Jasarat News:
2026-06-03@05:19:28 GMT

گورکھ دھندہ

اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251016-03-7
سید اقبال ہاشمی
حکومت کی جانب سے پاکستان کی معاشی ترقی کے بلند و بانگ دعووں کے باوجود زمینی حقائق یکسر مختلف تصویر دکھا رہے ہیں۔ پچھلے چار سال معیشت کی کارکردگی کے اعتبار سے بدترین سال ثابت ہوئے ہیں۔ ایک جانب حکومت کوئی معاشی حکمت عملی مرتب کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے تو دوسری جانب ماحولیاتی تبدیلیوں، سیلاب اور حکومت کی بد انتظامی کی وجہ سے حالات مزید ابتری کا شکار نظر آ رہے ہیں۔ حکومت کے اعدادو شمار کو بین الاقوامی ادارے برملا جھوٹ کا پلندہ قرار دے رہے ہیں۔ آئی ایم ایف کے مقرر کردہ اہداف کے حصول میں ناکامی خود آئی ایم ایف کی جانب سے ہدف تنقید بنا ہوا ہے۔ آئی ایم ایف کا اصرار ہے کہ گورننس کے معاملات میں بہتری لائی جائے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ سیاست دان اور سرکاری ملازمین بشمول فوجی افسران اپنے اثاثے پبلک کریں۔ ساتھ ساتھ نج کاری کے عمل میں سستی بھی بین الاقوامی اداروں کے نزدیک قابل تشویش امر ہے۔ حکومت پر بیوروکریسی اور سرکاری اداروں کو کم کرنے کے لیے بھی دباؤ ہے لیکن اندرونی اسٹیک ہولڈرز اس راہ میں دیوار بنے ہوئے ہیں۔ بین الاقوامی ادارے چھوٹے صوبے بنانے اور صوبائی بجٹ کم کرنے کے لیے بھی دباؤ ڈال رہے ہیں لیکن چھوٹے صوبے بنانا سیاست دانوں کے مفاد میں نہیں ہے۔ حکومت کی تحویل میں چلنے والے سرکاری اداروں کو ہر سال بجٹ سے براہ راست چھے سو ارب روپے اپنے پاؤں پر کھڑا رہنے کے لیے ادا کیے جاتے ہیں اور ظاہر ہے کہ یہ کوئی عقل مندی کا سودا نہیں ہے۔ وہ اقدام جو کوئی دور اندیش حکومت کو خود اٹھانے چاہئیں وہ بھی آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے ڈائریکٹرز ہماری حکومت کو سجھاتے، سکھاتے اور سمجھاتے ہیں۔ پھر بھی یہ نہ سیکھنا چاہتے ہیں۔ سمجھنا چاہتے ہیں اور نہ عمل پیرا ہونا چاہتے ہیں۔

آئی ایم ایف کا بے لچک موقف حکومت کے لیے دردِ سر کا باعث تو ہے ہی ساتھ میں یہ پریشانی بھی ہے کہ اگر شرائط پوری نہ کی گئیں تو ہرجہ و خرچہ کیسے پورے کیے جائیں گے؟ پاکستان کے سرکاری اعدادو شمار پر تسلسل کے ساتھ شک و شبہے کا اظہار باعث شرم و ندامت ہے۔ بہت سے سرکاری ادارے حکومتی امداد کے باوجود براہ راست قرضے بھی لیتے ہیں جو کہ درحقیقت حکومت کا بجٹ خسارہ ہے۔ گردشی قرضہ جو کہ پچھلے سال انتیس سو ارب پر پہنچا ہوا تھا اسے قرض لے کر سترہ سو ارب پر پہنچا کر حکومت نے اداروں کو تو ادائیگی کر دی ہے لیکن قرض کا بوجھ اپنے سر پر لے لیا ہے۔ بارہ سو ارب روپے کا پہاڑ کھڑا کر کے حکومت پاکستان نے سعودی عرب کے لیے پانچ سو ارب روپے میں کے الیکٹرک کو خریدنے کی راہ ہموار کی ہے۔ اب اگر حکومت شادیانے بجائے کہ وہ سعودی سرمایہ کاری ملک میں لے کر آئے ہیں تو اس پر کوئی سنجیدہ آدمی ہنسے گا یا روئے گا؟ آئی ایم ایف نے پچھلے دو سال بشمول موجودہ سال کے پاکستان کے گیارہ ارب ڈالر کے تجارتی خسارے پر بھی سوالات اٹھائے ہیں کیونکہ پاکستان ریونیو آٹومیشن اور پاکستان سنگل ونڈو آپریشن کے اعدادو شمار آپس میں مطابقت نہیں رکھتے ہیں۔ پاکستان کی درآمدات کو برآمدات کے مقابلے میں کم ظاہر کیا گیا ہے جس سے تجارتی خسارہ کم نظر آتا ہے۔ یہ اعداد اگر صحیح کیے گئے تو پچھلے دو سال کی جی ڈی پی کم ہوکر منفی میں چلی جائے گی اور اس سے پچھلے سال یہ شرح منفی ہی تھی۔ حکومت کے فراہم کردہ افراط زر اور کنزیومر پرائس انڈیکس پر بھی آئی ایم ایف نے عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ چائنا کا قرض اور اس پر سود کی ادائیگی کے اعداد بھی واضع طور پر سامنے نہیں آتے ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق چائنا کا قرض آئی ایم ایف سے لیے گئے قرضے سے بھی زیادہ ہے۔ پچھلے چار سال میں حکومت نے بمشکل ڈھائی فی صد سالانہ کی شرح نمو کا دعویٰ کیا ہے جو کہ درست اعدادو شمار کی بنیاد پر منفی میں چلا جائے گا۔

