امریکی دباؤ رنگ لے آیا، مودی نے ٹرمپ کے آگے ہتھیار ڈال دیے
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
نئی دہلی / واشنگٹن: امریکی دباؤ اور بھاری ٹیرف کے بعد بھارت نے آخرکار روس سے تیل کی خریداری روکنے کی یقین دہانی امریکا کو کرادی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اوول آفس میں میڈیا سے گفتگو کے دوران انکشاف کیا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے انہیں روس سے تیل نہ خریدنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ بھارت کی روسی تیل خریدنے کی پالیسی سے خوش نہیں تھے، لیکن اب یہ معاملہ حل ہوگیا ہے۔ ان کے مطابق بھارت فوری طور پر روس سے تیل کی درآمد بند نہیں کرسکتا، تاہم جلد ایسا کر دے گا۔
یاد رہے کہ امریکا نے روسی تیل کے سودوں پر بھارت پر 50 فیصد ٹیرف عائد کر رکھا ہے۔ اس اقدام کے بعد بھارتی معیشت پر دباؤ بڑھ گیا جس کے باعث مودی حکومت کو امریکی شرائط ماننا پڑیں۔
صدر ٹرمپ نے بھارت کو ’’غیر منصفانہ تجارتی شراکت دار‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ نئی دہلی روس سے سستا تیل خرید کر اسے دوبارہ فروخت کرتی ہے، جس سے یوکرین جنگ کو بالواسطہ طور پر ایندھن فراہم ہورہا ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر خاموش نہیں رہے گا، اور بھارت کو عالمی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
اس سے قبل امریکی صدر نے بھارت پر مزید 25 فیصد اضافی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد مجموعی ٹیرف 50 فیصد تک جا پہنچا۔
ٹرمپ نے امریکی ٹیک کمپنی ایپل سے بھی مطالبہ کیا تھا کہ وہ بھارت میں آئی فونز کی تیاری بند کرے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