ٹی ایل پی کے ساڑھے 4 ہزار رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاری کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) ٹی ایل پی کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن تیز، ٹی ایل پی کے رہنماؤں اور سرکردہ کارکنوں کی فہرستیں تیار کر لی گئیں۔ذرائع کے مطابق پنجاب بھر سے ساڑھے 4 ہزار رہنماؤں اور سرکردہ کارکنان کی فہرستیں تیار کی گئی ہیں۔آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے ساڑھے 4 ہزار رہنماؤں اور کارکنوں کی فہرستیں سی سی پی او لاہور سمیت پنجاب کے تمام آر پی اوز کو بھجوا دیں۔ذرائع کے مطابق تمام افسران کو فوری ٹی ایل پی کے رہنماؤں اور کارکنوں کو گرفتار کرنے کا حکم دیا گیا ہے، لاہور سے ساڑھے 13 سو رہنماؤں اور کارکنوں کی فہرستیں سی سی پی او لاہور کو دی گئی ہیں۔شیخوپورہ ڈویژن سے ساڑھے تین سو کارکنوں اور رہنماؤں کی فہرستیں آر پی او شیخوپورہ کو دی گئی ہیں، ساہیوال ڈویژن سے 3 سو 30 اور گوجرانوالہ ڈویژن کے 450 سرکردہ ارکان کی فہرستیں دی گئی ہیں۔ذرائع کے مطابق فیصل آباد ریجن کے 430 رہنماؤں اور کارکنوں کی فہرستیں دی گئی ہیں۔ آئی جی پنجاب نے تمام افسران کو ٹی ایل پی کے رہنماؤں اور کارکنوں کو جلد گرفتار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ٹی ایل پی کے رہنماو ں اور رہنماو ں اور کارکنوں کی کارکنوں کی فہرستیں ں کی فہرستیں دی گئی ہیں
پڑھیں:
ملک بھر میں خواتین سے زیادتی، اغوا و تشدد کے 20 ہزار واقعات رپورٹ، پنجاب سرفہرست
لاہور:سسٹین ایبل سوشل ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (ایس ایس ڈی او) نے رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ملک بھر میں رواں برس جنوری سے جون تک خواتین کے ریپ، اغوا سمیت تشدد کے 20 ہزار 698 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں اور صوبوں میں پنجاب سرفہرست ہے۔
ایس ایس ڈی او نے جنوری سے جون 2025 تک ملک بھر میں خواتین پر تشدد کے کیسز کی رپورٹ میں بتایا کہ پنجاب 15 ہزار 376 کیسز کے ساتھ خواتین پر تشدد کی رپورٹنگ میں سرفہرست ہے، سندھ میں 3 ہزار 709، خیبر پختونخوا میں 875 اور اسلام آباد میں 423 واقعات رپورٹ ہوئے اور بلوچستان میں خواتین پر تشدد کے 315 کیسز سامنے آئے۔
رپورٹ کے مطابق ریپ، اغوا، غیرت کے نام پر قتل اور ہراسانی کے واقعات بھی اس میں شامل ہیں۔
ایس ایس ڈی او نے بتایا کہ خواتین پر تشدد کے کیسز میں ملک بھر میں سزا کی شرح 0.3 فیصد سے کم رہی، پنجاب میں سزا کی شرح 0.01 فیصد، سندھ میں سزا کی شرح 0.5 فیصد، خیبر پختونخوا اور اسلام آباد میں کوئی سزا نہیں دی گئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ بلوچستان میں سزا کی شرح 19.30 فیصد مگر رپورٹنگ کا حجم بہت کم رہا ہے جبکہ پنجاب میں رپورٹنگ اور ادارہ جاتی رسائی سب سے بہتر رہی۔
ایس ایس ڈی او نے زور دیا کہ مؤثر انصاف کے لیے تحقیقاتی عمل اور پراسیکیوشن مضبوط بنانے کی ضرورت ہے اور بروقت تفتیش اور متاثرہ خواتین کے لیے محفوظ ماحول کی سفارش کی ہے۔