اسرائیلی انٹیلی جنس نے امریکا کو بتایا ہے کہ حماس کے پاس مزید یرغمالیوں کی لاشیں موجود ہیں۔

امریکی میڈیا نے 2 اسرائیلی اور ایک امریکی عہدے دار کےحوالے سے دعویٰ کیا کہ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ حماس کی جانب سے لاشوں کی بازیابی کے لیےخاطر خواہ اقدامات نہیں کئے جارہے۔

امریکی میڈیا نے اسرائیلی حکام کے حوالے سے بتایا کہ لاشوں کی بازیابی کے بغیر غزہ معاہدہ اگلے مرحلے میں نہیں جاسکتا۔

دوسری جانب حماس نے غزہ امن معاہدے کے تحت مزید دو اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشیں اسرائیل کے حوالے کردیں۔

حماس کا کہنا ہے کہ ان اسرائیلی مغویوں کی لاشیں حوالے کی ہیں جنھیں تلاش کرسکتے تھے۔ باقی مغویوں کی لاشیں تلاش کرنے کےلیے خصوصی آلات کی ضرورت ہے۔

.

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کی لاشیں

پڑھیں:

فلسطینی نژاد امریکی بچے محمد ابراہیم کو 9 ماہ بعد اسرائیلی جیل سے رہائی مل گئی

یہ کیس مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے ساتھ اسرائیلی حکومت کے امتیازی سلوک کی بھیانک داستان بن کر سامنے آیا ہے۔

الجزیرہ کے مطابق 15 سالہ محمد ابراہیم کو رواں برس فروری میں گرفتار کیا گیا تھا اور انھوں نے اپنی 16 ویں سال گرہ قید تنہائی میں اسرائیلی مظالم سہتے ہوئے منائی۔

امریکی قانون سازوں اور شہری حقوق کی تنظیموں کے کئی ماہ سے جاری مسلسل دباؤ کے نتیجے میں اسرائیل آج معصوم بچے کو رہا کرنے پر مجبور ہوا۔

محمد ابراہیم فلسطین میں پیدا ہوا تھا اور والدین کے ہمراہ امریکی ریاست فلوریڈا منتقل ہوا تھا۔ وہ اپنے دیگر رشتے داروں سے ملنے آبائی قصبے المزعرہ الشرقیہ آیا تھا۔

جہاں سے اُسے رواں برس فروری میں آنکھوں میں پٹی باندھ کر والدین کے سامنے جبری طور پر گرفتار کیا گیا تھا۔

محمد ابراہیم کے والدین نے بتایا کہ اسرائیلی فوجیوں نے چھاپے کے دوران اُسے بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا۔

حراست کے دوران بھی 15 سالہ بچے کو ذہنی اور جسمانی اذیتیں دی گئیں جس کے نتیجے میں اس کا وزن خطرناک حد تک کم ہوا۔

محمد ابراہیم نقاہت اور کمزوری کے ساتھ ساتھ جلد کے انفیکشن میں مبتلا ہوگیا تھا اور پھول جیسا بچہ مرجھا کر رہ گیا تھا۔

اس دوران محمد ابراہیم کو اپنے گھر والوں سے رابطے یا ملاقات کی اجازت بھی نہیں دی گئی تھی البتہ امریکی حکام وقتاً فوقتاً والدین کو ابراہیم کی خیریت سے آگاہ کرتے رہتے تھے۔

اہلخانہ کو صرف امریکی حکام کے ذریعے اس کی حالت کے بارے میں معلومات ملتی تھیں۔

اسرائیلی حکام نے گرفتاری کے بعد سامنے آنے والے دباؤ پر یہ کمزور مؤقف اپنایا کہ محمد ابراہیم نے یہودی آباد کاروں پر پتھر پھینکے تھے۔

فلسطینی بچے نے اسرائیلی فوج کے ان الزامات کو جھوٹا قرار دیا تھا۔ اسرائیلی پولیس بھی اس واقعے میں کسی ایک بھی شخص کے زخمی ہونے کا ثبوت پیش نہیں کرسکی تھی۔

اس کے باوجود اسرائیلی فوج نے روایتی ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے امریکی دباؤ پر بھی محمد ابراہیم کو رہا کرنے میں جان بوجھ کر تاخیر سے کام لیا۔

یہاں جیل  میں 16 سالہ فلسطینی نژاد امریکی بچے کی حالت دن بدن خراب ہوتی رہی اور جب یہ اطلاع منظر عام پر آنا شروع ہوئیں تو امریکا نے دباؤ میں اضافہ کردیا۔

گزشتہ ماہ 27 امریکی قانون سازوں نے خط لکھ کر ٹرمپ انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ اسرائیل سے محمد ابراہیم کی رہائی کی کوشش کرے۔

جس کے بعد صدر ٹرمپ کی مداخلت کام آئی اور اسرائیل محمد ابراہیم کو رہا کرنے پر مجبور ہوا۔ اپنے بچے کے بے چینی سے منتظر اہل خانہ نے سکھ کا سانس لیا۔

محمد ابراہیم کے والدین نے بتایا کہ یہ اعصاب شکن جنگ تھی۔ ہم اپنے بچے کی 16 ویں سالگرہ تاخیر سے منائیں گے اور والدہ اس کی پسندیدہ ڈش بنانے میں مصروف ہیں۔

فلسطینی خاندان نے محمد ابراہیم کی رہائی کے لیے تعاون کرنے والے ہر ایک شخص کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اب کوئی بھی والدین یا بچہ وہ مصیبت نہیں جھیلیں جو ہم نے برداشت کی ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • شرجیل میمن: لندن والے بانی نے کراچی کو بوری بند لاشوں اور بھتے کی پرچیوں کے سوا کچھ نہیں دیا
  • کوہستان مالیاتی سکینڈل، بینک ملازم کے اکائو نٹ میں 55 ملین کی ٹرانزیکشن کا انکشاف  
  • غزہ معاہدے کی مکمل پاسداری کی، اسلحہ حوالے کرنا قومی مذاکرات سے مشروط ہوگا: حماس
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل؛ بینک ملازم کے اکاؤنٹ میں 55 ملین کی ٹرانزیکشن کا انکشاف
  • غیر مسلح ہونے کا فیصلہ قومی مذاکرات سے ہوگا، اسرائیل غزہ معاہدے میں رکاوٹ ڈال رہا ہے، حماس
  • منشیات اسمگلنگ کے خلاف کریک ڈاؤن، 154.15 ملین امریکی ڈالر کی منشیات برآمد
  • فلسطینی نژاد امریکی بچے محمد ابراہیم کو 9 ماہ بعد اسرائیلی جیل سے رہائی مل گئی
  • سعودی ولی عہد کے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے انکار پر ٹرمپ ناراض، اسرائیلی میڈیا
  • سعودی ولی عہد کے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے انکار پر ٹرمپ ناراض؛ اسرائیلی میڈیا
  • MBS کا اسرائیل سے تعلقات بحالی سے انکار، ٹرمپ ناراض؛ اسرائیلی میڈیا