قیدیوں اور یرغمالیوں کا تبادلہ، حماس کا اسرائیل پر فلسطینیوں کی نعشیں مسخ کرنے کا الزام
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی (ICRC) کو بدھ کے روز حماس کے قبضے سے دو مزید اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشیں موصول ہوئیں، جنہیں اسرائیلی افواج کے حوالے کیا جائے گا۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب اسرائیلی فوج نے بتایا کہ پہلے موصول ہونے والی ایک لاش کسی یرغمالی کی نہیں تھی، جس سے جنگ بندی کے نازک معاہدے پر مزید دباؤ بڑھ گیا ہے۔
لاشوں کی حوالگی اور اسرائیلی دعویٰاسرائیلی فوج کے مطابق، ریڈ کراس نے 2 مزید لاشیں وصول کیں جو اب غزہ میں تعینات اسرائیلی فورسز کو منتقل کی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں:منشیات فروشوں سے ضبط سونا غزہ کی تعمیر نو کے لیے بھیجا جائے گا، کولمبیا
بدھ کے روز قبل ازیں فوجی حکام نے انکشاف کیا تھا کہ حماس کی جانب سے پہلے فراہم کی گئی ایک لاش کسی گمشدہ اسرائیلی یرغمالی کی نہیں تھی۔
فلسطینی لاشوں کی واپسی اور بدسلوکی کے آثارغزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق بدھ کو اسرائیل کی جانب سے مزید 45 فلسطینیوں کی لاشیں واپس کی گئیں، جس کے بعد اب تک واپس کی گئی لاشوں کی مجموعی تعداد 90 ہو گئی ہے۔
فارنزک ٹیم کے مطابق کئی لاشوں پر بدسلوکی اور تشدد کے نشانات پائے گئے۔ بعض لاشیں ہتھکڑیوں اور رسیوں سے بندھی ہوئی حالت میں پہنچیں۔
خان یونس کے ناصر اسپتال میں لاشوں کو وصول کرنے والی کمیشن کے رکن سامح حماد نے بتایا کہ کئی لاشوں کے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے تھے، کچھ پر تشدد اور پھانسی کے آثار نمایاں تھے۔
یرغمالیوں اور قیدیوں کا تبادلہجنگ بندی کے تحت پیر اور منگل کو حماس نے مجموعی طور پر آٹھ اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشیں حوالے کیں، جبکہ اس سے قبل 20 زندہ یرغمالیوں کو بھی رہا کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:اسرائیل کی غزہ کے لیے امداد کی ترسیل میں کمی، رفح بارڈر بند رکھنے کا فیصلہ
اس کے بدلے اسرائیل نے تقریباً دو ہزار فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا۔
غزہ میں نامعلوم لاشوں کی شناخت میں دشواریاںغزہ کی وزارتِ صحت نے بدھ کے روز 32 نامعلوم لاشوں کی تصاویر جاری کیں تاکہ خاندان اپنے لاپتا رشتہ داروں کو شناخت کر سکیں۔ زیادہ تر لاشیں بوسیدہ یا جلی ہوئی حالت میں تھیں، جبکہ کچھ کے اعضاء یا دانت غائب تھے۔
اسرائیلی پابندیوں کے باعث غزہ میں ڈی این اے ٹیسٹنگ کا سامان دستیاب نہیں، جس کی وجہ سے شناخت کے لیے کپڑوں یا ظاہری نشانات پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔
ہزاروں لاپتا، غزہ میں انسانی بحران جاریوزارتِ صحت کے مطابق، جنگ میں اب تک تقریباً 68 ہزار فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ ہزاروں افراد تاحال لاپتا ہیں۔
ریڈ کراس اور فلسطینی اعداد و شمار کے مطابق، بہت سے افراد ملبے تلے یا اسرائیلی حراست میں ہونے کے خدشے میں شامل ہیں۔
نتن یاہو کا سخت مؤقف اور ٹرمپ کی وارننگاسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو نے بدھ کے روز واضح کیا کہ اسرائیل کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا اور حماس سے مطالبہ کیا کہ وہ جنگ بندی کے معاہدے کے تحت یرغمالیوں کی باقی لاشیں فوری طور پر واپس کرے۔
یہ بھی پڑھیں:غزہ کی تعمیر نو کے لیے 70 ارب ڈالر فنڈ، امریکا، عرب و یورپی ممالک کی مثبت یقین دہانیاں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سی این این کو دیے گئے انٹرویو میں خبردار کیا کہ اگر حماس نے معاہدے کی شرائط پوری نہ کیں تو اسرائیل دوبارہ جنگ شروع کر سکتا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ جیسے ہی میں اشارہ دوں گا، اسرائیل دوبارہ کارروائی شروع کرے گا۔
