محکمہ صنعت و تجارت پنجاب اور ہانگ کانگ جنرل چیمبر کے مابین تعاون کا معاہدہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (کسمتد ڈیسک ) محکمہ صنعت و تجارت پنجاب اور ہانگ کانگ جنرل چیمبر آف کامرس کے مابین تعاون کا معاہدہ طے پاگیا۔صوبائی وزیر صنعت و تجارت چوہدری شافع حسین اور ہانگ کانگ جنرل چیمبر آف کامرس کی چیئرمین ایگنس چن نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے۔ ترجمان محکمہ صنعت و تجارت کے مطابق معاہدے کی رو سے ایشیا کے بڑے کاروباری مرکز ہانگ کانگ اور پنجاب کے مابین معاشی تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔معاہدے کے تحت دوطرفہ تجارت،سرمایہ کاری اور معاشی اشتراک بڑھایا جائے گا اور ہانگ کانگ اور پنجاب کی بزنس کمیونٹی کے مابین باہمی مفادات کو فروغ دیا جائے گا۔کاروباری سرگرمیوں کیلئے سہولت کاری،مارکیٹ کے مواقع کا تبادلہ اور مشترکہ تجارتی اقدامات کئے جائیں گے۔صوبائی وزیر صنعت و تجارت چوہدری شافع حسین نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ پنجاب میں سرمایہ کاری کے لئے انتہائی سازگار ماحول موجود ہے،پنجاب کے خصوصی اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری پر 10سال تک انکم ٹیکس کی چھوٹ اور ایک مرتبہ ڈیوٹی فری مشینری کی درآمد کی سہولت موجود ہے۔صنعتی یونٹس لگانے کیلئے سپیشل اکنامک زونز میں آسان اقساط میں زمین حاصل کی جاسکتی ہے۔ ہانگ کانگ کے سرمایہ کار پنجاب میں سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھائیں۔صوبائی وزیر نے کہا کہ بہت سی بین الاقوامی سرمایہ کار کمپنیاں پنجاب میں تیزی سے اپنے صنعتی یونٹس لگا رہی ہیں۔غیر ملکی سرمایہ کاری سے پنجاب کو جدید ٹیکنالوجی منتقل ہو رہی ہے اور روزگار کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔محکمہ صنعت و تجارت پنجاب اور ہانگ کانگ جنرل چیمبر آف کامرس کے مابین اشتراک کا معاہدہ خوش آئند ہے۔ باہمی اشتراک سے پنجاب میں نئی غیر ملکی سرمایہ کاری آئے گی اور برآمدات بڑھیں گی۔عوامی سطح کے روابط بڑھنے سے پنجاب اور ہانگ کانگ میں خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔ہانگ کانگ جنرل چیمبر آف کامرس کی چیئرمین ایگنس چن نے کہاکہ ہانگ کانگ جنرل چیمبر آف کامرس اور پنجاب کے مابین اشتراک کا معاہدہ اہم اقدام ہے۔
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ہانگ کانگ جنرل چیمبر ا ف کامرس اور ہانگ کانگ جنرل چیمبر پنجاب اور ہانگ کانگ سرمایہ کاری کا معاہدہ کے مابین
پڑھیں:
ہانگ کانگ میں قیامت خیز آگ سے ہلاکتوں کی تعداد 128 تک پہنچ گئی، درجنوں لاپتا
ہانگ کانگ کے رہائشی کمپلیکس میں لگنے والی خوفناک آگ پر دو روز بعد قابو پالیا گیا ہے، تاہم ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 128 تک جا پہنچی ہے، جب کہ اب بھی متعدد افراد لاپتا ہیں۔
متاثرہ عمارتوں میں امدادی کارروائیاں جمعے کے روز بھی جاری رہیں، جہاں اہلخانہ اپنے پیاروں کی تلاش میں ہسپتالوں کے چکر لگاتے رہے۔
بدھ کی دوپہر ضلع تائی پو کے وانگ فک کورٹ ہاؤسنگ اسٹیٹ میں آگ تیزی سے پھیلی اور 36 منزلہ آٹھ عمارتوں کو لپیٹ میں لے لیا۔ تقریباً 40 گھنٹے بعد حکام نے آگ پر قابو پانے کا اعلان کیا۔
حکام کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں، جس میں مرمتی کام کے دوران استعمال کیے گئے بانس اور پلاسٹک شیٹس کا جائزہ بھی لیا جا رہا ہے۔
امدادی ٹیموں نے ملبے سے مزید لاشیں نکالیں جبکہ 50 سے زائد زخمی مختلف ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں، جن میں 12 کی حالت نہایت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق آگ چند منٹوں میں ایک عمارت سے دوسری تک پھیل گئی، جس کی وجہ سے فرار کا موقع نہ مل سکا۔
یہ واقعہ 1948 کے بعد ہانگ کانگ کی تاریخ کا سب سے ہلاکت خیز حادثہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اینٹی کرپشن ادارے اور پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہیں اور تین افراد کو حفاظتی مواد غلط طریقے سے چھوڑنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔
شہریوں نے شکایت کی کہ فائر الارم نہیں بجا جس کی وجہ سے لوگوں نے دروازے کھٹکھٹا کر ایک دوسرے کو خبردار کیا۔
حکومت نے متاثرہ خاندانوں کے لیے 300 ملین ہانگ کانگ ڈالر کے امدادی فنڈ اور 9 شیلٹرز قائم کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ بڑے تعمیراتی منصوبوں میں بانس کی جگہ آہنی اسٹافولڈنگ کے استعمال کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے۔