افراط زر کی شرح بھی حکومت کے دعوؤں سے کہیں زیادہ ہے۔ اس بات کو تقویت یوں بھی ملتی ہے کہ حکومت شرح سود میں کمی سے مسلسل انکاری ہے اور اگر شرح سود میں کمی نہ کی گئی تو ملک میں معاشی ترقی کیوں کر ممکن ہوگی؟ حکومت کا اصرار ساڑھے چھے فی صد بیروزگاری کی شرح پر ہے لیکن بہت سے معیشت دان اس بات سے متفق ہیں کہ یہ بارہ فی صد سے کم کسی صورت میں نہیں ہے۔ پچھلے تین سال میں پاکستانیوں کے بیرون ملک منتقل ہونے کے رجحان میں غیر معمولی اضافہ اس بات کو مزید تقویت دیتی ہے۔ اس وقت پاکستان کے لیے بیرون ملک مقیم پاکستانی باعث رحمت ہیں جو کہ روزانہ چالیس ارب روپے پاکستان منتقل کرتے ہیں۔ اگر یہ رقم پاکستان نہ آئے تو ایک چوتھائی آبادی فاقے سے مر جائے۔ مزید برآں یہ کہ اس سال کے سیلاب کے بعد پاکستان کی آدھی آبادی خط غربت کے نیچے چلی گئی ہے۔ پاکستان میں روزگار کے ذرائع بمشکل ایک چوتھائی آبادی کے لیے کافی ہیں۔ ابن الوقت سیاست دانوں، نااہل بیوروکریسی اور خود غرض اشرافیہ نے پاکستان کو اس حال میں پہنچا دیا ہے کہ کوئی امید بر نہیں آتی ہے۔ کوئی صورت نظر نہیں آتی ہے اور بہتری کی کوئی صورت نظر نہیں آتی ہے۔

پاکستان کی ہندوستان پر حالیہ جنگ میں فتح کے بعد بین الاقوامی برادری کے مثبت ردعمل سے ایک امید ہو چلی تھی کہ پاکستان میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا اور عوام کے لیے خوشحالی آئے گی لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شد۔ یہ سنہری موقع بھی ہمارے وزیر اعظم اور ان کے متعلقین کی نشستند، گفتند، برخاستند کی نذر ہو گیا۔ ہواؤں میں اُڑنے سے زمینی حقائق تبدیل نہیں ہوتے ہیں۔ ہمارا فوکس بیرونی معاملات پر اس قدر زیادہ ہوگیا ہے کہ اندرون ملک کیا ہو رہا ہے یہ دیکھنے کی کسی کو فرصت ہی نہیں ہے۔ معاہدوں کے بعد ان پر عمل درآمد ہو بھی رہا ہے یا نہیں اس کی کسی کو فکر ہی نہیں ہے۔ دستخط کی تقریب ہوگئی۔ میڈیا میں ہلہ گلہ ہو گیا۔ اللہ اللہ خیر صلا۔ جب ٹیلی ویژن پر خبریں دیکھو ملک میں چاروں طرف جنگی حالات اور صوبوں میں ابتری نظر آتی ہے۔ اس صورتحال میں کتنے ہی معاہدوں پر دستخط کیوں نہ کر لیے جائیں کوئی سرمایہ کاری ملک میں نہ آ سکتی ہے اور نہ آئے گی۔ حالات تو اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ مقامی سرمایہ کار بھی ہاتھ کھینچ رہے ہیں تو بیرون ملک سے اس ملک میں سرمایہ لگانے کون آئے گا؟

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بین الاقوامی ا ئی ایم ایف پاکستان کی حکومت کے ارب روپے نہیں ہے رہے ہیں ملک میں ا تی ہے نہیں ا ئے ہیں کے لیے

پڑھیں:

جنگ امن اور معیشت کی کہانی

پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔

دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔

علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔

کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔

بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔

کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔

لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔

بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔

اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم