Jasarat News:
2026-07-24@04:47:07 GMT

ان تازہ خداؤں میں…!

اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پاکستان اور افغان کشیدگی میں ابھی تک ٹھیراؤ آتا دکھائی نہیں دے رہا۔ ہر آنے والا دن کشیدگی میں اضافہ کرتا جا رہا۔ ایک طرف افغان سرحدوں کی جانب سے ہر روز سرحدی خلاف ورزیاں جاری ہیں تو دوسری جانب پاکستان کی جوابی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ معاملہ اس لحاظ سے افسوسناک ہے دونوں جانب مارے اور شہید ہونے والے کلمہ گو ہیں اور دونوں اپنی ہلاکتوں کو شہادت اور دوسرے کی شہادتوں کو ہلاکت قرار دے رہے ہیں۔ 15 اکتوبر 2025 کو خبر ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک کے مطابق پاکستان نے افغانستان کی جانب سے ہونے والی کارروائی کے جواب میں ایک بڑا جوابی حملہ کیا۔ صوبہ قندھار اور کابل میں خالصتاً افغان طالبان اور خوارج کے ٹھکانوں پر فضائی کارروائی کرتے ہوئے افغان طالبان کے کئی بٹالین ہیڈ کوارٹر تباہ کردیے۔ سیکورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج نے قندھار میں افغان طالبان بٹالین ہیڈ کوارٹرنمبر 4، 8 بٹالین اور بارڈر بریگیڈ نمبر 5 کے اہداف کو نشانہ بنایا، یہ تمام اہداف باریک بینی سے منتخب کیے گئے جو شہری آبادی سے الگ تھلگ تھے اور کامیابی سے تباہ کیے گئے۔ سیکورٹی ذرائع کے مطابق کابل میں فتنہ الہندوستان کے مرکز اور لیڈرشپ کو نشانہ بنایا گیا۔ پاک فوج نے چمن کے علاقے اسپن بولدک اور ژوب میں افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے حملوں کو ناکام بناتے ہوئے متعدد افغان طالبان کو ہلاک کر دیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق افغان طالبان کا اسپن بولدک میں بہیمانہ حملہ ناکام بنا دیا گیا اور پاکستانی افواج نے موثر جواب کارروائی میں متعدد دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔

اس جوابی کارروائی کے نتیجے میں 15 تا 20 افغان طالبان ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ علاوہ ازیں یہ صورتحال ابھی بھی برقرار ہے اور فتنہ الخوارج اور افغان طالبان کے اسٹرٹیجک پوائنٹس پر اضافی تعیناتیوں کی رپورٹس موصول ہو رہی ہیں۔ سیکورٹی ذرائع نے کہا کہ افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں نے پاک افغان دوستی گیٹ کو اپنی طرف سے اڑا دیا، گیٹ کو تباہ کرنا ثابت کرتا ہے کہ افغان طالبان تجارت اور مقامی آمددو رفت کے حامی نہیں ہیں۔ افغان طالبان اور فتنہ الخوارج نے خیبر پختون خوا کے کرم سیکٹر میں بھی پاکستانی بارڈرز پر حملوں کی کوشش کی، جن کو بھی موثر انداز میں پسپا کر دیا گیا۔ ترجمان پاک فوج نے کہا جوابی کارروائی میں افغان مراکز کو بھاری نقصان پہنچا ہے، 8 پوسٹس بشمول 6 ٹینک تباہ ہوئے اور اندازے کے مطابق 25 تا 30 افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے جنگجو ہلاک ہوئے۔

مسئلہ یہ نہیں کہ کامیابیاں زیادہ کس کی جھولی میں گر رہی ہیں بلکہ مسئلہ یہ ہے کیا یہ سلسلہ کہیں جا کر رُکتا بھی نظر آرہا ہے یا خدا نہ خواستہ طول پکڑتا جائے گا۔ افغانستان پہلے ہی ایک تباہ حال ملک ہے اس لیے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ایک تباہ حال ملک کو اس بات کی اب کیا پروا ہو سکتی ہے کہ وہ مزید تباہ و برباد کر دیا جائے لیکن پاکستان کو یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ اگر جنگ طوالت اختیار کر گئی تو یہ بات پاکستان کے لیے کوئی اچھا شگون نہیں ہوگی۔ افغانستان ایک طویل عرصے سے جنگ لڑتا چلا آرہا ہے۔ اگر غور کیا جائے تو موجودہ نسل وہ نسل ہے جس نے اپنے ملک میں کبھی امن دیکھا ہی نہیں اس لیے ان کے لیے یہ بات شاید ہی کوئی اہمیت رکھتی ہو کہ وہ اگر آج ہیں تو کل نہیں ہونے سے کیا فرق پڑے گا۔

