لاہور: تاریخی مقامات کے اردگرد علاقے ازسرنو تعمیر کرنے کا منصوبہ شروع
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
پنجاب حکومت نے صوبائی دارالحکومت لاہور کے تاریخی مقامات کے قریب ٹریفک کے بہاؤ کو بہتر بنانے اور اردگرد کے علاقوں کو ازسرِنو ماڈل بنانے کے منصوبے کا آغاز کر دیا ہے۔
اس سلسلے میں بدھ کے روز پنجاب کے وزیر ہاؤسنگ و شہری ترقی، بلال یاسین کی زیرِ صدارت ایک اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کے ڈائریکٹر جنرل طاہر فاروق اور ٹریفک انجینئرنگ اینڈ ٹرانسپورٹ پلاننگ ایجنسی (ٹیپا) کے چیف انجینئر اقرار حسین نے شرکاء کو داتا دربار کے گردونواح کی توسیع اور دیگر مجوزہ اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔
یہ بھی پڑھیے لاہور میں الیکٹرک بسوں کے جدید اسٹاپ، خصوصیات کیا ہیں؟
اجلاس میں بتایا گیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی منظوری کے بعد شہر کے گنجان علاقوں کے ازسرِنو ڈیزائننگ کا عمل شروع کیا جا رہا ہے۔
منصوبے کے تحت جلد ہی داتا دربار کے اطراف میں غیر ضروری تجاوزات اور ٹرانسپورٹ اڈے ہٹانے کی کارروائی شروع کی جائے گی۔
مزید برآں، راوی روڈ، آؤٹ فال روڈ اور ریٹی گن روڈ کی توسیع اور خوبصورتی کے کام کا آغاز بھی جلد متوقع ہے۔ اسی طرح ناصر باغ اور کچہری چوک کے قریب انڈرپاس کی تعمیر کی تجویز زیرِ غور ہے۔
وزیر ہاؤسنگ بلال یاسین نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لاہور ریلوے اسٹیشن سے آزادی چوک تک منصوبے کی تکمیل سے اندرونِ شہر کی خوبصورتی میں اضافہ ہوگا اور ٹریفک کے بہاؤ میں نمایاں بہتری آئے گی۔
انہوں نے کہا کہ شہری علاقوں میں ٹریفک کا دباؤ کم کرنا حکومت کی ترجیح ہے، اور وزیراعلیٰ پنجاب عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے لاہور کی وہ سڑک جس پر گاڑی نہیں صرف لوگ چل سکتے ہیں
بلال یاسین نے مزید کہا کہ اندرون لاہور تجارتی سرگرمیوں کا مرکز ہے، اور ایسے منصوبے تاجروں اور شہریوں دونوں کے لیے سہولت پیدا کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ریلوے اسٹیشن اور داتا دربار کے اطراف کی ترقی کو پائیدار ماڈل پر عمل میں لایا جائے گا۔
اجلاس میں واسا پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل طیب فرید اور واسا لاہور کے منیجنگ ڈائریکٹر غفران احمد بھی موجود تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
لاہور.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: لاہور
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