پہلی نظر میں یہ کسی فلم کا سین نظر آیا۔ بلند قامت بلڈنگز میں آگ کے شعلے بھڑکے اور دیکھتے ہی دیکھتے کئی بلڈنگ بلاکس کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ مکینوں کو مکان چھوڑنے کا موقع ہی نہ ملا اور دوسری جانب فائر فائٹرز اور ریسکیو ٹیموں کو رسپانس کی مطلوبہ مہلت نہ ملی۔
دیکھتے ہی دیکھتے آگ کے شعلے آسمان سے باتیں کرنے لگے۔ یہ مناظر کسی فلم کے نہ تھے بلک رواں ہفتے ہانگ کانگ میں آٹھ سے زائد ہائی رائز بلڈنگ کمپلیکسز میں لگی آگ کے شعلے اور دھوئیں کے بادل تھے۔ ان مناظر کے ساتھ ساتھ بچ جانے والے مکینوں کی دل دوز دہائیاں اور بے بسی رلا دینے والی تھی۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق 188 سے زائد لوگ ہلاک ہوئے جب کہ 200 سے زائد ابھی تک لاپتہ ہیں۔ ہانگ کانگ کے جنوبی ضلع میں واقع ایک بلڈنگ کمپلیکس میں مرمت اور تزئین کا کام ہو رہا تھا۔
ہانگ کانگ میں ہائی رائز بلڈنگز کی تعمیر اور مرمت کے لیے روایتی طور پر بیمبوز کا ایک ڈھانچہ بلڈنگ کے ساتھ ساتھ کھڑا کیا جاتا ہے۔ بیمبوز کے اس ڈھانچے کے ساتھ سبز رنگ کا مخصوص حفاظتی کپڑا بھی لٹکایا جاتا ہے۔
ہانگ کانگ میں نئی بلڈنگز کی تعمیر اور پرانی بلڈنگز کی مرمت کے یہ مناظر بہت کامن ہیں۔ اطلاعات کے مطابق بیمبو اسٹرکچر میں آگ لگی جس نے فوراً پورے بمبو اسٹرکچر اور حفاظتی کپڑے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور یوں دیکھتے ہی دیکھتے یہ قیامت برپا ہوئی۔
ہانگ کانگ حکومت نے آٹھ افراد کو اس شبے میں گرفتار کیا ہے کہ انھوں نے کرپشن کے سبب مناسب حفاظتی انتظامات سے رو گردانی کی۔ ہانگ کانگ میں ماضی میں بھی اکا دکا آگ لگنے کے واقعات رونما ہوتے رہے ہیں لیکن شدت، وسعت اور جانی نقصان کے اعتبار سے یہ آگ گزشتہ 80 سال میں شدید ترین اور مہلک ترین ثابت ہوئی۔
وطن عزیز میں بھی ہائی رائز بلڈنگز کا رواج کراچی کے بعد دیگر شہروں میں اب تیزی سے رواج پا رہا ہے۔ کمرشلزم کے روایتی لالچ اور حفاظتی اقدامات کو درخور اعتناء نہ سمجھنے کا ہمارا عمومی رویہ ان بلڈنگز کی فائر سیفٹی اور ریسکیو کے حوالے سے بہت سے سوالیہ نشان لیے ہوئے ہے۔
اس پر مستزاد ہمارے ہاں پریونٹیو یعنی قبل از وقت حفاظتی اقدامات پر سرمایہ کاری کو سرمائے اور وقت کا زیاں سمجھنے کا چلن بھی بہت عام ہے۔ ایسے میں کسی حادثے کی صورت میں تیاری کس قدر قابل اعتماد ہے، یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں۔
اس واقعے کے ساتھ ہانگ کانگ سے جڑی ہوئی ہماری یادوں کے کئی ورق ذہن میں کھلتے چلے گئے۔ ہانگ کانگ جانے کا ہمارا پہلا اتفاق 1988 میں ہوا۔
ان دنوں چین نے دھیرے دھیرے اپنی صنعتی انقلاب کا سفر شروع کر دیا تھا ، ہانگ کانگ چینی سرحد سے آدھ گھنٹے کی ریلوے مسافت کی سہولت ، مشترکہ زبان اور کلچر کی وجہ سے چین میں سرمایہ کاری اور تجارت کے لیے دنیا بھر کا بہترین دروازہ اور یقینی راستہ ثابت ہورہا تھا۔