روس کی مداخلت سے کہیں پہلے بھی وہ آپس میں ہی دست و گریبان رہے ہیں اور ایک دوسرے کا خون بہاتے رہے ہیں۔ روس کے ساتھ بھی وہ جنگ کر چکے ہیں اور امریکا کی مداخلت پر بھی وہ چین سے نہیں بیٹھے جس کی وجہ سے کہا جا سکتا ہے کہ اگر پاکستان افغانستان کے ایک وسیع علاقے پر قابض بھی ہو جائے تو بھی پاکستان اس امن کو قائم نہیں کر سکتا جس کو وہ قائم کرنا چاہتا ہے۔ پیچھے ہٹنے پر بھی وہ اپنے آپ کو منظم کر کے پاکستان پر اپنے حملوں میں شدت لا سکتے ہیں۔ جس مصیبت میں روس اور امریکا پھنسے تھے کہیں ایسا نہ ہو کہ پاکستان اسی عذاب میں پھنس کر ایک طویل عرصے کے لیے حالت جنگ میں گرفتا ہو جائے۔

ایک جانب پاکستان کی سرحد وں پر نہایت کشیدگی ہے تو دوسری جانب پاکستان کو یہ بات کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ وہ تمام افغان مہاجرین جن کو اپنے ملک کے چپے چپے پر آزادانہ رہنے کی اجازت دی تھی وہ اب بھی مکمل طور پر افغانستان ہی سے ہمدردی رکھتے ہیں اور اس بات کا اظہار پاکستان میں موجود ان کے کئی رہنماؤں کی جانب سے کیا بھی جا رہا ہے۔ یہی نہیں خود پاکستان کی کئی مذہبی پارٹیاں اور ان کے رہنماؤں کے دل بھی افغانستان کے ساتھ دھڑتے ہیں۔ اس لیے اس پر نظر رکھنے، ایسے لوگوں کو تباہ و برباد کرنے اور انہیں دیس نکالا دینے کی سرحدی جوابی کارروائیوں سے بھی زیادہ اہم اور ضروری ہے۔ اصل میں مسئلہ یہ ہے کہ دنیا بھر میں مسلمانوں اور مسلم ممالک موجود ہیں۔ یہ بات نہیں بھولنا چاہیے کہ دنیا بھر میں جہاں جہاں مسلمان ہیں وہ ان ان ممالک کے ہیں جن میں رہتے ہیں لہٰذا یہ سوچنا کہ وہ یک جہتی کا مظاہرہ کرسکیں گے ہماری بہت بڑی بھول ہوگی۔ حال ہی میں ہندوستان پاکستان کی جنگ کے موقع پر ہندوستان کے سارے مسلم علما نے ہندوستان کے ساتھ ہی کھڑے ہونے اعلان کیا تھا۔ سچ یہ ہے کہ علامہ اقبال نے جو کہا تھا وہ درست ہی تھا کہ:

اس دور میں مے اور ہے جام اور ہے جم اور

ساقی نے بنا کی روشِ لطف و ستم اور

مسلم نے بھی تعمیر کیا اپنا حرم اور

تہذیب کے آزر نے ترشوائے صنم اور

ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے

جو پیرہن اس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے

اللہ پاکستان کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ (آمین

حبیب الرحمن.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: افغان طالبان اور فتنہ الخوارج جوابی کارروائی پاکستان کی کی جانب سے کے مطابق پاک فوج ہیں اور بھی وہ یہ بات

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان

پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔

مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔

وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔

مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • پاکستان میں سریے کی قیمت آج 23 جولائی 2026، تازہ ریٹس جاری
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا