غزہ میں پاکستان سمیت 3 مسلم ممالک کی افواج بھیجی جائینگی، امریکی میڈیا کا دعوی
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
امریکی ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان سمیت 3 مسلم ممالک غزہ کے "استحکام" کیلئے بین الاقوامی فورس میں شرکت پر بات چیت کر رہے ہیں جبکہ یہ اقدام جنگ کے بعد کے مرحلے سے متعلق واشنگٹن کے نئے منصوبے کے تحت اٹھایا جا رہا ہے اسلام ٹائمز۔ معروف امریکی ای مجلے پولیٹیکو نے دعوی کیا ہے کہ غزہ کی پٹی کو "مستحکم" بنانے کے مبینہ "امریکی منصوبے" کے تحت مستقبل کی "بین الاقوامی فورس" میں حصہ لینے کے لئے 3 مسلم ممالک انڈونیشیا، جمہوریہ آذربائیجان اور "اسلامی جمہوریہ پاکستان" اہم آپشنز میں شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق امریکی سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان ممالک نے ابھی تک باضابطہ طور پر ایسی ذمہ داری نہیں سنبھالی تاہم اس حوالے سے مذاکرات جاری ہیں جو ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں جبکہ ان ممالک نے اس "امریکی منصوبے" میں حصہ لینے پر سنجیدہ دلچسپی ظاہر کی ہے۔
انتہاء پسند امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کے مطابق واشنگٹن، عرب شراکتداروں اور دیگر ممالک کے تعاون سے غزہ میں "استحکام" برقرار رکھنے کے لئے ایک عارضی بین الاقوامی فورس تشکیل دینا چاہتا ہے جو منتخب فلسطینی پولیس فورسز کی مدد اور تربیت کی ذمہ دار ہو گی اور یہ عمل مصر و اردن کے تعاون سے انجام دیا جائے گا۔ امریکہ نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ اس منصوبے کے تحت کوئی امریکی فوجی غزہ نہیں بھیجا جائے گا۔
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
بھارت میں امتیازی سلوک کے بڑھتے واقعات نے مسلمانوں میں تشویش کی لہر پیدا کر دی: ایرانی میڈیا
ایرانی میڈیا نے کہا ہے کہ بھارت میں امتیازی سلوک کے بڑھتے واقعات نے مسلمانوں میں تشویش کی لہر پیدا کر دی۔
پریس ٹی وی کے مطابق بھارت میں مسلمانوں کو جان بوجھ کر تعصب کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، مہاراشٹرا میں 3 مسلم طلبہ کو کلاس روم میں نماز پڑھنے پر مورتی کے سامنے جھکنے پر مجبور کیا گیا۔
پریس ٹی وی کا کہنا ہے کہ تاج محل کے قریب مسلم ٹیکسی ڈرائیور کو 2 نوجوانوں نے’جے شری رام‘ کا نعرہ لگانے پر مجبور کیا۔
ایرانی میڈیا نے کہا کہ دائیں بازو کے گروہ مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقریریں اور تشدد کی دھمکیاں دیتے ہیں، بریلی شہر میں مسلمان کی دو منزلہ مارکیٹ کو غیرقانونی قرار دے کر مسمار کر دیا گیا۔