فن لینڈ کاپاکستان سمیت تین ممالک میں سفارتخانے بند کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ہلسنکی : فن لینڈ نے پاکستان، افغانستان اور میانمر میں قائم اپنے سفارتخانوں کو 2026 کے دوران بند کرنے کا باضابطہ فیصلہ کرتے ہوئے کہاہے کہ یہ فیصلہ کسی مخصوص واقعے یا سیاسی اختلاف کا نتیجہ نہیں بلکہ سفارتی ڈھانچے کی از سرِ نو تنظیم، اخراجات میں کمی اور عالمی سطح پر سفارتی ترجیحات کی نئی ترتیب کا حصہ ہے۔
فن لینڈ کی وزارتِ خارجہ کے مطابق فن لینڈ آئندہ بھی ان ممالک کے ساتھ تعاون اور رابطہ برقرار رکھنے کی کوشش کرے گا، مگر سفارتخانوں کی موجودہ سرگرمیوں کو برقرار رکھنا قومی پالیسی کے مطابق نہیں رہا۔
فن لینڈ کی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ یہ اقدام آپریشنل اور اسٹریٹجک وجوہات کی بنیاد پر کیا ہے ، ہلسنکی نے اسلام آباد، کابل اور یانگون میں سفارتی مشنز کی بندش کے لیے باقاعدہ تیاریوں کا آغاز کر دیا ہے، سفارتخانوں کی کارکردگی، اخراجات اور دو طرفہ سرگرمیوں کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ موجودہ حالات میں ان دفاتر کو برقرار رکھنا فن لینڈ کے اسٹریٹجک مفادات سے مطابقت نہیں رکھتا۔
واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب فن لینڈ نے پاکستان میں اپنا سفارتی مشن بند کرنے کا فیصلہ کیا ہو۔ اس سے قبل 2012 میں بھی مالی مسائل کے سبب اسلام آباد میں قائم فن لینڈ کا سفارتخانہ بند کر دیا گیا تھا، جس کے بعد کچھ برس قبل اسے دوبارہ فعال کیا گیا تھا۔ البتہ اب ایک مرتبہ پھر اس کی بندش کا فیصلہ سامنے آ گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فن لینڈ
پڑھیں:
جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
برلن: جرمنی نے بحیرۂ احمر میں تعینات اپنے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی پیش رفت کے بعد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے ممکنہ مشن کی فوری ضرورت باقی نہیں رہی۔
جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق واپس بلائے جانے والے جہازوں میں ’فلڈا‘ نامی مائن ہنٹر اور ’موزیل‘ نامی سپورٹ شپ شامل ہیں۔ دونوں جہاز جون میں نہرِ سویز کے راستے بحیرۂ احمر پہنچے تھے اور اس وقت جبوتی میں تعینات تھے۔
ان جہازوں کے ساتھ تقریباً 140 اہلکار بھی موجود تھے، جن میں بارودی سرنگیں صاف کرنے والے غوطہ خور، خودکار زیرِ آب نظام کے ماہرین اور سکیورٹی ٹیمیں شامل تھیں۔
جرمن حکام کے مطابق ان بحری جہازوں کو اس خدشے کے پیش نظر تیار رکھا گیا تھا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں بچھاتا ہے تو انہیں فوری کارروائی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
جرمنی کے وزیر دفاع بورس پسٹوریئس پہلے ہی واضح کر چکے تھے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی فوجی مشن کا انحصار سیاسی اور سفارتی صورتحال کے ساتھ ساتھ ایران اور عمان سمیت علاقائی ممالک کی رضامندی پر ہوگا۔
وزارتِ دفاع نے کہا کہ یہ بحری مشن کسی جنگی کارروائی کا حصہ نہیں تھا بلکہ یورپی ممالک کی جانب سے عالمی بحری راستوں پر آزادانہ جہاز رانی کے تحفظ کی کوششوں کا حصہ تھا۔
اگرچہ یہ دونوں جہاز واپس بلائے جا رہے ہیں، تاہم جرمنی بدستور یورپی یونین کے آپریشن اسپائیڈیز میں شامل رہے گا، جس کا مقصد بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو یمن کے حوثی گروپ کے حملوں سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔
اس کے علاوہ جرمنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ لبنان کے ساحل پر اقوام متحدہ کے امن مشن یونیفل میں اپنی بحری شمولیت بھی 2026 کے اختتام تک برقرار رکھے گا۔
جرمن حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ فوری خطرات میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سکیورٹی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔ ان کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھتی ہے تو آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں عالمی جہاز رانی ایک مرتبہ پھر متاثر ہو سکتی ہے۔