1993 کے بعد لگ بھگ 14/ 15 سال کاروباری ضروریات کے سبب ہمیں سال میں دو تین مرتبہ ہانگ کانگ جانے کا موقع ملتا رہا۔اس زمانے میں ایشیاء کے کئی ممالک صنعتی ترقی اور تجارت کے میدان میں ’’ایشین ٹائیگر‘‘ کا درجہ پا رہے تھے۔
ہانگ ہانگ بھی ایشیا کی اس صنعتی اور تجارتی ترقی کا ایک روشن نمونہ تھا۔1997 میں ایشیاء کے ان ٹائیگر ممالک کو ایشین کرنسی کرائسز کی افتاد کا سامنا کرنا پڑا۔ اس افتاد کے سامنے فلپائن، تھائی لینڈ اور انڈونیشیا جیسے ممالک پہلے ہی جھٹکے میں ڈھیر ہو گئے۔
تاہم ہانگ کانگ اور ملائشیا نے دیگر ممالک کے برخلاف اپنے اپنے انداز میں اس بحران کا مقابلہ کیا۔ جو اقدامات ہانگ کانگ نے اٹھائے وہ ازاد معیشت کے لگے بندے فارمولوں سے ہٹ کر تھے۔
ان دنوں مغربی میڈیا میں خوب ہاہا کار مچی ، جیسے ان اقدامات سے آزاد مارکیٹ کا کریا کرم ہو گیا ہو لیکن وقت نے ثابت کیا کہ ہانگ کانگ اور ملائشیا نے بروقت اور آؤٹ آف باکس پالیسی اقدامات سے اپنے اپنے ملک کو مہلک معاشی نقصانات اور خوفناک اثرات سے بچا لیا جس کا شکار باقی ممالک ہوئے۔
ہانگ کانگ بنیادی طور پر چین کا ہی ایک جزیرہ تھا جسے 19ویں صدی کے آخر میں برطانیہ نے چال بازیوں کے ساتھ اسے سو سال کی لیز پر ہتھیا لیا تھا۔1997 میں 100 سالہ لیز مکمل ہونے پر معاہدے کی رو سے برطانیہ کو ہانگ کانگ چین کو واپس کرنا پڑا۔
برطانیہ اور اس کے حواریوں نے ہر ممکن کوشش کی کہ یہ حوالگی ٹل سکے۔ میڈیا پر بہت عرصے تک ان خدشات کا اظہار ہوتا رہا کہ چین کا حصہ بنتے ہی ہانگ کانگ کی ساری ترقی اور انسانی حقوق دھڑام سے سمندر برد ہو جائیں گے۔
تاہم چین نے انتہائی تحمل اور بردباری کے ساتھ ایک ملک دو سسٹم کے نام سے یقین دہانی کرائی کہ حوالگی کے بعد بھی ہانگ کانگ میں بزنس اور پرسنل لائف اسی معمول کے مطابق جاری رہے گی۔ ہانگ کانگ چین حوالگی کے بعد بھی بدستور تجارت کا اہم مرکز رہا۔
ہانگ کانگ کے باشندوں، کاروباری طبقے، مقامی حکومتی نظام اور چین کی حکومت کو کریڈٹ جاتا ہے کہ کس طرح انھوں نے خدشات سے اٹے امکانات کو مثبت اور کامیاب مثال میں بدل ڈالا۔
حسن اتفاق سے ہم ایشین کرنسی کرائسس اور ہانگ کانگ کی چین کو حوالگی کے دنوں میں ہانگ کانگ میں موجود تھے اور اپنے سامنے تاریخ کے ان لمحات کو وارد ہوتے اور مجسم ہوتے دیکھنے اور محسوس کرنے کا موقع ملا۔
ہانگ کانگ میں پاکستانی کمیونٹی کافی نمایاں تھی۔ ہانگ کانگ تین بڑے حصوں پر مشتمل ہے کاولون، ہانگ کانگ اور نیو ٹیریٹوریز۔ کاولون میں ایک شاندار مسجد میں نماز پڑھنے کا موقع کئی بار ملا۔
چند پاکستانیوں نے کاروبار میں خوب نام کمایا جن میں فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے چوہدری محمد شریف بھی شامل تھے، جن کے نواز شریف اور گجرات کے چوہدری برادران کے ساتھ بہت دیرپا تعلقات رہے۔
60 کی دہائی میں چوہدری محمد شریف ہانگ گانگ پہنچے، ایک بلڈنگ کے گارڈ کے طور پر ہانگ کانگ میں اپنا سفر شروع کیا اور چند سالوں میں ٹریڈنگ کا کاروبار جما لیا۔ اسی طرح چند اور نمایاں لوگ بھی تھے۔