حماس کا مؤقف اور زمینی مشکلاتحماس کے عسکری ونگ نے ایک بیان میں کہا کہ تنظیم نے جنگ بندی معاہدے کی تمام شرائط پوری کی ہیں اور جن یرغمالیوں کی لاشیں دستیاب تھیں، وہ ریڈ کراس کے حوالے کر دی گئی ہیں۔
حماس اور ریڈ کراس کے مطابق کئی لاشوں کی بازیابی ممکن نہیں کیونکہ وہ ان علاقوں میں ہیں جو اس وقت اسرائیلی فوج کے قبضے میں ہیں۔
تدفین اور سوگغزہ سے منتقل ہونے والے 2 اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشوں کی بدھ کے روز تدفین کی گئی، جبکہ درجنوں فلسطینی خاندان ناصر اسپتال کے باہر اپنے لاپتا پیاروں کی تلاش میں منتظر رہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل حماس ریڈکراس صدر ٹرمپ غزہ قیدی یرغمالی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل ریڈکراس یرغمالی یرغمالیوں کی بدھ کے روز کے مطابق لاشوں کی ریڈ کراس کی لاشیں کی گئی کے لیے غزہ کی
پڑھیں:
اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
اٹلی(نیوز ڈیسک)اطالوی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اٹلی میں پولیس نے دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے جو ایک جلی ہوئی منی وین میں مردہ پائے گئے تھے۔
گاڑی جنوبی کلابریا کے علاقے میں ایک وسیع کھیتی کے علاقے میں ایک گاؤں کے قریب ایک پٹرول اسٹیشن سے ملی۔
سی سی ٹی وی امیجز میں دیکھا گیا کہ دو افراد وین کے دروازے باہر سے روک رہے ہیں اور آگ لگانے کے لیے اندر مائع پھینک رہے ہیں۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اس علاقے میں حالیہ مہینوں میں پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو نذر آتش کرنے کے 14 واقعات ہوئے ہیں، جہاں فارم کے کام اور رہائش کی تقسیم پر تارکین وطن کے درمیان تناؤ پایا جاتا ہے۔
فائر فائٹرز کو منگل کو مقامی وقت کے مطابق تقریباً 13:00 بجے (11:00 GMT) جلتی ہوئی وین کے مقام پر بلایا گیا۔
شعلوں کو بجھانے کے بعد انہوں نے اندر سے چار جلی ہوئی لاشوں کی بھیانک دریافت کی۔
دونوں مشتبہ افراد کو بعد میں سی سی ٹی وی فوٹیج کے شواہد کی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا۔
اطالوی میڈیا کا کہنا ہے کہ افغانستان سے تعلق رکھنے والا پانچواں شخص حملے میں بچ گیا ہے۔ ان کے حوالے سے بتایا گیا کہ ہلاک ہونے والوں میں تین افغان اور ایک پاکستانی شامل ہے، جو تمام زراعت کا کام کرتے تھے۔
زندہ بچ جانے والے شخص نے اطالوی میڈیا کو بتایا کہ وہ ایک کھڑکی توڑ کر جلتی ہوئی کار سے بچ نکلا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ دونوں گرفتار افراد کی جانب سے گاڑی میں سوار افراد سے ٹرانسپورٹیشن کی رقم کا مطالبہ کرنے کے بعد تنازعہ پیدا ہوا تھا، جسے انہوں نے دینے سے انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ مزدوروں کو علاقے کے اسٹرابیری کے کھیتوں میں ان کے کام کی ادائیگی نہیں کی گئی، حالانکہ انہیں کھانا اور رہائش فراہم کی گئی تھی۔
ان ہلاکتوں نے اٹلی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ کلابریا کے علاقائی صدر، روبرٹو اوچیوٹو نے کہا کہ حملے کی خبر “انسانیت پر یقین کو متزلزل کرتی ہے”، اور مزید کہا کہ یہ “غیر انسانی” ہے۔
اس دوران CGIL یونین کے حوالے سے اٹلی کی انسا نیوز ایجنسی نے “ہمارے دیہی علاقوں میں مزدوروں، اکثر تارکین وطن کی طرف سے برداشت کی جانے والی روزمرہ کی زندگی کی گھناؤنی حرکتوں کا مقابلہ کرنے” کے لیے کارروائی کا مطالبہ کیا۔