وزیرخزانہ محمد اورنگزیب کی خلیجی ممالک، افریقہ اور افغانستان کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی پیشکش
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
وزیرخزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے خلیجی ممالک، شمالی افریقا، افغانستان کو پاکستان میں معدنیات سمیت کئی شعبہ جات میں سرمایہ کاری کی پیش کش کی ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)کی مینیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا سے ملاقات کی جس میں خلیجی ممالک، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان کے وزراء اور گورنرز بھی ملاقات میں شریک تھے۔
وزیر خزانہ نے بطور لیڈ اسپیکر ملاقات کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے معاشی استحکام کے حصول کی کامیاب کوششوں سے آگاہ کیا جبکہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کے ساتھ طے پانے والے سٹاف لیول معاہدے پر اطمینان کا اظہار کیا۔
اِس موقع پر محمد اورنگزیب نے ٹیکسوں، توانائی اور ریاستی ملکیتی اداروں اور نجکاری میں اصلاحات جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
وزیر خزانہ نے ملکی مصنوعات کی مسابقت بڑھانے اور برآمدات میں اضافے کے حوالے سے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن اور ٹیرف پالیسی سے متعلقہ اقدامات کو اجاگر کیا۔
دوسری جانب اُنہوں نے سرمایہ کاروں کو معدنیات، کان کنی، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، زراعت،تیل و گیس اور فارماسیوٹیکلز سیکٹرز میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔
.ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: محمد اورنگزیب
پڑھیں:
حکومت متحرک، مستحکم اور جامع کیپٹل مارکیٹ کے قیام کیلیے پْرعزم ہے، وزیر خزانہ
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251129-08-26
اسلام آباد(نمائندہ جسارت) وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات، سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت متحرک، مستحکم اور جامع کیپٹل مارکیٹ کے قیام کے لیے پْرعزم ہے۔ ان کے بقول جاری اسٹرکچرل اصلاحات نے کیپٹل مارکیٹ کی کارکردگی بہتر بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔وزیرِ خزانہ کی زیرِ صدارت وزارت خزانہ میں کیپٹل مارکیٹ ڈیولپمنٹ کونسل (سی ایم ڈی سی) کے افتتاحی اجلاس میں پاکستان کی کیپٹل مارکیٹ کو مضبوط اور وسعت دینے سے متعلق روڈ میپ کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ایس ای سی پی، اسٹیٹ بینک، پاکستان بینکس ایسوسی ایشن، پاکستان اسٹاک ایکسچینج، سی ڈی سی، این سی سی پی ایل، پاکستان بزنس کونسل اور وزارتِ خزانہ کے نمائندوں نے شرکت کیں۔اجلاس میں کونسل کے ٹرمز آف ریفرنس اور مجموعی حکمتِ عملی پر غور کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا گیا کہ عالمی بہترین عملی نمونوں کو اپناتے ہوئے مارکیٹ کو وسیع، گہرا اور متنوع بنانے کے لیے منظم انداز میں پیش رفت ضروری ہے۔شرکاء نے چار اہم شعبوں پر خصوصی توجہ مرکوز کی جن میں ریٹیل اور انسٹی ٹیوشنل سرمایہ کاروں کی شمولیت میں اضافہ، سرمایہ کاروں کی ضرورت کے مطابق متنوع سرمایہ کاری مصنوعات کی تیاری، بینکوں، بروکرز اور میوچل فنڈز جیسے مارکیٹ انٹرمیڈریز کے لیے سہولت کاری میں بہتری، اور سرمایہ کاروں و اجراء کنندگان کے لیے مراعاتی اقدامات شامل تھے۔