گل بہادرگروپ کے خارجیوں کے خلاف ٹارگٹڈ کارروائی میں بھی کم از کم 60 سے 70 خوارج مارےگئے۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے ایک بیان میں کہا کہ سیز فائر کے دوران افغانستان سے خارجیوں کے دہشت گرد حملےکرنے کی کوشش پر سکیورٹی فورسز نے مؤثر طریقے سے جواب دیا، سکیورٹی فورسز نے شمالی اور جنوبی وزیرستان کے سرحدی علاقوں میں خارجی گل بہادر گروپ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جس میں 100 سے زائد خوارج مارےگئے۔انہوں نے کہا کہ خارجی گل بہادرگروپ نے شمالی وزیرستان میں گاڑی پر بھی آئی ای ڈی سے حملہ کیا، حملے میں میں شہریوں سمیت ایک سپاہی شہید اور متعدد زخمی ہوئے۔
دکی ؛ کوئلے کی کان میں مٹی کا تودہ گرنے سے دو کان کن جاں بحق
وفاقی وزیر اطلاعات کے مطابق سکیورٹی فورسز نےگل بہادرگروپ کے خارجیوں کے خلاف گزشتہ رات ٹارگٹڈ کارروائی کی، مصدقہ اطلاعات کے مطابق کارروائی میں کم از کم 60 سے 70 خوارج مارےگئے۔ انہوں نے کہا کہ کارروائی میں عام شہریوں کو نشانہ بنانے سے متعلق تمام قیاس آرائیاں اور دعوے غلط ہیں، ان دعوؤں کا مقصد افغانستان کے اندر سے کام کرنے والے دہشت گرد گروپوں کی حمایت پیدا کرنا ہے۔
عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ پاکستان یقین رکھتا ہے بھارتی سرپرستی میں افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کے پیچیدہ مسئلےکا حل مذاکرات کے ذریعے ممکن ہے، افغان حکام کی جانب سے غیر ریاستی عناصر پر مؤثر کنٹرول کی صورت میں اس کا حل ممکن ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اپنی علاقائی سالمیت اور پاکستان کے عوام کی جانوں کے تحفظ کے تمام حقوق حاصل ہیں، ہم افغانستان کی سرزمین سے سرگرم دہشت گردوں کو چین سے نہیں بیٹھنے دیں گے۔
وزیراعلیٰ سندھ سے قمر زمان کائرہ کی ملاقات،سیاسی صورتحال اور پارٹی امور پر گفتگو
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سکیورٹی فورسز عطا اللہ تارڑ کارروائی میں گل بہادرگروپ کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