بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی (ICRC) کو بدھ کے روز حماس کے قبضے سے دو مزید اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشیں موصول ہوئیں، جنہیں اسرائیلی افواج کے حوالے کیا جائے گا۔

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب اسرائیلی فوج نے بتایا کہ پہلے موصول ہونے والی ایک لاش کسی یرغمالی کی نہیں تھی، جس سے جنگ بندی کے نازک معاہدے پر مزید دباؤ بڑھ گیا ہے۔

لاشوں کی حوالگی اور اسرائیلی دعویٰ

اسرائیلی فوج کے مطابق، ریڈ کراس نے 2 مزید لاشیں وصول کیں جو اب غزہ میں تعینات اسرائیلی فورسز کو منتقل کی جائیں گی۔

یہ بھی پڑھیں:منشیات فروشوں سے ضبط سونا غزہ کی تعمیر نو کے لیے بھیجا جائے گا، کولمبیا

بدھ کے روز قبل ازیں فوجی حکام نے انکشاف کیا تھا کہ حماس کی جانب سے پہلے فراہم کی گئی ایک لاش کسی گمشدہ اسرائیلی یرغمالی کی نہیں تھی۔

فلسطینی لاشوں کی واپسی اور بدسلوکی کے آثار

غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق بدھ کو اسرائیل کی جانب سے مزید 45 فلسطینیوں کی لاشیں واپس کی گئیں، جس کے بعد اب تک واپس کی گئی لاشوں کی مجموعی تعداد 90 ہو گئی ہے۔

فارنزک ٹیم کے مطابق کئی لاشوں پر بدسلوکی اور تشدد کے نشانات پائے گئے۔ بعض لاشیں ہتھکڑیوں اور رسیوں سے بندھی ہوئی حالت میں پہنچیں۔

خان یونس کے ناصر اسپتال میں لاشوں کو وصول کرنے والی کمیشن کے رکن سامح حماد نے بتایا کہ کئی لاشوں کے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے تھے، کچھ پر تشدد اور پھانسی کے آثار نمایاں تھے۔

یرغمالیوں اور قیدیوں کا تبادلہ

جنگ بندی کے تحت پیر اور منگل کو حماس نے مجموعی طور پر آٹھ اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشیں حوالے کیں، جبکہ اس سے قبل 20 زندہ یرغمالیوں کو بھی رہا کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:اسرائیل کی غزہ کے لیے امداد کی ترسیل میں کمی، رفح بارڈر بند رکھنے کا فیصلہ

اس کے بدلے اسرائیل نے تقریباً دو ہزار فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا۔

غزہ میں نامعلوم لاشوں کی شناخت میں دشواریاں

غزہ کی وزارتِ صحت نے بدھ کے روز 32 نامعلوم لاشوں کی تصاویر جاری کیں تاکہ خاندان اپنے لاپتا رشتہ داروں کو شناخت کر سکیں۔ زیادہ تر لاشیں بوسیدہ یا جلی ہوئی حالت میں تھیں، جبکہ کچھ کے اعضاء یا دانت غائب تھے۔

اسرائیلی پابندیوں کے باعث غزہ میں ڈی این اے ٹیسٹنگ کا سامان دستیاب نہیں، جس کی وجہ سے شناخت کے لیے کپڑوں یا ظاہری نشانات پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔

ہزاروں لاپتا، غزہ میں انسانی بحران جاری

وزارتِ صحت کے مطابق، جنگ میں اب تک تقریباً 68 ہزار فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ ہزاروں افراد تاحال لاپتا ہیں۔

ریڈ کراس اور فلسطینی اعداد و شمار کے مطابق، بہت سے افراد ملبے تلے یا اسرائیلی حراست میں ہونے کے خدشے میں شامل ہیں۔

نتن یاہو کا سخت مؤقف اور ٹرمپ کی وارننگ

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو نے بدھ کے روز واضح کیا کہ اسرائیل کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا اور حماس سے مطالبہ کیا کہ وہ جنگ بندی کے معاہدے کے تحت یرغمالیوں کی باقی لاشیں فوری طور پر واپس کرے۔

یہ بھی پڑھیں:غزہ کی تعمیر نو کے لیے 70 ارب ڈالر فنڈ، امریکا، عرب و یورپی ممالک کی مثبت یقین دہانیاں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سی این این کو دیے گئے انٹرویو میں خبردار کیا کہ اگر حماس نے معاہدے کی شرائط پوری نہ کیں تو اسرائیل دوبارہ جنگ شروع کر سکتا ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ جیسے ہی میں اشارہ دوں گا، اسرائیل دوبارہ کارروائی شروع کرے گا۔

