سرحدی کشیدگی: افغان طالبان اور بھارتی میڈیا کا اے آئی ویڈیوز کے ذریعے پاکستان مخالف پروپیگنڈا
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حالیہ سرحدی کشیدگی کے دوران پاکستان کی جانب سے کیے گئے ٹارگٹڈ آپریشنز کے بعد افغان طالبان اور بھارتی میڈیا نے سوشل میڈیا پر پاکستان اور پاک فوج کے خلاف جھوٹے اور گمراہ کن پراپیگنڈے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے، جن میں جعلی اور مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ ویڈیوز بھی شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق پاکستان مخالف افغان اور بھارتی گٹھ جوڑ کھل کر سامنے آ گیا ہے، اور بھارتی میڈیا افغان جارحیت کو پاکستان سے جوڑ کر جھوٹی خبریں پھیلانے میں سرگرم ہے۔
ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے یہ جھوٹا دعویٰ کیا کہ اُنہوں نے ایک پاکستانی ٹینک پر قبضہ کر لیا ہے، جبکہ حقیقت میں وہ روسی ساختہ ٹینک تھا جو پہلے سے افغان طالبان کے زیر استعمال تھا، جس کی تصدیق فیکٹ چیکرز نے بھی کی۔
ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے دوستی گیٹ کی تباہی کے حوالے سے بھی گمراہ کن بیان سامنے آیا، جسے بھارتی میڈیا نے مزید بگاڑ کر پاکستان پر الزام تراشی کے لیے استعمال کیا۔ تاہم، سکیورٹی ذرائع کے مطابق دوستی گیٹ کو افغانستان کی جانب سے افغان طالبان نے آئی ای ڈی کے ذریعے نشانہ بنایا، جبکہ پاکستانی طرف کا گیٹ مکمل طور پر محفوظ ہے۔
اس کے علاوہ، کابل میں ہونے والے ایک دھماکے کو بھی بھارتی اور افغان میڈیا نے آئل ٹینکر پھٹنے سے جوڑنے کی کوشش کی، جب کہ سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ دھماکہ پاکستانی فورسز کی جانب سے کی گئی پریسیژن اسٹرائیک کا نتیجہ تھا۔
بھارتی میڈیا کی جانب سے فیک نیوز پھیلانے کا ایک اور واقعہ اس وقت سامنے آیا جب شمالی وزیرستان کے ایک شہری، عادل داوڑ، کو شہید پاکستانی فوجی قرار دیا گیا۔ تاہم، عادل داوڑ نے خود ایک ویڈیو پیغام جاری کر کے ان جھوٹے دعوؤں کو مسترد کر دیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتی میڈیا جعلی خبریں پھیلانے کے لیے فیک ویڈیوز اور AI ٹیکنالوجی کا سہارا لے رہا ہے تاکہ پاکستان کے خلاف پراپیگنڈا کیا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: افغان طالبان بھارتی میڈیا اور بھارتی کی جانب سے
پڑھیں:
بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
اسلام ٹائمز: یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مذکورہ تنظیم عملاً ہر قسم کی سیاسی یا جماعتی سرگرمیوں سے دور رہی ہے۔ تاہم اس اقدام کو بحرین میں شیعہ اداروں کے خلاف جاری دباؤ اور کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اپنے قیام کے آغاز سے ہی یہ تنظیم ایک ثقافتی، سماجی اور دینی پلیٹ فارم کے طور پر معروف رہی ہے، جو بنیادی طور پر سماجی اور تربیتی امور پر توجہ دیتی رہی ہے۔ خصوصی رپورٹ:
بحرینی حکام نے سنہ 2026 کے حکم نامہ نمبر (19) کے تحت جمعیۃ التوعیۃ الاسلامیۃ (اسلامی آگاہی سوسائٹی) کو تحلیل کرنے کا فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ یہ ادارہ بحرین میں شیعہ آبادی کی سب سے نمایاں ثقافتی اور سماجی تنظیم سمجھا جاتا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مذکورہ تنظیم عملاً ہر قسم کی سیاسی یا جماعتی سرگرمیوں سے دور رہی ہے۔ تاہم اس اقدام کو بحرین میں شیعہ اداروں کے خلاف جاری دباؤ اور کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اپنے قیام کے آغاز سے ہی یہ تنظیم ایک ثقافتی، سماجی اور دینی پلیٹ فارم کے طور پر معروف رہی ہے، جو بنیادی طور پر سماجی اور تربیتی امور پر توجہ دیتی رہی ہے۔
