بھاری ٹیرف کے بعد بھارت گھٹنے ٹیکنے پر مجبور، امریکاکو روس سے تیل نہ خریدنےکی یقین دہانی کرادی
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مودی حکومت پر امریکی ٹیرف کا دباؤ بھاری پڑ گیا، بھارت نے بالآخر ٹرمپ انتظامیہ کے سامنے جھکنے پر مجبور ہو کر روس سے تیل نہ خریدنے کی یقین دہانی کرا دی۔
اوول آفس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے انہیں روسی تیل کی خریداری نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ بھارت کی جانب سے روس سے تیل لینے پر خوش نہیں تھے، لیکن اب یہ مسئلہ حل ہو چکا ہے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ بھارت فوری طور پر روسی تیل کی خریداری روکنے کے قابل نہیں، مگر جلد ہی یہ سلسلہ بند کر دیا جائے گا۔
یاد رہے کہ امریکا نے روس سے تیل کی خریداری پر بھارت پر 50 فیصد ٹیرف عائد کیا تھا، جس کے بعد بھارت کو دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ بھارت اچھا تجارتی شراکت دار ثابت نہیں ہوا، کیونکہ وہ روس سے تیل خرید کر یوکرین میں جنگی مشین کو ایندھن فراہم کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت نہ صرف بڑی مقدار میں روسی تیل خرید رہا ہے بلکہ اُسے آگے بیچ کر منافع بھی کما رہا ہے۔
ٹرمپ نے بھارت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ یوکرین میں روسی فوج کے ہاتھوں کتنے لوگ مارے جا رہے ہیں۔
اس کے علاوہ، امریکی صدر نے ٹیکنالوجی کمپنی ایپل سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت میں آئی فونز کی پیداوار بند کرے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: روس سے تیل کہ بھارت
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