حماس کا مؤقف اور زمینی مشکلات

حماس کے عسکری ونگ نے ایک بیان میں کہا کہ تنظیم نے جنگ بندی معاہدے کی تمام شرائط پوری کی ہیں اور جن یرغمالیوں کی لاشیں دستیاب تھیں، وہ ریڈ کراس کے حوالے کر دی گئی ہیں۔

حماس اور ریڈ کراس کے مطابق کئی لاشوں کی بازیابی ممکن نہیں کیونکہ وہ ان علاقوں میں ہیں جو اس وقت اسرائیلی فوج کے قبضے میں ہیں۔

تدفین اور سوگ

غزہ سے منتقل ہونے والے 2 اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشوں کی بدھ کے روز تدفین کی گئی، جبکہ درجنوں فلسطینی خاندان ناصر اسپتال کے باہر اپنے لاپتا پیاروں کی تلاش میں منتظر رہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل حماس ریڈکراس صدر ٹرمپ غزہ قیدی یرغمالی.

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیل ریڈکراس یرغمالی یرغمالیوں کی بدھ کے روز کے مطابق لاشوں کی ریڈ کراس کی لاشیں کی گئی کے لیے غزہ کی

پڑھیں:

اسرائیل، رفح بحران کے حل کیلئے ثالثوں کو جواب نہیں دے رہا، حماس

غزہ پٹی کے جنوبی شہر رفح میں واقع سرنگوں میں حماس کے مزاحمتکار اسرائیل سے مقابلہ جاری رکھے ہوئے ہیں کیونکہ ان کا اس علاقے سے باہر اور کمانڈ سنٹر سے رابطہ منقطع ہو چکا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ فلسطین کی مقاومتی تحریک حماس کے ترجمان "حازم قاسم" نے اسرائیل پر تنقید کی کہ وہ جنوبی غزہ کے مزاحمتی کارکنوں کے معاملے میں تعاون نہیں کرنے رہا۔ اس بارے میں انہوں نے کہا اسرائیل نے رفح میں پیدا کردہ بحران کو حل کرنے کے لئے ثالثوں کی کسی بھی بات کا جواب نہیں دیا۔ حازم قاسم نے کہا کہ غاصب صیہونی رژیم کو رفح میں استقامت کاروں کی جانب سے ہتھیار ڈالنے کی کوئی تصویر بھی نہیں ملے گی۔ انہوں نے فلسطینی مزاحمت کے جذبے کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہماری ڈکشنری میں ہتھیار ڈالنا یا خود کو غاصب رژیم کے حوالے کرنا نہیں ہے۔
  کہا جا رہا ہے کہ غزہ پٹی کے جنوبی شہر رفح میں واقع سرنگوں میں حماس کے مزاحمت کار اسرائیل سے مقابلہ جاری رکھے ہوئے ہیں کیونکہ ان کا اس علاقے سے باہر اور کمانڈ سنٹر سے رابطہ منقطع ہو چکا ہے۔ اس لئے ان تک استقامتی محاذ کے تازہ ترین آرڈر نہیں پہنچ رہے۔ دوسری جانب چونکہ یہ علاقے جنگ بندی کے معاہدے (زرد خطے) سے باہر واقع ہیں، اس لیے صیہونی رژیم نے جنگ بندی نافذ ہونے کے باوجود مجاہدین کے خلاف فضائی اور زمینی حملے بند نہیں کئے۔ رفح میں ہونے والی جھڑپوں کے باعث صیہونی فوجیوں کو شدید نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ اسی بات کو جواز بنا کر اسرائیل، غزہ کے خلاف جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنی کارروائیوں کو جاری رکھے ہوئے ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فلسطینیوں پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف لندن میں مظاہرہ
  • فلسطینیوں پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف لندن میں احتجاجی مظاہرہ
  • اسرائیل، رفح بحران کے حل کیلئے ثالثوں کو جواب نہیں دے رہا، حماس
  • اسرائیل کا حماس کی سرنگوں میں اب تک 30 فلسطینیوں کو شہید کرنیکا دعویٰ
  • پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج یومِ یکجہتی فلسطین منایا جا رہا ہے
  • اسرائیل کا حماس کی سرنگوں میں اب تک 30 فلسطینیوں کو شہید کرنے کا دعویٰ
  • اسرائیلی فوجیوں کا گرفتاری دینے والے 2 فلسطینیوں کو قتل کرنے کا واقعہ، ویڈیو منظرعام پر آگئی
  • اسرائیلی فوج نے سفاکیت کی انتہا کردی؛ 2نہتے فلسطینیوں کو بھون ڈالا، وڈیو وائرل
  • غزہ؛ فلسطینیوں کی  نسل کشی میں اسرائیل بھارت گٹھ جوڑ بے نقاب، تجارتی معاہدے سامنے آگئے
  • غیر مسلح ہونے کا فیصلہ قومی مذاکرات سے ہوگا، اسرائیل غزہ معاہدے میں رکاوٹ ڈال رہا ہے، حماس