یہ فیصلہ محض ایک انتظامی اقدام نہیں بلکہ اس کے سیاسی اور سماجی اثرات بھی ہیں۔ بحرین کے شیعہ معاشرے میں اس تنظیم کی اہمیت کے پیش نظر، اسے نشانہ بنانا وسیع حلقوں کی نظر میں شیعہ برادری کے خلاف محدودیت پسند پالیسیوں کا تسلسل سمجھا جا رہا ہے، خصوصاً گزشتہ برسوں میں اس طبقے کے خلاف کیے جانے والے متعدد اقدامات کے تناظر میں۔ یہ تنظیم، جو اس سے قبل بھی مختلف سخت اور غیر منصفانہ کارروائیوں کا نشانہ بن چکی ہے، 1972ء میں بحرین کے ممتاز دینی علماء کے ایک گروہ نے آیت اللہ شیخ عیسیٰ قاسم کی قیادت میں قائم کی تھی۔ بعد ازاں یہ بحرین اور خطے کی سب سے بڑی ثقافتی اور سماجی تنظیموں میں شمار ہونے لگی۔
اس تنظیم کی تحلیل کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ بحرینی حکام نے پہلی مرتبہ فروری 1984ء میں اس تنظیم کو بند کیا تھا اور یہ پابندی 2001ء تک برقرار رہی۔ بعد ازاں قومی منشور پر ہونے والے ریفرنڈم اور ملک میں نسبتاً سیاسی کشادگی کے دور میں اسے دوبارہ سرگرمیوں کی اجازت دی گئی۔ اس کے بعد جون 2016ء میں، شیعہ مذہبی شخصیات اور اداروں کے خلاف وسیع کارروائیوں کے دوران، حکام نے ایک مرتبہ پھر اس تنظیم کو تحلیل کرنے کا حکم جاری کیا۔ 9 جون 2022ء کو تحلیل کا فیصلہ منسوخ کر دیا گیا اور تنظیم نے اپنی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دیں، تاہم اس کی سرگرمیاں مسلسل مختلف پابندیوں کے حصار میں رہیں۔
ان پابندیوں میں قانونی و انتظامی کارروائیاں، تنظیم سے وابستہ ذمہ داران کے خلاف مقدمات، بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تحلیل اور بعض سرگرمیوں کی جبری معطلی شامل تھیں۔ بالآخر تنظیم کے سربراہ اور تین دیگر کارکنان کو بھی اسی ادارے میں اپنی سرگرمیوں کی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا، جسے اپوزیشن اور مخالف حلقوں کے ساتھ سکیورٹی طرزِ عمل کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔ سنہ 2026 کے حکم نامہ نمبر (19) کے اجرا کے ساتھ اسلامی آگاہی سوسائٹی ایک بار پھر اپنی مسلسل بندشوں اور پابندیوں کی تاریخ کے نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ اس پیش رفت نے بحرین میں مذہبی آزادیوں کے بارے میں مزید سوالات کو جنم دیا ہے، حالانکہ حکومت خود کو رواداری اور پرامن بقائے باہمی کا داعی قرار دیتی ہے۔
اس تنظیم کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کی تاریخی ترتیب کا جائزہ لیا جائے تو حالیہ تحلیل کو محض ایک انتظامی یا قانونی اختلاف قرار دینا مشکل دکھائی دیتا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ 54 برس قبل اپنے قیام سے لے کر آج تک یہ ادارہ اپنی ثقافتی، سماجی اور دینی شناخت کے حوالے سے جانا جاتا رہا ہے۔ دوسری جانب، تنظیم کو بند کرنے کے اقدامات کو ملک کے سب سے بڑے سماجی طبقے کے حوالے سے حکومتی تنگ نظری کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ پالیسیاں معاشرے کو قابو میں رکھنے اور محدود کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں، جو باہمی اعتماد کو کمزور کرتی ہیں اور بحرین کے وسیع ترین عوامی طبقے کو سیاسی و سماجی طور پر حاشیے پر دھکیلنے کے رجحان کو مزید تقویت دیتی ہیں۔