ٹرمپ اور پیوٹن یوکرینی جنگ بندی کیلیے ہنگری میں ملاقات پر متفق
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251018-06-13
واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ ہنگری میں ملاقات کریں گے۔ یہ پیشرفت دونوں رہنماؤں کے درمیان 2 گھنٹے سے زائد فون پر ہونے والے گفتگو کے بعد سامنے آئی، جسے دونوں نے مثبت اور نتیجہ خیز قرار دیا۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے ولادیمیر پیوٹن سے فون پر بات چیت کے بعد ٹروتھ سوشل پر ایک پیغام جاری کیا، جس میں ان کا کہنا تھا کہ پیوٹن کے ساتھ کال نتیجہ خیز تھی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ دونوں ممالک کے اعلیٰ سطح کے مشیر اگلے ہفتے ملاقات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ روسی صدر اور میں پھر طے شدہ مقام بڈاپسٹ میں ملاقات کریں گے تاکہ دیکھ سکیں کہ کیا ہم روس اور یوکرین کے درمیان جاری اس جنگ کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے اعلیٰ سطح کے مشیر اگلے ہفتے ملاقات کریں گے، جس کی قیادت امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کریں گے، تاہم ملاقات کی جگہ کا اعلان تاحال نہیں کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ پیوٹن کے ساتھ اپنی گفتگو کی تفصیلات وائٹ ہاؤس میں یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلینسکی سے ملاقات کے دوران بیان کریں گے۔ انہوں نے اپنی پوسٹ کا اختتام ان الفاظ کے ساتھ کیا کہ مجھے یقین ہے کہ آج کی ٹیلیفونک گفتگو کے نتیجے میں بڑی پیش رفت ہوئی ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے بھی اپنے بیان میں بتایا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان فون کال 2گھنٹے سے زیادہ جاری رہی۔کیرولین لیوٹ کا مزید کہنا تھا کہ ٹرمپ غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کے فوراً بعد امن مذاکرات شروع کرنے پر بڑے کریڈٹ کے مستحق ہیں۔ دوسری جانب پیوٹن کے خصوصی ایلچی نے بھی دونوں رہنماؤں کے درمیان فون کال نتیجہ خیز اور مثبت قرار دی۔ پیوٹن کے خصوصی ایلچی کیریل دیمترییف نے کہا کہ روسی صدر اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان گفتگو مثبت رہی۔ انہوں نے ایکس پر ایک تصویر کے ساتھ پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ کے اقدامات واضح ہیں۔
یوکرین کے علاقے چارنیہل پر روسی ڈرون حملے کے باعث عمارت میں آگ بھڑک رہی ہے
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ملاقات کریں گے ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان پیوٹن کے انہوں نے کے ساتھ نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