پاکستانیوں کی ایک معقول تعداد بینکوں میں ملازمت اور دیگر بزنسز میں سرگرم دیکھی۔ ان دنوں ہانگ کانگ کو پلیٹ فارم استعمال کرکے یورپ یا آسٹریلیا سلپ ہونے کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا جس کے نتیجے میں ویزہ پالیسیوں میں سختی در سختی ہانگ کانگ کی مجبوری بن گئی۔
کہاں یہ کہ 1988 میں پہلے سفر میں ویزہ ان آرائیول دیکھا اور کہاں یہ کہ بعد ازاں کڑی شرائط اور جانچ ہرتال کے بعد ویزہ اجرائی معمول دیکھی۔
ترقی یافتہ شہروں اور بلند قامت بلڈنگز کا انفرااسٹرکچر ضروری بھی ہے اور مجبوری بھی۔ تاہم تمام تر احتیاطی تدابیر کے باوجود ایسے واقعات یاد دلاتے ہیں کہ حفاظتی تدابیر اور ان پر سختی سے عمل میں ذرا سی چوک بہت کچھ بھسم کر دیتی ہے۔
پاکستان کو ہانگ کانگ کے اس واقعے سے اربن پلاننگ، فائر سیفٹی اور ریسکیو کے حوالے سے بہت کچھ سیکھنے کی یاددہانی ہے۔
.ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ہانگ کانگ میں ہانگ کانگ کے بلڈنگز کی گ کے شعلے کے ساتھ کا موقع کے بعد
پڑھیں:
ہانگ کانگ میں آگ لگنے سے ہلاک ہونے والوں کے لیے تعزیتی تقریبات کا انعقاد
ہانگ کانگ میں آگ لگنے سے ہلاک ہونے والوں کے لیے تعزیتی تقریبات کا انعقاد WhatsAppFacebookTwitter 0 29 November, 2025 سب نیوز
بیجنگ : ہانگ کانگ خصوصی انتظامی علاقے کی حکومت نے تائی پو ڈسٹرکٹ کے ہونگ فو کورٹ میں لگنے والی آگ کے متاثرین کے لیے تعزیتی تقریب کا انعقاد کیا۔ہفتہ کے روز ہانگ کانگ خصوصی انتظامی علاقے کی حکومت کے ہیڈکوارٹر میں ایک تقریب میں پرچم سرنگوں کیا گیا۔
اس کے ساتھ ، ہانگ کانگ خصوصی انتظامی علاقے میں مرکزی حکومت کے رابطہ دفتر نے بھی ایک تعزیتی تقریب میں اپنا پرچم سرنگوں کیا۔ 29 نومبر سے 1 دسمبر تک، ہانگ کانگ کی تمام سرکاری عمارتوں پر پرچم سرنگوں رہیں گے۔ہانگ کانگ کے تائی پو ڈسٹرکٹ کے ہونگ فو کورٹ میں پانچویں درجے کی آگ بھڑک اٹھی ، اور اس وقت تک 128 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمستند دستاویزات رکھنے والے کسی مسافر کو بیرونِ ملک سفر سے نہیں روکا جائے گا، وزیر داخلہ اگلی خبرچینی افواج کی ہوانگ یئن جزیرے کے علاقائی پانیوں اور فضائی حدود میں جنگی تیاریوں کے تحت نگرانی چینی افواج کی ہوانگ یئن جزیرے کے علاقائی پانیوں اور فضائی حدود میں جنگی تیاریوں کے تحت نگرانی وائٹ ہاؤس فائرنگ کے افغان ملزم کو سیاسی پناہ کس نے دی؟ اہم انکشاف افغان پاسپورٹس پر امریکی ویزے اور اسائلم کی درخواستوں پر کام بند اسرائیل کا حماس کی سرنگوں میں اب تک 30 فلسطینیوں کو شہید کرنے کا دعویٰ تاجکستان میں چینی شہریوں کی ہلاکت، چین کی شہریوں کو سرحدی علاقے سے فوری انخلاکی ہدایت ہانگ کانگ میں رہائشی کمپلیکس میں لگی آگ بجھانے اور سرچ اینڈ ریسکیو کی کارروائیاں مکملCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم